سیاسی و مذہبی مضامین

دین کی دعوت جماعت کی نہیں ہر فرد کی ذمہ داری

محمد مصطفی علی سروری
سید إسحٰق کی عمر 63 برس ہے۔ وہ راجیو نگر، میسور، کرناٹک کے رہنے والے ہیں۔ سید إسحٰق اگرچہ خود پڑھنا نہیں جانتے لیکن ہر روز صبح 7 بجے وہ دو ایک نہیں بلکہ 22 اخبارات خرید کر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیتے ہیں۔جی ہاں قارئین میسور، کرناٹک کے رہنے والے سید اسحاق نے اگرچہ خود تعلیم حاصل نہیں کی ہے لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد بنالیا ہے کہ وہ دوسروں کو خاص کر نوجوانوں کو تعلیم سے جوڑیں اور ان لوگوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کریں۔
سید إسحٰق کا تعلق کسی بڑے گھرانے سے بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ خود بھی محنت مزدوری کرتے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی سے ہی وہ ایک لائبریری چلاتے ہیں۔ راجیو نگر، سیکنڈ اسٹیج، عمار مسجد کے قریب ان کی لائبریری میں 11 ہزار کتابیں تھیں۔ جی ہاں میں نے ’’تھیں‘‘ لکھا ہے۔ کیونکہ 8؍ اپریل 2021ء کو سید إسحٰق کی یہ ذاتی لائبریری آگ لگ جانے کے سبب جل کر خاکستر ہوگئی۔
اخبار انڈین ایکسپریس نے 12؍ ستمبر 2021ء کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کی تفصیلات میں بتلایا گیا ہے کہ سید اسحق گذشتہ 10 برسوں سے اپنے جیب کے خرچ سے علاقے میں لائبریری چلا رہے تھے جس میں اخبارات کے علاوہ ہزاروں کتابیں موجود تھیں۔ لیکن بعض شرپسندوں نے اس لائبریری کو جلاکر راکھ بنادیا ۔
سید إسحٰق کی لوگوں میں کتب بینی اور اخبار بینی کو فروغ دینے کی اس دیوانہ وار کوشش اور پھر شرپسندوں کی جانب سے ان کے اس خزانہ کو جلادیئے جانے کی خبر میڈیا کے ذریعہ عام ہوئی تو دنیا بھر سے لوگوں نے سید اسحق کے لیے اپنا دست تعاون دراز کیا تاکہ وہ اپنی لائبریری دوبارہ شروع کرسکیں۔
میسور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (ایم یو ڈی اے) کی زمین پر سمنٹ کے عارضی بنچس اور اپنی محنت سے ریاکس بناکر وہ لائبریری چلا رہے تھے اور جب یہ لائبریری جلادی گئی تو لوگوں نے اسحق صاحب کو عطیہ جات دیئے اور عطیات کی یہ رقم 35لاکھ ہوگئی تو میسور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے اس سے باضابطہ طور پر ایک لائبریری کی عمارت تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا جو کہ دفتری امور کے سبب ابھی تک پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ (بحوالہ اخبار انڈین ایکسپریس ۔ 12؍ ستمبر 2021 کی رپورٹ)
قارئین ذرا اندازہ لگائیں کہ ایک ایسا شخص جو کہ خود نہیں پڑھ سکا اور محنت کر کے اپنی زندگی گذارتا ہے وہ دوسروں کو پڑھانا چاہتا ہے اور اپنے خون پسینہ کی کمائی خرچ کر کے اوروں کے لیے سہولیات پیدا کر رہا ہے۔ جس کے جذبۂ خدمت سے متاثر ہونے والوں میں دنیا بھر سے لوگ شامل ہیں۔
لوگوں نے جب اپریل 2021ء میں سید إسحٰق  کے اس کتب خانہ کو جلادیا تو 63 سالہ یہ شخص تھک کر ہار مان سکتا تھا لیکن یہ صاحب جب دوبارہ اپنے کتب خانہ کو کھولنے اور شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو دنیا بھر سے لوگوں نے ان کے لیے 8ہزار کتابیں بھیجیں۔ اب وہ حکومت کی مدد سے باضابطہ نیا کتب خانہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
