
آخری میسیج کے بعد
زندگی کی دوڑ میں کچھ لوگ ایسے بھی مل جاتے ہیں جن سے بہت قریبی کوئی رشتہ تو نہیں ہوتا، جن کے ساتھ بچپن کے حسین پل تو نہیں گزرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان سے مل کر، ان سے باتیں کر کے، ان کے ساتھ وقت گزار کر اچھا لگتا ہے، دل کو سکون ملتا ہے، اپنا ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے اور ساتھ رہتے ہوئے دھیرے دھیرے ایک دوسرے پہ اتنا اعتماد ویقین ہوجاتا ہے کہ دونوں میں کسی کی جانب سے ہونے والی ہلکی سی غفلت بھی بہت تکلیف دے جاتی ہے کیونکہ زندگی کی یہ بہت بڑی تلخ حقیقت ہے کہ رشتوں میں ضرورت سے زیادہ کسی پہ اعتبار قدم قدم پہ انسان کو دُکھی کرتا ہے ۔
شکیل اور غفران دونوں باضابطہ بچپن کے ساتھی تو نہیں تھے لیکن شوق وذوق کی یکسانیت، ایک ہی طرح کے خوابوں کو کلیجے میں سنجوئے زندگی کی سانس لینے کے سبب وہ ایک دوسرے سے بہت قریب ہوگئے تھے، دونوں میں کسی کے بھی ذہن میں کوئی نیا خیال دستک دیتا، یا دل میں کوئی فکر جنم لیتی تو وہ ایک دوسرے سے شیئر کیے بغیر نہیں رہتے، مسلسل محنت اور کوشش کے سبب دونوں اپنی اپنی دنیا میں سرگرم تھے، جس کا ریزلٹ بھی بہتر دکھائی دے رہا تھا، ہر صبح کامیابی کی نئی کرنیں ان کے جذبوں کی پیشانی چوم کر گزر جاتیں جن سے ان کے چہرے پہ شگفتگی اور دل میں امنگوں کی ایک نئی لہڑ دوڑ جاتی۔
یوں تو دونوں زندگی کے کسی بھی موڑ پہ ایک دوسرے کے قطعی محتاج نہیں تھے،ترقی کی جانب اپنی اپنی کوششوں سے دونوں کا سفر جاری تھا لیکن فکروخیال کا ملاپ دونوں کو ایک بینام سی اپنائیت کے زنجیروں میں قید کیے ہوا تھا،جس سے آزاد ہونے کا تصور بھی اُنہیں بیچین کردیتا تھا۔
کسی نے سچ کہا: کوشش تو ہر انسان کرتا ہے لیکن ’’کسی بھی انسان کو بھی وقت سے پہلے اور مقدر سے زیادہ کچھ نہیں ملتا ‘‘ اِسی لیے اگر زندگی میں دو لوگ ایک ہی راستے کے مسافر ہوں اور ان میں کوئی ایک کسی منزل تک پہونچنے میں سبقت حاصل کرلے تو نہیں پہونچ پانے والے کو دیکھ کر دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ شاید بروقت کامیابی میرے مقدر میں نہیں ہے، شاید اللہ کو منظور نہیں تھا یا ممکن ہے آپ منزل سے کچھ ہی فاصلے پہ کھڑے ہوں اور آپ کو پتہ نہ ہو، بس کوششوں کی رفتار میں شدت پیدا کرلینی چاہیے، قسمت کا کھیل دیکھیے غفران کو اپنے من کے مطابق منزل مل چکی تھی جبکہ شکیل کا سفر ابھی بھی جاری تھا۔
غفران پہ اچانک کام کاج کا بوجھ بڑھ جانے کے سبب اب دونوں میں پہلے کی طرح گفتگو نہیں ہوپاتی تھی،نہ بار بار ملاقات کا راستہ نکل پاتا، شکیل جب جب غفران کو کال کرتا زیادہ تر اس کی کال ریسیو نہیں ہوپاتی تھی، جس سے ذاتی طور پر شکیل کو تکلیف پہونچتی تھی لیکن چونکہ تعلقات اتنا پُرانا تھا، آپس میں اعتماد کی جڑیں اتنی مضبوط تھیں کہ شکیل چاہ کر بھی غفران کے بارے میں غلط رائے قائم نہیں کرسکتا تھا اعتبار کا یہ عالم تھا کہ غفران کی غفلت کے لباس پہ بھی وہ مثبت سوچ کا عطر لگاکر اپنے بیقرار دل کو مطمئن کرلیتا تھا بعد میں جب کسی مناسبت سے کبھی دونوں کی ملاقاتیں ہوتیں تو وہ ایک دوسرے سے مل کر جہاں ایک جانب بیحد خوش ہوتے تھے وہیں شکیل کی شکایتوں کا پٹارہ بھی کھُل جاتا تھا جسے غفران ہنس کر جھیل لیتا اور پھر دونوں اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوجاتے ۔
