
سہیل انجم
دبلا پتلا جسم۔ اوسط قد۔ بظاہر نازک اندام مگر انتہائی جفا کش۔ سبک رفتار مگر منزل آشنا قدم۔ گول چہرہ۔ گوری رنگت۔ پان کی شوقین۔ پان کھاتیں تو اس کی پیک سے ہونٹوں کے کنارے رنگین ہو جاتے۔ خاموش رہتیں تو جیسے سطح سمندر کا سکوت۔ بولنے یا ڈانٹنے ڈپٹنے پر آتیں تو جیسے بپھری ہوئی موج۔ یہ تھا ہماری اماں کا ظاہری سراپا۔
میں جب بھی اماں کو سوچتا ہوں تو مجھے علامہ اقبال کی نظم ’’والدۂ مرحومہ کی یاد میں‘‘ یاد آنے لگتی ہے اور خاص طور پر یہ مصرعہ ’’میں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی‘‘ ذہن کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں جب ہم لوگ اماں کو پورے دن کام کرتے دیکھتے ، کبھی یہاں تو کبھی وہاں، کبھی یہ کام تو کبھی وہ کام، ایسا لگتا جیسے ان کے پیروں میں پھرکی لگی ہوئی ہے اور ان کے ہاتھ کوئی نہ کوئی کام کرنے کے لیے بیچین رہتے ہیں تو ہم لوگ کہتے کہ اماں کسی دن ایسے ہی کام کرتے کرتے دنیا کو خیر باد کہہ جائیں گی۔
یہ خیال دل و ذہن میں کہاں سے آیا، نہیں معلوم۔ لیکن ہوا بالکل ویسا ہی۔ انھوں نے جس طرح پوری زندگی گھر کا بوجھ اٹھایا اور کبھی کسی کے لیے بوجھ نہیں بنیں اسی طرح زندگی کے آخری لمحا ت میں بھی انھوں نے کسی کا بوجھ بننا گوارہ نہیں کیا۔ کسی کا احسان نہیں لیا۔ کسی کی محتاجی نہیں رہی۔ زیادہ دنوں تک بیمار بھی نہیں رہیں۔
اگر یہ کہا جائے کہ بس تھوڑے سے احتجاج کے ساتھ انھوں نے چپکے سے دوسری دنیا آباد کر لی تو بیجا نہیں ہوگا۔ جب وہ دن بھر کام کرنے کے بعد رات کو بستر پر دراز ہوتیں تو اللہ کا شکر ادا کرتیں اور کہتیں کہ اے اللہ میاں! اگر تو نے رات نہ بنائی ہوتی تو یہ آرام کہاں سے ملتا۔ زندگی کے آخری برسوں میں عشاء کی نماز کے بعد سونے سے قبل قرآن مجید کی تلاوت ان کا معمول بن گئی تھی۔
یہ 2007 کا سال تھا۔ نومبر کا مہینہ اور پہلا ہفتہ۔ میں نے ایک ڈیڑھ سال قبل ہی شاہین باغ جامعہ نگر نئی دہلی میں ایک چھوٹا سا مکان خرید لیا تھا۔ ہم لوگ وہاں منتقل ہو گئے تھے۔ ایک شام گھر سے فون آیا کہ اماں وضو کر رہی تھیں، وضو کر کے کھڑی ہوئیں تو پیر ہلکے سے پھسل گیا، وہ گر گئیں اور اس کے بعد سے ہی ان کے کولہے میں درد ہے۔ درد زیادہ نہیں ہے لیکن بہر حال درد ہے۔
میں نے مشورہ دیا کہ اس عمر میں کولہے کی ہڈی کمزور ہو جاتی ہے۔ کہیں خدا نخواستہ ہڈی میں کریک تو نہیں آگیا۔ ایکس رے کروائیں تاکہ حقیقت کا علم ہو سکے۔ گورکھپور کے کسی اسپتال میں ایکس رے کروایا گیا تو پتہ چلا کہ کولہے کی ہڈی میں ہلکا سا بال آگیا ہے۔ ڈاکٹر نے کچھ دوائیں دیں اور کہا کہ انھیں گھر لے جائیں اور چارپائی پر لٹا کر پیر سیدھا کریں اور اس میں ایک اینٹ باندھ کر لٹکا دیں تاکہ پیر مڑنے نہ پائے۔ اس طرح ہڈی جڑ جائے گی۔ یہی کیا گیا۔ لیکن یہ عمل بہت دردانگیز تھا۔
