محمد مصطفی علی سروری
کولکتہ کے ایک میڈیکل کالج میں مردہ خانے میں کام کرنے کے خواہش مندوں سے درخواستیں طلب کی گئی۔ میڈیکل کالج میں اس زمرے کی چھ جائیدادیں تھی اور ان چھ جائیدادوں پر ملازمت کے خواہشمند درخواست گذاروں کی تعداد آٹھ ہزار سامنے آئی۔اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کی 24؍ جولائی 2021ء کی رپورٹ کے مطابق کولکتہ کے مرکزی علاقے سیلدہ میں نیل رتن سرسار میڈیکل کالج قائم ہے۔
اس سرکاری میڈیکل کالج کے مردہ خانے میں کام کرنے کے لیے 6 پوسٹ پر تقررات کرنا تھا جس کے لیے امیدوار کا آٹھویں جماعت پاس ہونا ضروری تھا۔ اس ضمن میں میڈیکل کالج کی جانب سے باضابطہ اشتہار دیا گیا کہ آٹھویں جماعت کامیاب 18 تا 40 سال کے خواہشمند امیدوار درخواست دے سکتے ہیں۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق مردہ خانہ میں کام کرنے کے لیے 100 انجینئرس، 500 پوسٹ گریجویٹس اور 2000 گریجویٹس نے درخواستیں داخل کی۔ آٹھویں جماعت کی اہلیت والے پوسٹ کے لیے اتنی زیادہ قابلیت رکھنے والے امیدواروں کی دلچسپی دراصل روزگار کے حوالے سے سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔قارئین یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب ایک ایسے پوسٹ کے لیے جہاں کام کرنے کے لیے صرف آٹھویں جماعت کامیاب ہونا ضروری ہے وہاں پر پروفیشنل گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدوار رجوع ہو رہے ہیں۔
اتر پردیش، مغربی بنگال کے علاوہ تاملناڈو اور دیگر ریاستوں میں بھی روزگار کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال سامنے آئی ہے۔روزگار کے حوالے سے خاص طور پر کویڈ 19 کے بعد کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے اور اس صورتحال سے بلا کسی امتیاز کے لاکھوں ہندوستانی متاثر ہوتے ہیں۔پالیری میتھل بابو کی عمر 56 برس ہے۔ وہ کوزی کوڈ #کیرالا کے اویجنم گاوں کے رہنے و الے انگلش کے #ٹیچر ہیں۔ اپنے 30 سال کے ٹیچنگ کیریئر کے دوران انہوں نے اپنے اسٹوڈنٹس کو #انگریزی کی نثر اور نظم دونوں پڑھائے ہیں۔
گذشتہ برس جب کویڈ 19 کو روکنے لاک ڈائون لگایا گیا تو تعلیمی ادارے بھی بند ہوگئے اور خانگی شعبہ میں بطور ٹیچر کام کرنے والے میتھل بابو کی #نوکری بھی چلی گئی۔ محنت کر کے کمانے والے اس ٹیچر کے متعلق اخبار دی نیو #انڈین #ایکسپریس نے 28؍ جولائی 2021ء کو ایک خبر From Construction Worker to Storekeeper, Kerala Teacher land 4th Job in Pendamic hit year سرخی کے تحت شائع کی۔
خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ کیرالا کے اس انگلش کے ٹیچر نے کویڈ 19 کے باعث پیدا شدہ حالات میں بطور ٹیچر اپنی نوکری گنوانے کے بعد خالی نہیں رہے اور فوری طور پر تعمیراتی مزدور (کنسٹرکشن ورکر) کے طور پر کام کرنے لگے۔ لیکن ایک مہینے کے بعد ہی کنسٹرکشن کی نوکری چلی گئی تو میتھل بابو نے ہوٹل میں بطور سپر وائزر کام کرنا شروع کیا اور جب یہ نوکری بھی ختم ہوگئی تو اب ایک اسٹور کیپر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