ایک روز کی بات ہے شکیل کہیں اپنی بائک سے خود ڈرائیو کرکے لمبے سفرپہ جارہا تھا اچانک ایک تیز رفتار گاڑی پیچھے سے ٹھوکر مارتی ہوئے گزرگئی، وہ بُری طرح گِرا جسم کے مختلف حصوں میں شدید چوٹیں آئیں، سر اور پیر سے خون کا دھارا بہنے لگا، بڑی مشکل سے اپنے حواس پہ قابو پاتے ہوئے اُسی عالم میں اُس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور غفران کو کال لگانا شروع کیا، لگ بھگ درجنوں بار اس نے کال کی، لیکن ریسیو نہیں ہوئی، غفران نے ایک دوبار شکیل کی کال بھی دیکھی لیکن اس نے سوچا بھیڑ بھاڑ میں کیا بات کریں، فری ہوکر آرام سے بات کرلیں گے ۔
گھر پہونچ کر دوسرے کاموں میں اُلجھ جانے کے سبب غفران کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ شکیل سے بات بھی کرنی ہے اور وہ کال بیک کرنا بھول گیا، تین چار روز بعد اچانک بیٹھے بیٹھے اُسے یاد آیا ارے….شکیل کی کال آئی تھی،کئی دن ہوگئے پتہ نہیں کہاں ہے؟ کس عالم میں ہے؟ اُس نے سوچا ایسا کرتے ہیں پہلے واٹس ایپ پہ میسیج کرتے ہیں اگر جواب موصول ہوگیا، وہ فری رہا تو کال کروں گا پھر ڈھیر ساری باتیں ہوں گی۔
غفران نے واٹس ایپ پہ شکیل کو میسیج کیا، مسیج ریسیو بھی ہوگیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا یہ دیکھ کر غفران کو سخت غصہ آیا اُس نے غصے میں اپنے طور پر یہ سوچ لیا کہ ممکن ہے کال ریسیو نہ کرنے کے سبب ناراض ہوگیا ہوگا، دیر سے ہی سہی خود ہی جواب دے گا یا کال کرے گا لیکن اُدھر سے نہ تو میسیج کا جواب موصول ہوا اور نہ ہی کال آئی تو اُس نے غصے میں میسیج کیا:”ٹھیک ہے شکیل جواب نہیں دے رہے ہو نا تو مت دو، کوئی بات نہیں، پتہ نہیں خود کو کتنے بڑے قابل سمجھتے ہو، یہ آخری میسیج ہے، اب کوئی میسیج نہیں کروں گا اوکے؟” یہ لکھ کر غفران نے اپنے طور پر بھڑاس تو نکال لی لیکن اندر ہی وہ خود کو بیچین سا محسوس کر رہا تھا، بار بار اپنے آخری میسیج کا جواب پانے کو اُس کا دل بیقرار تھا، اسی لیے وقفے وقفے سے وہ نیٹ آن آف کر رہا تھا، اسی بیچ کچھ گھنٹوں کے بعد شکیل کے نمبر سے اُسے ایک میسیج موصول ہوا:”
بھائی جان!
جواب میں تاخیر ہوئی اس کے لیے بہت معذرت…. میں شکیل بھیا کی چھوٹی بہن بول رہی ہوں، کچھ روز پہلے بھیا بُری طرح سڑک حادثے کے شکار ہوگئے، زخمی حالت میں اُنہیں ایک صاحب نے ہاسپیٹل پہونچایا، بعد میں ہم لوگوں کو کسی طرح خبر ہوئی، کئی روز بیت گئے اُن کو ہوش تک نہیں آیا ہے، ابھی بھی وہ کوما میں ہی ہیں،اللہ جانے آگے کیا ہوگا؟؟ میسیج پڑھ کر یوں لگا جیسے احساسِ جُرم سے غفران کے پورے جسم کا خون سوکھ گیا ہو!




