
محمد مصطفی علی سروری
31؍ اگست 2021ء کو دنیا بھر کے میڈیا نے افغانستان سے آخری امریکی فوجی کے نکل جانے کی خبر نشر کی۔ یہ ایک اہم بین الاقوامی خبر تھی۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کی یہ ایک اہم بلکہ تاریخی خبر تھی۔ جس کو امریکہ کی شرمناک شکست سے تعبیر کیا جارہاہے۔ قارئین اس اہم ترین خبر کے ساتھ سرخیوں میں ایک اور خبر بھی شامل تھی۔
بی بی سی، سی این این اور یگر عالمی نشریاتی اداروں نے بھی چین (China) سے آنے والی ایک اور خبر کو بھی 31؍ اگست کی سرخیوں میں شامل رکھا جس سے اس خبر کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔31؍ اگست کو نشر کردہ خبر میں CNN نے بتلایا کہ چین کی حکومت نے ملک میں آن لائن گیم کھیلنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ خبر کی تفصیلات کے مطابق چین میں اب کم عمر بچے صرف ایک گھنٹہ ہی آن لائن گیم کھیل سکتے ہیں۔
ساتھ ہی یہ ایک گھنٹہ کونسا اور کب ہوگا اس کی بھی نشاندہی کردی گئی ہے۔ کم عمر بچے شام میں 8 بجے تا 9 بجے کے درمیان ہی آن لائن گیم کھیل سکتے ہیں۔ یہ گیم صرف اختتامِ ہفتہ (Weekend) اور جمعہ کے دن ہی کھیلا جاسکے گا۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب چین کی حکومت نے بچوں کے لیے آن لائن گیم کھیلنے پر پابندی عائد کی ہے۔
سال 2019ء کے دوران بھی چینی حکومت نے پورے ہفتے کے دوران بچوں کو آن لائن گیم کھیلنے کے لیے صرف 90 منٹ کا دورانیہ مقرر کردیا تھا اور اختتام ہفتہ پر بچے پہلے تین گھنٹے تک گیم کھیل سکتے تھے۔ قارئین آخر چین کی حکومت کو بچوں کے آن لائن گیم کھیلنے پر پابندیاں کیوں لگانی پڑی وہ بھی جان لیجئے۔ CNN کی رپورٹ کے مطابق چین میں بچوں کو آن لائن گیم کھیلنے کی لت لگ چکی تھی جو کہ خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔
اس لت سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بالآخر حکومت کو اس طرح کے اقدامات کرنے پڑے۔ بچے آن لائن گیم کھیلنا چاہتے ہیں تو اب انہیں اپنا سرکاری شناختی کارڈ استعمال کرنا پڑے گا اور اب کوئی فرد بھی کسی فرضی آئی ڈی کی مدد سے گیم نہیں کھیل سکے گا۔ اس طرح کونسا بچہ کتنی دیر گیم کھیل رہا ہے اس کا ڈاٹا مکمل طور پر نگرانی کے لیے حاصل کیا جاسکے گا۔
2؍ ستمبر 2021ء کو اخبار دی ہندو نے AFP کے حوالے سے ایک اور خبر چین سے دی۔ خبر کی تفصیلات کے مطابق حکومت چین نے اب ملک میں ریالٹی ٹیالنٹ شو اور دیگر پروگراموں پر پابندی عائد کردی۔ حکومت چین نے الزام لگایا کہ اس طرح کے ریالٹی پروگرام نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے سبب بن رہے ہیں۔
قارئین یہ تو ہمارے پڑوسی ملک چین سے آنے والی خبریں ہیں لیکن بطور مثال ان خبروں کا تذکرہ اس لیے موزوں ہے کہ دنیا بھر میں آج چین جس تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کر رہا ہے اس پر سب حیران اور پریشان ہیں۔ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق کرونا کویڈ 19 کے سبب دنیا کی بیشتر معیشتیں سست روی کا شکار ہیں لیکن چینی معیشت ان نامساعد حالات کے باوجود بھی بدستور ترقی پذیر ہی ہے۔