ایک بار فون پر اماں سے بات ہوئی تو انھوں نے تقریباً چیختے ہوئے کہا کہ بیٹا بہت درد ہے۔ وہ آہ و بکا کر رہی تھیں۔ میں مسلسل گھر والوں کے رابطے میں رہا۔ انھیں 23 نومبر کو پھر گورکھپور لے جایا جا رہا تھا۔ راستے سے چھوٹے بھائی آصف ہلال انجم نے فون کرکے اماں کی خیریت بتائی۔ انھوں نے ساتھ جانے والے ڈاکٹر انور علی سے بات کرائی۔
میں نے ان سے پوچھا اماں کا کیا حال ہے۔ ان کے فریکچر کی کیا پوزیشن ہے۔ انھوں نے کہا کہ فریکچر تو اپنی جگہ پر۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کو ہارٹ کا بھی مسئلہ ہے۔ بہر حال انھیں گورکھپور کے ایک اسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ رات میں تقریباً دس گیارہ بجے چھوٹے بھائی کا فون آیا کہ اماں اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ نہ عالمِ نزع نہ اہل خانہ کو انتظار کی زحمت۔ نہ ڈاکٹروں کی کوئی آزمائش نہ تیمار داروں پر کوئی بوجھ۔
اتنا سننا تھا کہ جیسے بجلی گر پڑی۔ روتے روتے میرے ہچکی بندھ گئی۔ ایسا لگا جیسے سر کے اوپر سے چھت اڑ گئی ہے۔ پندرہ دنوں کے اندر اندر سب کچھ ختم۔ ستر سال کا قصہ منٹوں میں تمام۔ میں نے گھر والوں سے کہا کہ ہم لوگ تدفین میں نہیں پہنچ پائیں گے۔ ٹرین سے ٹکٹ کا ملنا مشکل ہے۔ آپ لوگ انھیں جلد از جلد دفن کر دیں۔ ہم لوگ دو ایک روز کے بعد ٹکٹ کا انتظام ہوتے ہی آجائیں گے۔ اس طرح ہم لوگ دہلی میں ہوتے ہوئے بھی اماں کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکے۔ یہ ہماری بدقسمتی تھی۔
جبکہ آصف ہلال انجم ان دنوں سعودی عرب سے آئے ہوئے تھے۔ ان کو یہ سعادت نصیب ہو گئی۔ بعد میں اسلم بھیا نے بتایا کہ جب اماں کو گورکھپور لے جایا جا رہا تھا تو ان کی جیب میں ڈھائی تین ہزار روپے تھے۔ انھوں نے تکلیف کی انتہائی شدت کے درمیان جیب سے پیسے نکال کر دیے اور کہا کہ فلاں فلاں کا اتنے اتنے پیسے باقی ہیں وہ ادا کر دیں۔ گویا انھوں نے جاتے جاتے اپنا آخری بوجھ بھی جو ان کے دل و دماغ پر تھا، اتار پھینکا اور خوشی خوشی سفر آخرت پر روانہ ہو گئیں۔ قمر جلالوی نے کہا ہے:
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
ہم لوگوں کی آنکھوں میں سب سے زیادہ اگر کسی کا چہرہ روشن ہے تو اماں کا اور پھر اس کے بعد بابا کا۔ بابا یعنی نبی بخش عرف نبو بابا ہمارے چھوٹے دادا تھے۔ ہمارے ابا بارہ تیرہ سال کے رہے ہوں گے کہ ہمارے دادا کا انتقال ہو گیا تھا۔ ہم لوگوں کی پرورش اماں اور بابا نے کی۔ ہم نے بچپن میں اپنے گھر پر کبھی بھی خوشحالی کا سایا نہیں دیکھا۔ دادا کے زمانے سے ہی فقر و فاقہ کی دھوپ بکھری رہی۔
ابا گھر پر کم اور باہر زیادہ رہتے۔ گھر چلانے کا سارا بوجھ اماں کے ناتواں کندھوں پر تھا۔ منگل کے روز ہمارے گاؤں میں ہفتہ واری بازار لگتا ہے۔ اسی روز پورے ایک ہفتے کے راشن پانی کا انتظام کیا جاتا۔ اماں اس روز کیسے پریشان رہا کرتیں آج بھی مجھے یاد ہے۔ بھاگ دوڑ کرکے ہفتے بھر کے راشن پانی اور سبزی وغیرہ کا انتظام کرتیں۔ ہفتے کے اندر اگر کسی چیز کی ضرورت پڑتی تو اماں ٹھاکر گپتا کی کرانہ کی دکان سے ادھار لے آتیں۔
