مراسلہ نگار: ڈاکٹر افتخار احمد،
مالیگاؤں (ناسک)
بٹیاگم، سارا گھر گم صُم
بیٹی یا بیٹا جب اسکول سے آنے میں لیٹ ہوتے ہیں ماں فکرمند ہوجاتی ہے۔ باپ سے کہتی ہے ’’فون لگاکر دیکھئے تو کیا ابھی تک اسکول چھوٹا نہیں؟‘‘ باپ ہنستے ہوئے کہتا ہے ’’بیگم آپ تو خوامخواہ پریشان ہو رہی ہیں آج کسی وجہ سے تھوڑی دیر ہوگئی تو کوئی وجہ ہوگی۔‘‘مگر خود اخبار کے پیچھے سے کنکھیوں سے دروازے کو تکتا رہتا ہے۔ دونوں کے دلوں میں سو اندیشے اٹھتے ہیں۔ انہیں ٹی وی اور اخبارات کی خبریں یاد آنے لگتی ہیں۔ پھر خود ہی اپنے آپ سے جھٹلاتے ہیں۔ اب زمانہ اتنا بھی بُرا نہیں ہوا ہے کہ دن دہاڑے بچوں کا اغواء ہو۔ اخبار ٹی وی والوں کو بس سنسنی پھیلانی آتی ہے۔
اور جو کبھی ان کے پیارے پوری رات نہیں آتے اُس رات بستر پر انتظار کے سلگتے کوئلے بچھ جاتے ہیں۔ دل بیٹھا جاتا ہے۔ ماں باپ ایک دوسرے کو تکتے رہتے ہیں۔ ماں کے آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔ باپ اب کیسے رو سکتا ہے ہزار اندیشوں سے اس کے آنسو سوکھ جاتے ہیں۔ دھڑکن دل کو پھاڑ کر باہر آنا چاہتی ہے۔ ’میرا لال کہاں ہوگا؟ بیٹی اکیلی اس رات میں کہاں ہے؟ سہیلی کے گھر رُکی تو فون تو کردینا تھا۔‘ رات دیر گئے تک رشتے داروں، دوستوں، سہیلیوں کے گھر بار بار فون لگا لگاکر نڈھال ہوجاتے ہیں۔
صبح باپ ڈر گھبراہٹ اور شرم کے مارے گھر سے باہر نکلنے سے ڈرتا ہے۔ ہمت کرکے پولیس میں رپورٹ لکھانے جاتا ہے تو جواب ملتا ہے’ ’ابھی رپورٹ نہیں لکھیں گے، دو چار دن اچھی طرح تلاش و انتظار کرلو۔‘‘ ماں باپ سوچتے ہیں’ کاش !پولیس ابھی جیپ لے کر نکل جاتی تو بچے مل جاتے! کل کو دیر نہ ہوجائے! مگر عام آدمی کا پولیس پر کیا بس۔
سارا گھر اُداس وسوگ میں ڈوبا ہوا۔ پڑوسیوں کے سوال پر کیا کہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ان کی ہمدردیوں اور مشوروں کی اذیت سے جان ہلکان ہوجاتی ہے۔ ماں ہر وقت دو روٹی زیادہ ڈالتی ہے۔ کب دل کا ٹکڑا نور نظر آجائے اُسے بھوک نہ لگی ہوگی۔ باپ رات کو دروازہ لاک نہیں کرتا، بند دروازہ دیکھ کر بچی کہیں بھٹک نہ جائے۔
مہاراشٹر میںروزآنہ 105؍خواتین اور بچے کھو جاتے ہیں۔ انقلاب مورخہ 13؍جنوری 2021ء بروز بدھ۔ایک خاندان میں اوسطاً 6؍لوگ ہوتے ہیں۔ ایک کے کھونے سے پانچ کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ 105؍ افراد کے کھونے کا مطلب ہے قریب سوا پانچ سو افراد روزآنہ صرف مہاراشٹر میں سوگوار ہوتے ہیں۔ 365؍ دن میں 38؍ ہزار 3؍سو 25کھوئے ہوؤں کے لیے 1؍لاکھ 91؍ہزار 6؍سو 25یعنی تقریباً 2؍لاکھ۔ ایک چھوٹی سی خبر نے کیا قیامت ڈھائی ہے ، اُف! میں کتنا اُداس اور برہم ہوں!!