امریکہ کے بعد چین کا شمار دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت میں ہوتا ہے اور تیسرے نمبر پر جاپان ہے۔پروفیسر ڈیلا لین، آسٹریلیا کی ملبورن یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت چین کی جانب سے حالیہ عرصے میں آن لائن گیم کھیلنے کے لیے بچوں پر جو پابندیاں عائد کی گئی، اس کا مقصد چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اس طویل مدتی منصوبہ کو کامیاب بنانا ہے جس کے تحت وہ چین کو دنیا کی سب سے طاقتور اور دولت مند مملکت بنانا چاہتے ہیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ چینی نوجوان غیر ضروری کاموں سے پرہیز کریں اور ملکی ترقی کے سفر کو تیز بنانے کے لیے کام کریں (بحوالہ اسکائی نیوز، آسٹریلیا کی 31؍ اگست کی رپورٹ)
یہ سال 2017ء کی بات ہے، لکھنؤ شہر کے مندر کے ایک پجاری، یو پی پولیس کے سائبر سیل سے رجوع ہوکر شکایت کرتے ہیں کہ کسی نے ان کے بینک اکائونٹ سے 18 ہزار کی رقم نکال لی ہے۔پجاری کی اس شکایت پر یو پی پولیس نے انکوائری شروع کی۔ ابھئے مشرا لکھنؤ سائبر سیل کے عہدیدار ہیں۔ انہوں نے اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتلایا کہ تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ پجاری جی کے فون نمبر کے ذریعہ ہی یہ رقم منتقل کی گئی ہے اور پھر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پجاری کا لڑکا اپنے والد کی اطلاع کے بغیر ان کا فون استعمال کر رہا ہے اور آن لائن گیم کھیلنے کے لیے اسی نے اپنے والد کا اکائونٹ استعمال کیا۔
پولیس کے حوالے سے بتلایا گیا کہ 8 سال کی عمر کا پجاری کا لڑکا پہلے تو آن لائن فری گیم یا کم خرچہ کا گیم کھیلنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ آن لائن گیم میں اس کی دلچسپی بڑھتی گئی اور پھر اس نے والد کی اجازت اور اطلاع کے بغیر گیم کھیلنے کے لیے ان کے بینک اکائونٹ سے پیسے بھی ٹرانسفر کرنے لگا۔
صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دیگر ملکوں میں بھی بچوں کو آن لائن گیم کھیلنے کی لت پڑ چکی ہے اور اسی برس جون 2021ء کو لندن سے ایک خبر آئی تھی کہ لندن میں رہنے والے ڈاکٹر محمد مرتضیٰ کو اس وقت تعجب ہوا جب ان کے بینک اکائونٹ سے ایک ہزار تین سو پائونڈ کی رقم نکالی گئی۔ ای میل چیک کرنے پر پتہ چلا کہ ان کے سات سالہ لڑکے نے آئی فون پر آن لائن گیم کھیلنے کے لیے ادائیگی کی ہے۔
آن لائن گیم کھیلنے اتنی رقم خرچ ہوگئی کہ ڈاکٹر مرتضیٰ کو اب اپنی گاڑی فروخت کر کے اس رقم کا انتظام کرنا پڑا۔ انہوں نے والدین سے گذارش کی کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ آن لائن گیم کی کمپنیوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ (انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ۔ مطبوعہ 30؍ جون 2021)
قارئین آن لائن گیمس کو دراصل کویڈ کی وباء کے سبب زبردست فروغ حاصل ہوا ہے۔ کویڈ کے پھیلائو کو روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈائون کے دوران ہندوستانیوں کی بہت بڑی تعداد آن لائن پلیٹ فارمس سے رجوع ہونے لگی۔
ایک جائزہ کے رپورٹ کے مطابق 45 فیصدی ہندوستانی عوام اپنے موبائل کے ذریعہ آن لائن گیمس کھیلنے لگے ہیں اور یہ اعداد و شمار لاک ڈائون کے دوران اکٹھا کیے گئے ہیں۔ (بحوالہ مڈ ڈے ڈاٹ کام۔ 2؍ ستمبر 2021ء کی رپورٹ)
چین کے سرکاری اخبار کے مطابق آن لائن گیم کھیلنے کی عادت دراصل نوجوان نسل میں افیم کے نشے کی طرح پھیلتی جارہی ہے اور حکومت چین اس کے سدباب کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے اور آن لائن گیم کھیلنے پر مختلف پابندیاں اس سلسلے کی کڑی ہے۔