دوسری دکان والے بھی ادھار سامان دے دیتے۔ سب کو معلوم تھا کہ منگل یا بدھ کو بقایے کی ادائیگی ہو جائے گی۔ اگر کوئی دکاندار دینا نہیں چاہتا تب بھی ان کی اتنی عزت تھی کہ دے دیتا۔ کسی میں انکار کا حوصلہ نہیں تھا۔ ہم لوگوں کے تعلیمی اخراجات الگ تھے۔ اماں کس کس طرح کتابوں اور کاپیوں کے لیے پیسوں کا انتظام کرتیں، ہم نہیں سمجھ سکتے:
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
کچھ مسائل ایسے تھے جو ہمیشہ گھوم پھر کر آتے۔ جیسے ہر سال موسم باراں کی آمد سے قبل کھپریل کے مکان کو درست کرانا۔ تاکہ بارش میں پانی کے ٹپکنے کو روکا جا سکے۔ دوسرا بڑا مسئلہ چولہے میں جلانے کے لیے لکڑی کا انتظام کرنا تھا۔ اگر کبھی کچھ پیسے ہو جاتے تو دو چار ماہ کے لیے جلاون کا انتظام ہو جاتا۔ ورنہ کچھ اور بندوبست کرنا پڑتا۔
فقر و فاقہ کے اس دور میں جب ابا مدرسہ سے گھر آتے تو جشن کا سماں ہو جاتا۔ انھوں نے اپنی زندگی ہند نیپال سرحد پر گوتم بدھ کی جائے پیدائش کپل وستو اور لمبنی کے علاقے میں مدارس کے قیام اور بچوں میں تعلیم عام کرنے میں وقف کر دی تھی۔ ابا کو فیرنی بہت پسند تھی۔ اماں کسی طرح اس کا انتظام کرتیں اور پھر ہم لوگوں کو بھی لذت کام و دہن کا تجربہ ہوتا۔
ابا کے جانے کے بعد گھر میں پھر ویرانی چھا جاتی۔ بابا قدم قدم پر اماں کو سہارا دیتے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو اماں کیا کرتیں؟ یہ خیال کبھی کبھی میرے ذہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ اماں تو بڑی جیدار تھیں۔ بابا نہ ہوتے تب بھی کسی نہ کسی طرح گھر چلا لے جاتیں۔
اماں ہمارے گھر سے دو مکان مغرب میں واقع حاجی شاہ محمد کی پانچ بیٹیوں میں سے دوسری بیٹی تھیں۔ ہمارے نانا کے کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔ انھوں نے تھوڑی بہت تعلیم تمام بیٹیوں کو دلوائی تھی۔ البتہ ابا کی وجہ سے ہمارے گھر میں علمی ماحول تھا۔ اس کا اماں کی شخصیت پر بہت خوشگوار اور مثبت اثر پڑا۔ مزید برآں یہ کہ کثرت مطالعہ نے ان کو نیم عالمہ بنا دیا تھا۔ ساری بہنوں نے گاؤں ہی میں تعلیم پائی تھی۔
بس واجبی سی۔ اس وقت تک ہمارے گاؤں میں کوئی مدرسہ نہیں تھا۔ غربت کی وجہ سے بچوں کو تعلیم کے لیے سرکاری اسکولوں میں بھیجنے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ لڑکیوں کو بھیجنے کا رواج تو اور بھی نہیں تھا۔ ہمارے گاؤں کے ایک معزز شخص شبراتی بابا نے گاؤں کے بچوں کو ناظرہ قرآن وغیرہ پڑھایا تھا۔ وہ بھی اپنے گھر پر۔ یا پھر الطاف میاں کی والدہ نے کچھ بچوں کو پڑھایا تھا جس کی وجہ سے لوگ انھیں معلمہ کہتے تھے۔ یہی ان کا صل نام ہو گیا تھا۔