قارئین 63 سالہ سید إسحٰق  کی جدو جہد سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی ذات سے بالاتر ہوکر دوسروں کی خدمت کے بارے میں سونچنا اور کام کرنا چاہئے۔ اگر ہم اپنے لیے تعلیم کو پسند کرتے ہیں اور ہم تعلیم حاصل نہیں کرسکے تو کیا ہم دوسروں کی تعلیم کے لیے کام کرسکتے ہیں یا نہیں۔ سید اسحق صاحب نے عملی طور پر اس کی مثال قائم کی۔
بہت سارے نوجوان اپنی زندگی میں بہت سارے کار خیر انجام دینا چاہتے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب ان کے ہاں دولت، اثاثے اور بینک بیالنس جمع ہوجائے تو وہ اپنے رفاحی کام شروع کرسکیں۔ اگر مزدوری کر کے اپنا پیٹ بھرنے والے میسور کے سید إسحٰق بھی یہی سونچتے کہ ان کے پاس پیسے، بینک بیالنس آجائیں تو وہ لوگوں کی بیداری کا کام کرسکیں گے تو یقین جانئے 63 سال کی عمر کو پہنچ کر بھی سید إسحٰق صرف اپنے لیے ہی جیتے تھے اور ان کی زبان پر تو شکواہ ہی ہونا چاہیے تھا کہ ان کے والدین نے ان کو تعلیم نہیں دلوائی۔
اگر ان کے والدین انہیں تعلیم دلواتے تو وہ آج دوسروں کو تعلیم سے جوڑنے کا کام کرتے، خود اچھا کماتے، بینک بیالنس جمع کرتے اور اپنی دولت سے غریبوں میں ناخواندہ لوگوں میں تعلیم کے لیے شعور بیداری کے کام کرتے۔سید إسحٰق نے ثابت کیا کہ دوسروں کی مدد کرنے کے لیے بینک بیالنس، مال و دولت کی بالکل بھی ضرورت پیش ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف کی پہلی ہی حدیث مبارکہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے۔
ایسے میں سید إسحٰق صاحب کی نیت خالص تھی اور انہوں نے اس حوالے سے اپنے طور پر کوشش کی اور پھر ان کے لیے مدد کے راستے ہموار بھی ہوتے گئے ہیں۔ ایک ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کی بات ہے جو آٹھ ہزار کی نوکری اس لیے ٹھکرا رہے ہیں کہ انہیں 20 ہزار کی نوکری چاہیے یا پھر انہیں باہر جاکر روزگار تلاش کرنا ہے۔
اور باہر کے حالات کیسے بدلتے جارہے ہیں اس کے متعلق سبق ویب سائٹ نے المدینہ اخبار کے کالم نگار ڈاکٹر عبداللہ صادق دصلان کے حوالے سے لکھا کہ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ وہ جدہ کے ایک ہسپتال گئے تھے۔ ان کا ڈرائیور پارکنگ میں تھا لیکن وہ جب واپس آئے تو وہاں ڈرائیور نہیں تھا۔ مجبوراً انہیں اوبر ٹیکسی بک کرنی پڑی۔ 
ان کے مطابق اوبر کا ڈرائیور حیران کن پوشاک پہنا ہوا تھا۔
ساتھ ہی وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا مالک اور شاندار تہذیب کا نمائندہ لگ رہا تھا۔ اُس سے بات کی تو پتہ چلا وہ جس اوبر ٹیکسی میں سوار ہیں اس کا ڈرائیور امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری پاس کیا ہے اور اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ واپس اپنے وطن سعودی عرب آکر یہاں کی ایک یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کام کر رہا ہے۔
جی ہاں اوبر کا یہ ڈرائیور ابھی سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی میں بطور پروفیسر کارگذار ہے اورزائد آمدنی کے لیے پارٹ ٹائم جاب کے طور پر وہ اوبر ٹیکسی چلاکر روزانہ 5 سو ریال کمالیتا ہے۔سعودی پروفیسر نے دراصل اپنے لیے ایک گھر خریدا ہے جس کی ماہانہ قسط 15ہزار ریال ہے اور بطور پروفیسر کام کرتے ہوئے وہ جتنی تنخواہ حاصل کرتا ہے وہ ناکافی ہے۔