قارئین سویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ واحد سوپر پاور باقی رہ گیا تھا۔ #افغانستان میں امریکہ کی #شرمناک شکست کے بعد عالمی سطح پر #چین ہی #امریکہ کے لیے ایک زبردست چیالنج بن گیا ہے اور اپنے نوجوانوں کو ہر طرح کی بری عادات سے محفوظ رکھنے کے لیے قانون سازی اور پابندیاں بھی اسی مقصد کے حصول کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ہیں۔ یہ تو چین کی بات رہی۔
خود ہمارے شہر میں نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ کم عمر بچوں میں آن لائن اور آف لائن #گیم کھیلنے کا شوق کس قدر عام ہوگیا ہے ذرا اندازہ لگایئے۔4؍ ستمبر 2021ء ہفتہ کا دن تھا اور دن گذر چکا ہے۔ رات ہوچکی ہے اور یوں کہئے کہ #موبائل فون میں تو اگلے دن کی تاریخ یعنی 5؍ ستمبر کی تاریخ آرہی تھی۔
شہر حیدرآباد کے علاقے منگل ہاٹ کا منظر ہے۔ گھر کے باہر واقع چبوتروں پر پانچ چھ نوجوان بیٹھے کچھ کھیل رہے ہیں اور یہ کھیل موبائل #فون کے اسکرینوں پر کھیلا جارہا ہے۔
اخبار دی ہندو نے 6؍ ستمبر 2021ء کی اشاعت میں ایک خبر حیدرآباد سے شائع کی جس کی سرخی تھی Man killed by friends after online game۔ خبر کی تفصیلات میں بتلایا گیا کہ منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن کے حدود میں 5؍ ستمبر کی ابتدائی ساعتوں میں آن لائن Ludo گیم کھیلنے ے دوران پانچ نوجوانوں کے درمیان جھگڑا ہوجاتا ہے۔
خبر کے مطابق لوڈو کھیلنے کے دوران لگائے جانے والی جوے کی رقم پر شروع ہونے والے اس جھگڑے نے جلد ہی لڑائی کی شکل اختیار کرلی جس کے دوران محمد انیس نام کے ایک 25 سالہ نوجوان کو چاقو مار کر ہلاک کردیا گیا۔
پولیس کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ کھیلنے کے دوران ان نوجوانوں نے شراب نوشی بھی کی تھی اور جب جوا کھیلنے کی رقم کو لے کر جھگڑا بڑھ گیا تو ان لوگوں نے ایک دوسرے کو چاقو سے مارنا شروع کردیا۔ جس کے نتیجے میں ایک نوجوان کی موت واقع ہوگئی اور دیگر دو نوجوان زخمی ہوگئے۔
چین کی حکومت نے تو اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے قانون بنادیا اور پابندیاں لگادی۔ ہم مسلمانوں کو بھی اس حوالے سے سونچنا ہوگا اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ہمارے نوجوان بھی اس بری لت سے محفوظ رہ سکیں۔
قارئین یہ اور اس طرح کی خبریں ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آن لائن گیم کھیلنے کی عادت ہمارے نوجوانوں میں ایک بری لت کی شکل میں پھیل گئی ہے۔
کویڈ کی وباء نے ہمارے کم عمر بچوں بھی اس لت کا عادی بنادیا ہے جب ہم لوگوں نے خود بخوشی اپنے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون تھمادیا ہے۔یاد رکھئے اسمارٹ فون کے استعمال کرنے سے بچے اسمارٹ نہیں بنتے بلکہ ماں باپ کی فکر اور اچھی تربیت انہیں #دنیا اور #آخرت میں سرخرو بناتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم ماں باپ کو اپنی اولاد کی تربیت کی ذمہ داریوں سے صحیح طریقے سے عہد برآ ہونے والا بنائے اور ہماری اولاد کے ساتھ ہمیں ان لوگوں کا راستہ پر چلائے جن پر اس نے انعام کیا ہے۔ آمین۔ یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