دوسروں کی طرح مجھے بھی بچپن کی بہت سی باتیں یاد ہیں۔ اماں کو جب کبھی گھر کے کاموں سے فرصت مل جاتی تو وہ کشیدہ کاری وغیرہ کرتیں۔ ان دنوں عورتوں اور لڑکیوں کی مصروفیت کا اور کوئی سامان نہیں تھا۔ وہ کشیدہ کاری کرتیں تو کم عمر لڑکیاں مٹی کا سانچا بنا کر اس پر ازاربند بند وغیرہ بنتیں۔ اماں کو سوئیٹر بننے کا بھی شوق تھا۔ ہمارے گاؤں کے ایک غیر مسلم مہادیو گپتا اپنی فیملی کے ساتھ کچھ دنوں تک شہر میں رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ کو سوئیٹر بننا آتا تھا۔
بعد میں وہ جب گاؤں میں آکر رہنے لگے تو اماں نے ان کی اہلیہ سے یعنی بنشی دھر کی والدہ سے سوئیٹر بننا سیکھا تھا۔ بس دو ایک ڈیزائن جانتی تھیں۔ سوئیٹر بننے کے لیے سلائیوں اور اون کی ضرورت پڑتی ہے۔ سلائیاں لوہے کی تیری (تیلی) سے بنا لی جاتیں اور چونکہ اون خریدنے کی استطاعت نہیں تھی لہٰذا سوت کے دھاگے سے سوئیٹر بنتیں۔
ایک بار انھوں نے میرے لیے ایک سوئیٹر بنا۔ سیاہ دھاگوں کا۔ حالانکہ دسمبر جنوری کی سردی کو روکنے میں وہ بالکل ناکافی تھا۔ سوت کا دھاگا ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی گرمی بھی نہیں تھی۔لیکن یہ احساس جسم کو گرم کیے رکھتا کہ یہ اماں نے میرے لیے بنا ہے۔
بچپن کی یادوں میں رمضان کے مبارک مہینے کی رونقیں اور عیدین کے علاوہ دیوالی اور دوسرے ہندو مسلم تہوار سرفہرست ہیں۔ یادوں کے دریچے میں ان تہواروں کا چہرہ اب بھی بڑا ہی روشن ہے۔ رمضان کی آمد سے ایک روز قبل وہ پورے گھر کی صفائی اور پھر مٹی سے لپائی کرتیں۔ چاند نکلتے ہی گھر میں اگر بتی سلگا دی جاتی۔ پورے مہینے رات میں اگر بتی کی خوشبو پھیلی رہتی۔ عید رات میں اگر بتیوں کی تعداد بڑھ جاتی۔ یہ رواج پورے گاؤں میں تھا۔ تقریباً سب کے گھروں میں اگر بتی جلائی جاتی۔ گویا گاؤں گھر کا ماحول رمضان المبارک سے کہتا:
آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو
پھول تو پھول تھے خاروں نے لٹائی خوشبو
عید کی صبح فجر کے وقت ہی وہ ہم لوگوں کو جگا دیتیں اور پھر ایک ایک بچے کو نہلاتیں اور عید کے لیے تیار کیے گئے کپڑے پہناتیں۔ چونی، اٹھنی، ایک روپیہ عیدی ملتی جو ہم لوگوں کے لیے بہت بڑی نعمت تھی۔ ہمارے گاؤں میں پچیس تیس فیصد غیر مسلم ہیں۔ ہم لوگ دیوالی کے موقع پر ان کے یہاں بننے والے مٹی کے گھروندوں کی نقالی میں اپنے گھر میں چھوٹے چھوٹے گھروندے بناتے۔ اماں اس روز بھی باہر کی خالی جگہ پر مٹی سے لپائی کرتیں اور ہم لوگ عصر اور مغرب کے درمیان مٹی کے گھروندوں سے کھیلتے۔
اماں کسی طرح کھِیل، بتاشوں اور سنگھاڑوں کا انتظام کرتیں۔ دو چار دیے بھی جلائے جاتے۔ دوسرے مسلم گھروں کے بچے بھی اسی طرح کے کھیل میں مصروف رہتے اور پھر اڑوس پڑوس کے بچوں میں مٹھائیوں کا تبادلہ ہوتا۔ مغرب بعد غیر مسلموں کے کھیتوں میں یا اہم مذہبی مقامات پر جلائے جانے والے دیے لوٹنے کی روایت بھی زندہ کی جاتی۔