میتھل بابو نے نیو انڈین ایکسپریس اخبار کو بتلایا کہ درمیان میں انہوں نے بچوں کو گھروں پر #ٹیوشن بھی پڑھایا لیکن جب گیارہویں اور بارہویں کے بورڈ کے امتحان ملتوی کردیئے گئے تو لوگوں نے اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا بھی بند کروادیا۔ اس طرح اب وہ اسٹور کیپر کے طور پر چوتھی ملازمت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ بطور تعمیراتی مزدو رکام کرنے لگے اور اس کی اطلاع ان کے سابقہ اسٹوڈنٹس کو ملی تو ان لوگوں نے عطیات بھی جمع کر کے ان کی طرح اور بھی دیگر ٹیچرس کو کچھ مالی مدد تقسیم کی لیکن انہوں نے بہتر یہ سمجھا کہ بجائے خالی بیٹھے رہنے کے محنت کر کے اپنا انتظام خود کریں۔
دوسری جانب اس برس ان کے 24 سالہ بیٹے کو بھی ایک نوکری مل گئی جس سے ان کو بڑی راحت ملی۔ میتھل بابو کو اپنے گھر کا ہوم لون ابھی واپس کرنا ہے جس کی اقساط وہ برابر ادا کر تے آرہے ہیں۔ناگہانی حالات میں آگے بڑھنے کے لیے مضبوط ارادے اور خاص کر ہمت ہونا چاہیے کہ اگر انسان نے طئے کرلیا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گا اور اپنے آپ سے ہی مدد طلب کرے گا تو خدا کی ذات بھی ایسے لوگوں کے لیے #راستے آسان کرتی ہے۔
قارئین کرام یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ خدائے تعالیٰ کی ذات صرف رب المسلمین نہیں ہے بلکہ وہ ساری #کائنات کی پالن ہار ہے اور سب کا مالک ہے۔ڈاکٹر پراگ رابڑے کی عمر 52 برس ہے۔ انہوں نے کمپیوٹر سائنس اور مینجمنٹ میں (پی ایچ ڈی) #ڈاکٹر کی #ڈگری حاصل کی ہے۔ سال 2014ء میں ڈاکٹر پراگ نے افغانستان میں بطور کالج لیکچرار ملازمت اختیار کی اور گذشتہ آٹھ برسوں کے دوران انہوں نے فارسی زبان بھی سیکھ لی اور کابل کے مختلف کالجس میں پڑھانا بھی شروع کردیا تھا۔
(بحوالہ #اخبار نیو انڈین ایکسپریس۔ 19؍ اگست 2021) ڈاکٹر پراگ رابڑے ان ہندوستانیوں میں شامل ہیں جنہیں حکومت ہند ہندوستانی فضائیہ کے خصوصی طیارہ سے اس ہفتے کے دوران کابل سے بحفاظت وطن واپس لا لیا۔قارئین کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے افغانستان میں ملازمت اور کاروبار کے حوالے سے سونچا تھا لیکن دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں ایسی کئی شخصیات ہیں جنہوں نے افغانستان میں بھی روزگار اور کاروبار کے مواقع سے استفادہ کیا اور منافع بھی کمایا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ روایتی سونچ اور پرانے تجزیوں کو چھوڑ کر نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہویا جائے تاکہ نئے زمانے کے نئے چیالنجس کا سامنا کیا جائے۔ برے حالات کا سامنا تو ہر قوم اور ہر علاقے کے لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جو حالات کا رونا روتے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کے بجائے کچھ کرنے پر یقین رکھتے ہیں ان کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بھی ہموار ہوتے چلے جاتے ہیں۔
آشا کندارا کا تعلق راجستھان سے ہے۔ اس خاتون کی شادی 17 سال کی عمر میں کردی گئی اور جب اس کی عمر 32 سال ہوئی تب تک اس کی طلاق بھی واقع ہوگئی۔ اب آشا اکیلی نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ دو بچوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی آنپڑی جس وقت آشا کی شادی ہوئی تھی اس وقت اس نے صرف اسکول کی تعلیم مکمل کی تھی۔ طلاق کے بعد آشا نے سب سے پہلے تعلیم پر توجہ مرکوز کی اور چار برسوں میں اپنا گریجویشن مکمل کیا۔