اس لیے وہ ٹیکسی چلاکر اضافی آمدنی حاصل کر رہا ہے۔ اردو نیوز، جدہ نے 14؍ ستمبر کو اس حوالے سے باضابطہ خبر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ اوبر کے سعودی ڈرائیور کا قصہ سب لوگوں کے لیے بہت بڑا سبق رکھتا ہے۔قارئین سعودی شہری اب بدلتے ہوئے حالات اور تقاضوں سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے لگے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اپنا احتساب کریں۔ یہ صرف سعودی عرب کا کوئی ایک قصہ نہیں ہے، پورے مشرق وسطیٰ میں روزگار کے نئے چیالنجس سے نمٹنے کی پالیسیاں اور پروگرام بنائے جارہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے نکلنے والے انگریزی اخبار خلیج ٹائمز نے 5؍ ستمبر 2021ء کو دوبئی سے خبر دی ہے کہ ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت ہیں۔ انہوں نے اطلاع دی کہ ملک میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے اب 15 برس کے بچوں کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ اجازت ان بچوں کو ہوگی جو ابھی طالب علم ہیں۔ یہ بچے اس اجازت سے نہ صرف کام کرنا سیکھ جائیں گے بلکہ امارات کی معیشت کے لیے بھی اثاثہ ثابت ہوں گے۔ اماراتی وزیر کے مطابق وہاں پر ابھی تک 18 سال سے کم عمر بچوں کو ہی والدین اسپانسر کرسکتے تھے لیکن اب گرین ویزہ رکھنے والے لوگ اپنے بچوں کو 25 برس کی عمر تک اسپانسر کرسکیں گے۔
ہندوستانی مسلمان کیا کر رہا ہے۔ ذرا غور کریں آر ایس ایس، بی جے پی کو کوسنے سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ مسلمانوں کو آج سب سے بڑی شکایت قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور انصاف کے لیے قائم ادارں سے ہے۔ کتنے ادارے ہیں جو مسلمانوں کی پولیس اور نیم فوجی دستوں میں شمولیت کے لیے تربیت دے کر ٹھوس کام کر رہے ہیں۔
کتنے مسلم اقلیتی ادارے ہیں جہاں پر مسلمانوں کو وکیل بننے اور وکالت کی تعلیم کے لیے ترغیب اور اسکالر شپس دی جارہی ہیں۔ضرورت آج اس بات کی ہے مسلمان خود دین اسلام کی صحیح تعلیمات سے آراستہ ہوں اور وقت کی نزاکت کو اور امت مسلمہ کو درپیش چیالنجس کو مد نظر رکھتے ہوئے خدمت خلق کے راستے کو اختیار کریں تاکہ برادران وطن کی غلط فہمیاں دور ہوں۔
ورنہ میڈیا تو دیگر برادران وطن کے ذہنوں میں ہر صبح و شام فرقہ واریت، تعصب اور نفرت کا زہر پھیلاتا جارہا ہے۔ دینی جماعتیں تو اپنا کام کر رہی ہیں۔ اب ہر مسلمان کا بھی فرض ہے کہ وہ بڑے ڈپلومیٹک انداز میں خدمت خلق کے سہارے برادرانِ وطن کے دلوں کو موم کریں۔ 
اسلام کی سچی تصویر اور نبی کریم ﷺ کا پیغامِ محبت عام کریں۔ ساتھ ہی محنت کے راستے کامیابی کی منزلیں طئے کرنے والوں کی ہمت افزائی ہو۔ تاکہ معاشی مشکلات سے باہر نکلنے کے لیے مسلم نوجوان محنت سے جی نہ چرائیں او ر جرائم کے راستے سے اجتناب کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کریں اور نیکی اور بھلائی کا کام شروع کرنے کے لیے ارادہ کریں۔ صرف وسائل کا انتظار نہ کریں۔ 
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button