ہمارے علاقے میں یوم آشورہ کا جلوس روایتی تقدس کے ساتھ نکلتا ہے۔ دسویں محرم کو ہمارے گاؤں کے بازار میں جلوس آتا ہے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے تک رکتا ہے۔ اس دن پورے علاقے سے لوگ وہاں جمع ہوتے ہیں۔ بچپن میں ہم لوگ اسے میلہ کہتے تھے۔ اماں سے میلہ دیکھنے کی اجازت مل جاتی اور بابا ہم لوگوں کو میلہ دکھانے لے جاتے۔ حالانکہ اماں بالکل اسلامی ذہن کی خاتون تھیں لیکن ان میں مذہبی توسع بہت تھا۔ متعدد غیر مسلم مرد و خواتین سے ان کے بڑے اچھے مراسم تھے۔
جب کبھی بازار میں غیر مسلموں کی جانب سے رام لیلا ہوتی تو دسویں روز بھرت ملاپ کا میلہ لگتا جہاں رام اور راون کی سینائیں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتیں۔ اماں اس میلے کو دیکھنے کی بھی اجازت دے دیتیں۔ ان معاملات میں جہاں وہ بہت نرم دل واقع ہوئی تھیں وہیں پڑھائی کے معاملے میں بہت سخت تھیں۔ یوں تو ماں کی گود کو ہی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے لیکن ہم لوگوں کی پہلی درسگاہ واقعی اماں کی گود ہی تھی۔
ہم بڑے بھائی بہنوں نے انھی سے ناظرہ قرآن اور اردو کا چمن اسلام کا قاعدہ پڑھا تھا۔ وہ فجر بعد قرآن مجید کی تلاوت بہت سختی سے کرواتیں۔ ہم لوگوں کا کوئی بہانہ کام نہیں آتا۔ابا نے چونکہ دہلی سے تکمیل الطب کا بھی کورس کیا ہوا تھا اس لیے وہ ابتدائی دنوں میں میڈیکل پریکٹس کرتے تھے۔ اللہ نے ان کے ہاتھ میں بڑی شفا دی تھی۔ جس کی نبض دیکھ لیتے وہ ٹھیک ہو جاتا۔ جب گاؤں میں ہوتے تو گھر پر پریکٹس کرتے۔ صبح صبح گھر پر مریضوں کا تانتا لگ جاتا۔
ابا کو چونکہ خواتین کی نبض دیکھنے اور انھیں انجکشن لگانے میں بڑی شرم آتی اس لیے انھوں نے اماں کو انجکشن لگانا سکھا دیا تھا۔ اگر کسی خاتون کو انجکشن لگانے کی ضرورت پڑتی تو اماں ہی لگاتیں۔ لگانے سے قبل سوئی (نڈل) اور سرنج کو ایک کٹورے میں کچھ دیر تک آگ پر کھولا لیتیں۔ ابا کا کہنا تھا کہ اس طرح جراثیم مر جاتے ہیں۔ ورنہ اسی سوئی کو بغیر کھولائے کسی دوسرے مریض کو لگا دیا جائے تو اس کے جسم میں جراثیم داخل ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے۔
ان دنوں ڈسپوزل سرنج نہیں آتی تھی۔ بعض اوقات تو نڈل اتنی پرانی ہو جاتی کہ اس کی نوک ہی ختم ہو جاتی۔ لیکن چونکہ ان دنوں دوائیں اور ڈاکٹری کے لوازمات ہمارے گاؤں سے دس کلومیٹر مشرق میں واقع مہنداول قصبے میں ملتے تھے اس لیے پرانے اوزار سے ہی کام چلانا پڑتا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک خاتون کو ٹی بی کا مرض تھا۔ وہ عصر اور مغرب کے درمیان ہمارے مکان کے شمالی دروازے میں آتیں۔
زنجیر کھڑکنے کی آواز آتی اور اماں دروازہ کھول کر ان کو اندر بلا لیتیں اور پھر ان کو انجکشن لگاتیں۔ ان کا چھ ماہ کا کورس تھا۔ اس لیے یہ سلسلہ چھ ماہ تک چلتا رہا۔ دوسری خواتین بھی جو یا تو ابا سے پردہ کرتیں یا ابا اپنی حیا کی وجہ سے جن کے سامنے نہیں ہونا چاہتے ان کے مرض کے بارے میں اماں ہی پوچھتیں اور پھر ابا کو بتاتیں اور ابا دوائیں دیتے۔
جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے اماں کی تعلیم واجبی سی تھی مگر انھوں نے اپنے مطالعہ سے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ مسئلہ مسائل بھی خوب جانتی تھیں۔ آجکل تو ہمارے چھوٹے سے گاؤں لوہرسن بازار (کرنجوت) ضلع سنت کبیر نگر اتر پردیش میں درجنوں علماء اور حفاظ ہیں۔ لیکن ان دنوں ابا واحد عالم دین تھے۔ ان کی موجودگی میں لوگ ان سے مسئلہ مسائل پوچھتے او ران کی غیر موجودگی میں بالخصوص عورتیں اماں سے پوچھتیں۔
جب تک ابا نے گاؤں میں مدرسہ مدینۃ العلوم قائم نہیں کیا تھا مسجد میں عیدین کی نماز ہوتی۔ مدرسہ قائم ہونے کے بعد اس میں عیدین کی نماز ہونے لگی۔ ابا نے عورتوں کو بھی عید گاہ میں لانے کا سلسلہ شروع کیا۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ بارش کے دنوں میں عید یا بقرعید کو بارش ہوتی رہی۔ ایسے میں مرد تو کسی طرح عید گاہ پہنچ جاتے لیکن عورتیں نہیں پہنچ پاتیں۔ لہٰذا وہ مسجد میں عید کی نماز ادا کرتیں۔ اماں امامت کراتیں اور خطبہ بھی دیتیں۔
وہ بہت مذہبی تھیں۔ صوم و صلوۃ کی پابند تھیں۔ عام طور پر محلے میں اگر کسی بچے یا بڑے کے پیٹ میں درد ہوتا تو عورتیں نماز مغرب کے وقت کسی بچے کے ہاتھ گلاس میں پانی بھیج کر دم کرا لیتیں۔ اگر سر یا کان میں درد ہوتا تو تھوڑا سا سرسوں کا تیل کسی پیالی میں رکھ کر دم کرا لیتیں۔ اس پانی سے پیٹ کا درد اور تیل سے سر اور کان کا درد کافور ہو جاتا۔ ابا ہوتے تو ان سے دعا کرائی جاتی ورنہ اماں سے۔ غیر مسلم خواتین بھی پانی یا تیل پر دم کراتیں۔
کچھ ڈاکٹری سیکھنے کی وجہ سے اور کچھ فطری صلاحیتوں سے ان میں کئی خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ مثال کے طور پر ان کو زچگی میں بڑی مہارت تھی۔ دردِزہ کی شدت سے اندازہ لگا لیتیں کہ ولادت میں ابھی کتنا وقت ہے۔ پورے گاؤں میں کسی کے یہاں بھی ولادت ہونی ہوتی تو فوراً اماں کو بلایا جاتا۔ وہ جاتیں اور اگر ولادت کا وقت قریب ہے تو کام نمٹا کر ہی واپس آتیں۔
وہ بہت بہادر خاتون تھیں۔ ان دنوں شیطانی حرکتیں عام تھیں۔ کسی کو جن لگ گیا تو کسی کو شیطان اور کسی کو چڑئیل۔ کسی بچے کو شیطانی ہوا لگ گئی اور وہ مسلسل روئے جا رہا ہے۔ بالخصوص مغرب کے وقت کوئی نہ کوئی بچہ زور زور سے ضرور روتا۔ ایسے امراض کا علاج دعا ہی تھی۔ ایک بار میری عمر یہی کوئی پانچ چھ سال رہی ہوگی۔ اس وقت تک ہمارے مکان کا اگلا حصہ تعمیر نہیں ہوا تھا۔ صرف پچھلا حصہ بنا تھا۔
مٹی کی موٹی موٹی دیواریں اور کھپریل کا سائبان۔ تین کمرے اور ایک آنگن۔ عشا کی نماز کے بعد اماں مجھے اور میرے چھوٹے بھائی قمر جمال کو لے کر درمیان والے کمرے میں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ وہ کوئی کتاب پڑھ رہی تھیں۔ اسی دوران قمر نے کان میں درد کی شکایت کی اور زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ اماں مغربی دیوار پر لگے ہوئے لکڑی کے پٹرے پر کوئی دوا تلاش کرنے لگیں۔ اس وقت مٹی کا چراغ جلتا تھا۔