لیکن آشا کے ہاں کوئی نوکری نہیں تھی۔ وہ جہاں بھی نوکری کے لیے درخواست دیتی تو اس کی درخواست رد کردی جاتی۔ جب آشا پوچھتی کہ میں نے تو گریجویشن بھی کیا پھر مجھے نوکری کیوں نہیں ملتی تو سرکاری افسر پوچھتے کہ گریجویشن کیا تو کیا تم کلکٹر تھوڑی بنی ہو؟
آشا نے اسی وقت سونچ لیا کہ یہ کلکٹر کون ہوتا ہے معلوم کیا جائے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ کلکٹر بننے کے لیے جو امتحان لکھنا ہے اس کی عمر تو کبھی کے گذر چکی ہے۔ لیکن آشا کو کسی نے بتلایا کہ وہ آئی اے ایس نہیں بن سکتی تو کیا وہ راجستھان ایڈمنسٹریٹو سرویس (RAS) کا امتحان تو لکھ سکتی ہے۔ RAS کے تحت ایک مطلقہ خاتون کو امتحان لکھنے کے لیے عمر کی قید نہیں بس آشا نے اس امتحان کے لیے تیاری شرع کردی۔ مگر کسی انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے کر کوچنگ لینے کے پیسے نہیں تھے۔ کوچنگ تو دور خود اپنے بچوں (ایک لڑکی اور ایک لڑکے) کی پرورش کے لیے پیسہ کمانا ضروری تھا۔
اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی 18؍ جولائی 2021ء کی رپورٹ کے مطابق آشا کا تعلق والمیکی ذات سے ہے جو کہ پسماندہ طبقات سے ہے۔ راجستھان ایڈمنسٹریٹو امتحان کی تیاری کے ساتھ ساتھ آشا نے جودھپور میونسپل کارپوریشن میں بطور صفائی کرمچاری ملازمت اختیار کرلی جن کو سڑکوں پر جھاڑو لگانا پڑتا ہے۔ جس سے اس خاتون کو ماہانہ 12,500 روپئے تنخواہ ملنے لگی اور اسے ہر روز صبح 6 بجے سے دو پہر دو بجے تک سڑکوں کی صفائی کرنی پڑتی تھی۔ آشا کو لوگوں کے طعنے بھی سننے پڑے اور طرح طرح کی باتیں بھی لیکن آشا ہر روز صبح پانچ بجے اٹھ کر اپنے کام پر جاتی اور دوپہر میں کام سے واپسی کے بعد گھر کے کام اور پھر اپنے بچوں کی مدد سے امتحان کی تیاری کرنے لگی۔
وہ ہمت ہارتی تو اس کے بچے اس کی ہمت بڑھاتے کہ وہ بھی RAS کا امتحان پاس کرسکتی ہے اور پھر ایسے ہی ہوا۔ آشا راجستھان ایڈمنسٹریٹو سرویس کا امتحان کامیاب کر کے 41 برس کی عمر میں ڈپٹی کلکٹر بن گئی۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق آشا کی 21 سالہ لڑکی گریجویشن کے فائنل ایئر میں ہے اور اس کا لڑکا سکنڈ ایئر کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
آشا کے مطابق ہم عورتوں کو اپنی طاقت اور صلاحیت کے متعلق غلط اندازے نہیں قائم کرنا چاہیے۔ اگر ہم خود اپنی صلاحیت کا صحیح اندازہ نہیں کریں گے اور اپنے بارے میں مثبت نہیں سونچیں گے تو ہم مسائل میں ہی گھرے رہیں گے۔ اگر ہم محنت کریں گے تو یقینا آگے بڑھ سکتے ہیں۔قارئین اس طرح کی حقیقی کہانیاں دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم پریشانیوں میں گھرنے اور مصیبت میں پڑنے کے باوجود گھبرائیں نہیں اور اللہ رب العزت کے اپنے تعلقات کو مضبوط استوار کریں تو ہم ہر طرح کے ناگہانی حالات اور ہر طرح کی پریشانی سے باہر نکل سکتے ہیں۔ بقول اقبالؔ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو ہر طرح کی پریشانیوں سے محفوظ رکھے اور زمانے بھر میں ہر طرح کی رسوائی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