پٹرے پر کتابیں رکھی ہوئی تھی۔ دوسرا سامان بھی رکھا ہوا تھا۔ اماں ایک ہاتھ میں چراغ تھامے دوسرے ہاتھ سے دوا ڈھونڈ رہی تھیں کہ چراغ کی لو نے کسی کاغد کو پکڑ لیا۔ پھر کیا تھا۔ دیکھتے دیکھتے کتابیں جلنے لگیں۔ انھوں نے بڑی مشکل سے آگ پر قابو پایا۔ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ آج ہی کیوں آگ لگ گئی۔ اس سے قبل انھوں نے شام کے وقت کہیں کسی کھیت میں کوئی شیطانی حرکت دیکھی تھی۔
ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ہو نہ ہو قمر کے کان کا درد بھی شیطانی حرکت ہے۔ بس پھر کیا تھا۔ آگ پر قابو پانے کے بعد انھوں نے قمر کو زور زور سے ڈانٹنا شروع کر دیا کہ اگر آئندہ کبھی کان درد کی شکایت کی تو خیریت نہیں ہوگی۔ وہ دراصل قمر کو نہیں بلکہ شیطان کو ڈانٹ رہی تھیں۔ قمر نے ڈ ر کے مارے رونا بند کر دیا۔ پھر کبھی اس نے کان درد کی شکایت نہیں کی۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا مکان کی دیواریں مٹی کی تھیں۔ جن میں دراڑیں بھی پڑی ہوئی تھیں۔ کئی بار ان دراڑوں سے سانپ بھی نکلتے۔ مجھے یا دہے ایک بار جنوبی اور مغربی کمرے کی مشترکہ دیور کی ایک دراڑ میں رات کے وقت کوئی چیز چمکتی ہوئی نظر آئی۔ غور سے دیکھا گیا تو وہ سانپ تھا۔ لوگوں کو آواز دی گئی۔ کئی لوگ لاٹھی اور بھالا لے کر آگئے۔ کسی نے دو منہ والا بھالا بھی بنا رکھا تھا جسے زیرے والا بھالا کہا جاتا تھا۔ اس کو سانپ کے جسم میں گود کر کھینچتے تو وہ اس سے نکل نہیں پاتا۔
اس دن بھی اسی بھالے سے سانپ مارا گیا۔ ایک بار میں رات کے کھانے کے بعد جنوبی کمرے میں چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ ہمارے پھوپھا بھی اس وقت کھانا کھا کر آگئے تھے۔ وہ بھی اسی چارپائی پر تھے۔ اماں نیچے بیٹھ کر اپنے اور پھوپھا کے لیے پان بنا رہی تھیں۔ اچانک میرے پیر پر رسی جیسی کوئی چیز گری۔ میں نے غیر ارادی طور پر پیر کو زور سے جھٹکا تو اماں کے قریب تقریباً دو ڈھائی فٹ کا ایک سانپ گرا۔ اماں چیخیں اور پھر پھوپھا نے جھٹ سے چھلانگ لگائی۔ وہیں ایک لاٹھی تھی۔
انھوں نے اس سے سانپ کا سر کچل دیا۔ ایسے واقعات ہوتے رہتے تھے۔ لیکن اماں ہم لوگوں کو لے کر بے خوفی کے ساتھ رہتی رہیں۔ چراغ سے آگ لگنے کے واقعات عام تھے۔ لیکن ان واقعات کا اثر تادیر قائم نہیں رہتا۔ یہ سب معمول کی باتیں تھیں۔
گاؤں ہی میں اماں کا مائکہ اور سسرال ہونے کی وجہ سے سب رشتے دار ہو گئے تھے۔ بچے ان کو بوا کہتے، ہم عمر افراد دیدی اور بڑی عمر کے لوگ سہیمہ بیٹی۔ دیدی یہ کام۔ دیدی وہ کام۔ سہیمہ بیٹی تم سے فلاں کام تھا۔ تم سے فلاں ضرورت تھی۔ ہندووں کی رسموں کے اثرات کی وجہ سے بڑی بہن کو آپا یا باجی کے بجائے دیدی کہتے۔ اسی طرح پھوپھی کو بوا کہا جاتا۔ لیکن ان رشتوں میں جو مٹھاس اور خلوص کی جو آمیزش تھی وہ اب آپا، باجی یا پھوپھی میں نہیں ہے۔ پورے گاؤں میں ان کی بڑی عزت تھی۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی عزت کرتے۔
ان دنوں لوگ ایک دوسرے کا کتنا خیال رکھتے تھے اور ان میں کتنی محبت تھی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اماں کا روزانہ کا یہ معمول تھا کہ رات کے کھانے کے وقت آس پڑوس میں دیکھ لیا کرتی تھیں۔ خاص طور پر ہمارے ہمسائے مستان چاچا کے والد بہریچی بابا اور اماں دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ بہریچی بابا نپونا کرتے تھے۔ نپونا یعنی کسی بازار میں گئے اور جو لوگ اپنے گھر سے تھوڑا بہت غلہ لے کر بازار میں جاتے کہ انھیں فروخت کرکے ضروری اشیاء خریدی جائیں اس غلے کو خریدنے کے عمل کو نپونہ کہتے ہیں۔
بہریچی بابا روزانہ کسی نہ کسی ہفتہ واری بازار میں جاتے۔ واپسی سے قبل وہ بچوں کے لیے مٹھائی ٹائپ کی کوئی چیز خریدتے۔ اپنے گھر مغرب اور عشا کے درمیان پہنچتے۔ سب سے پہلا کام یہ کرتے کہ اس مٹھائی کو رومال سے کھولتے اور ا س میں سے کچھ حصہ نکال کر کسی بچے کے ہاتھ اماں کے پاس یہ کہہ کر بھیجتے کہ یہ سہیمہ بیٹی کو دے آؤ۔
اماں واپسی کے ہاتھ سے گھر میں پکے کھانے میں سے کچھ حصہ بھجوا دیتیں۔ اس کے علاوہ وہ اس کا بھی التزام کرتیں کہ اگر کھانے میں اگر کوئی اچھی چیز بنی ہے تو ان کے گھر ضرور پہنچائی جائے۔ پیار محبت کی یہ روایت میں نے برسوں تک چلتے دیکھی۔اماں دو بار دہلی آئی تھیں۔ ایک بار 1991 میں جب میرے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی اور دوسری بار غالباً 2003 یا 2004 میں۔ پہلی بار تنہا آئی تھیں۔ بڑے بھائی حماد انجم ان کو لے کر آئے تھے۔
دوسری بار ابا بھی ساتھ میں آئے تھے۔ دونوں بار ہم نے حسب استطاعت ان لوگوں کی خدمت کی۔ لیکن جیسی کرنی چاہیے ویسی نہیں کر سکے۔ اماں نے کبھی اپنے خرچ کے لیے ہم لوگوں سے پیسے نہیں مانگے۔ شاید ان کو یہ لگتا رہا ہوگا کہ پتہ نہیں یہ لوگ کن حالات میں ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری فرمائش انھیں کسی آزمائش میں ڈال دے۔
لہٰذا ہم لوگ خود ہی ان کا خرچ انھیں دے دیا کرتے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو مالی کشادگی عطا کی اور ہم اس لائق ہوئے کہ والدین اور بالخصوص اماں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں تو انھوں نے دوسری دنیا آباد کر لی۔ کاش اللہ نے انھیں اور عمر دی ہوتی اور ہمیں ان کی خدمت کا موقع مرحمت کیا ہوتا تو شاید ہمارے نامۂ اعمال میں کچھ نیکیوں کا اضافہ ہو جاتا۔ اقبال نے کہا تھا:
کس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظار
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار
خاکِ مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا
دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی



