محمد مصطفی علی سروری
سال 2019-20ء میں حکومت تلنگانہ نے اسکولی نصاب کے تحت بہت ساری درسی کتابوں کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے تیار کروایا اور آٹھویں جماعت کی سماجی علم کی کتاب بھی اس میں شامل ہے۔ تعلیمی سال 2019-20ء سے یہ کتاب اسکول میں طلبہ کو پڑھائی جارہی ہے۔
پورے ایک سال کے بعد ستمبر 2021ء کے دوران کسی صاحب نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ سے ایک خبر وائرل کردی کہ حکومت تلنگانہ کی آٹھویں جماعت کی سماجی علم کی کتاب میں ایک قابل اعتراض تصویر شامل کردی گئی ہے۔ اس کے خلاف مسلمانوں کو بطور احتجاج پولیس میں شکایت درج کروانا چاہیے۔
بس تھوڑے ہی دنوں میں مسلمانوں کی تنظیموں نے اس اطلاع کو خوب وائرل کردیا۔ یہاں تک کہ اخبارات نے بھی اس اطلاع کو کوریج دیا۔قارئین کرام یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب کسی نصابی کتب کے حوالے سے کوئی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہو۔ سابق میں ایسے کئی تنازعات اٹھے جب نصابی کتابوں میں قابل اعتراض مواد کی اشاعت پر مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کیا اور قانون کے دائرے میں کاروائی کا مطالبہ کیا۔
لیکن وقفہ وقفہ سے اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں اور مسلم افراد و دانشور وقتی طور پر اس طرح ے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ لیکن میری دانست میں ا ب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور ساتھ ہی اس طرح کے واقعات کے اعادہ کو روکنے کو یقینی بنائیں۔
آیئے سب سے پہلے موجودہ تنازعہ کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ مسئلہ کے اسباب کی صحیح سے تشخیص کی جاسکے۔ سب سے پہلی بات کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم درسی کتب اور معاون درسی کتب کے درمیان تمیز نہیں کرپائے۔ قابل اعتراض تصویر ایک معاون درسی کتب Question Bank میں شائع ہوئی۔
Question Bank سرکاری طور پر شائع نہیں کیا جاتا بلکہ خانگی پبلشرز شائع کرتے ہیں۔جس کتاب میں قابل اعتراض تصویر شائع ہوئی وہ بھی دراصل سماجی علم کے مضمون برائے جماعت ہشتم کے طلبہ کے لیے خانگی پبلشر سے شائع کردہ معاون درسی کتب یعنی Question Bank میں تھی۔ اس کتاب کو VGS پبلشر کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔
جو کہ وجئے واڑہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کتاب کو ریاستی سطح کے سماجی علم کے مضمون میں مہارت رکھنے والوں کی جانب سے تیار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور کسی کا نام نہیں لکھا گیا ۔ ہاں انگریزی میں ایک سطر A team of State level Experts لکھ دی گئی۔ اس کتاب میں جملہ (406) صفحات شامل ہیں جس میں 6 مرکزی موضوعات اور 25 ذیلی موضوعات پر سوالات کے جوابات تیار کیے گئے ہیں جن کی مدد سے کوئی بھی طالب علم آٹھویں جماعت کے سماجی علم کے مضمون کی بہترین طور پر تیاری کرسکتا ہے۔
اس کوسچن بینک کے صفحہ نمبر 196 پر چیاپٹر 11 میں National Movement the last phase 1919-1947 کے تحت جملہ 5 تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ پہلی تصویر تحریک عدم تعاون کی ہے۔ دوسری تصویر میں گاندھی جی ستیہ گرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، تیسری تصویر میں کانگریس کے قائدین ہیں۔ چوتھی تصویر دہشت گرد کی ہے اور پانچویں تصویر تحریک شہری نافرمانی کی ہے۔
اصل تنازعہ چوتھی تصویر پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ دہشت گرد کی جو تصویر شامل اشاعت کی گئی ہے وہ ایک ایسے نقاب پوش شخص کی ہے جو ایک ہاتھ میں قرآن مجید تھاما ہوا ہے، دوسرے ہاتھ میں ہتھیار اٹھایا ہوا ہے۔قارئین جب ہم کتاب کے گیارہویں چیاپٹر کے اصل عنوانات اور تصویر کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد کی تصویر بالکلیہ غیر موزوں محسوس ہوتی ہے کیونکہ 1919 تا 1947 کے دوران چلائی جانے والی قومی تحریکوں میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی عنصر یا موضوع ہی نہیں تھا۔
خود گاندھی جی کو بھی ایک سا ل بعد 30؍ جنوری 1948ء کو قتل کیا گیا تھا۔ اس پس منظر میں دہشت گرد کا ذکر بالکل بھی ضروری نہیں تھا۔پھر کیا وجہ تھی کہ کوسچن بینک میں اس موضوع کے تحت ایک دہشت گرد کی تصویر کو شامل کیا گیا؟
2 -غیر دانستہ طور پر اس طرح کی تصویر کو شامل کردیا گیا۔
3 -کن افراد یا لوگوں نے طئے کیا کہ ایک ایسے دہشت گرد کی تصویر کو شامل کرنا چاہیے جس نے اپنے ہاتھ میں قرآن اٹھایا ہوا ہو؟
اگر دانستہ طور پر یہ حرکت کی گئی ہے تو یقینا ایسے افراد کے خلاف قانون کے دائرے میں ہر ممکنہ کاروائی کی جانی چاہیے۔
غیر دانستہ طور پر ایسی حرکت ہوئی ہو تو تب بھی اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ آئندہ سے اس طرح کی حرکات کا اعادہ نہ ہو۔ کیونکہ عجلت میں کام کرنے کے سبب غلطی ہوگئی ہو۔VGS کے اس کوسچن بینک میں ان لوگوں کے نام نہیں ہے جنہوں نے اس کی تیاری میں ہاتھ بٹایا ہے۔
قارئین کرام یہ جاننا اور سمجھنا ضروری ہے کہ اسکول کی کتابیں خاص کر درسی کتابوں کو کیسے تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس مسئلے کی جڑ تک پہنچا جاسکے۔ اس کے لیے میں آٹھویں جماعت کی سماجی علم کی کتاب کی ہی مثال دینا چاہوں گا تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔
آٹھویں جماعت کی سماجی علم کی کتاب کی تیاری حکومت تلنگانہ کی جانب سے State Council of Educational Research and Training (SCERT) کو دی گئی۔
SCERT نے سماجی علم کی کتاب کی تیاری کے لیے ایڈیٹرس کا ایک باضابطہ بورڈ تشکیل دیا تھا جس میں 15 اراکین اور ایک آئی پی ایس عہدیدار شامل تھا۔ ان اراکین میں 9 پروفیسرس بھی شامل تھے جو اکنامکس، جیاگرافی، ہسٹری کے علاوہ پولیٹیکل سائنس کے مضامین سے تعلق رکھتے تھے اور یونیورسٹی آف حیدرآباد ، کاکتیہ یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی جیسی جامعات سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ تو صرف ایڈیٹرس کی فہرست تھی جس میں تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ایک بھی مسلمان شامل نہیں ہے۔ یہ تو وہ ٹیم ہے جو کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے نصاب کی تیاری کے لیے بنائی گئی ہے۔ کسی بھی نصابی کتاب کی تیاری کے لیے صرف ایڈیٹرس ہی نہیں ہوتے ہیں بلکہ رائٹرس Writers کی بھی ایک ٹیم ہوتی ہے۔
تلنگانہ حکومت کی جانب سے Social Studies کی آٹھویں جماعت کی کتاب کی 29 ایسے ماہرین کو شامل کیا گیا جو سماجی علم میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان میں بھی صرف ایک ہی اسکول اسسٹنٹ ایس رحمت اللہ، ضلع پریشد ہائی اسکول، بھکاراپیٹ، کڑپہ مسلمان تھے جو بطور رائٹرس کتاب کی تیاری میں شریک تھے۔ بقیہ لوگوں میں ایک پروفیسر اور 27 اسکول اسسٹنٹ شامل ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے۔ حالیہ عرصے میں سماجی علم کی جس کتاب میں متنازعہ تصویر کا ذکر ہو رہا ہے وہ حکومت تلنگانہ کی شائع کردہ نہیں ہے اور ہم حکومت تلنگانہ کی جانب سے شائع کردہ سماجی علم کی کتاب کے متعلق اس لیے ذکر کر رہے ہیں کہ قارئین اندازہ ہوجائے کہ کسی نصاب کی کتاب کی تیاری کے لیے کس قدر منصوبہ بندی اور کتنے زیادہ ماہر افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔
حکومت تلنگانہ کی سماجی علم کی کتاب میں تو صرف چھ عنوانات پر چوبیس مضامین شامل ہیں اور یہ کتاب 272 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں حصہ لینے والے ماہرین کی تعداد 45 سے تجاوز کرجاتی ہے۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ اس کتاب کی بنیاد پر جو Question Bank تیار کیا گیا ہے اس کے صفحات کی تعداد 400 سے زائد ہے تو آپ سونچ لیجے گا کہ کتنے افراد یا ماہرین نے مل کر اس کتاب کو تیار کیا ہوگا؟
آیئے غور کرتے ہیں اور پتہ کرتے ہیں کہ کتنے مسلمان ہیں جو سماجی علم کے مضامین میں مہارت حاصل کر رہے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی، امبیڈکر یونیورسٹی، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، کاکتیہ یونیورسٹی ان جامعات میں شعبہ اکنامکس، شعبہ ہسٹری، شعبہ جیاگرافی اور پولیٹیکل سائنس کے شعبوں میں کتنے مسلمان بطور ٹیچر برسرکار ہیں۔ آپ کے لیے ایک ہاتھ کی ایک انگلی ہی کافی ہوگی۔ یعنی برائے نام اور بالکل نہیں کے برابر مسلمان سماجی علوم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور بطور پروفیسر کارگذار ہیں۔
ہاں مسلمانوں کے ہاں انجینئرس اور ڈاکٹرس خاصی تعداد میں مل جائیں گے لیکن سماجی علوم کی تیاری کے لیے ان سے کوئی کام نہیں لیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ لوگ اس کام کے اہل ہوں گے۔ ایسے میں اگر حکومتی ادارے اور ایجنسیاں نصابی کتابوں یا معاون نصابی کتابوں کی تیاری کے لیے مسلم ماہرین کے نام طلب کرے تو مسلمان کہاں سے آئیں گے۔
اس لیے ضروری ہے کہ مسلم ادارے تھنک ٹینک انجمنیں آگے آئیں اور مسلمانوں میں سماجی علوم کی اہمیت اور ضرورت کو بھی اجاگر کریں۔ تاکہ اسکول اور کالجس کے نصاب (Syllabus) کو فرقہ واریت، جانبداریت اور ہر طرح کے زہر سے پاک رکھنے میں مسلمان بھی ہاتھ بٹاسکیں۔
نصاب میں معاون کتابوں میں مسلمانوں کو اگر دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جارہا ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔ کیونکہ اس طرح کے معاون نصابی کتابوں کو پڑھ کر اسکول کے بچوں کے ذہنوں میں فرقہ واریت اور تعصب کے جذبات کو بڑھاوا مل سکتا ہے۔
غلط نصاب اور غلط تاریخ پڑھ کر بچوں کے ذہن متاثر ہوسکتے ہیں۔ وہ مسلمان انٹلکچول جو اس مسئلے کو اہم سمجھتے ہیں تو انہیں اس کے مستقل حل کے لیے کم سے کم ایک Syllabus Advisory Board بنانا ہوگا جس میں سماجی علوم کے بشمول سبھی مضامین کے ماہرین شامل ہوں جو حکومت اور خانگی اداروں کو کتابوں کی اشاعت سے پہلے ان کے مواد کا جائزہ لے کر قابل اعتراض مواد یا تصویر کی نشاندہی کرتے ہوئے مواد کو ہر طرح کے تنازعات سے پاک بنائیں اور ناخوشگوار حالات ، واقعات کا سدباب کرسکیں۔
مسلمانوں کو اپنے امیج، اپنی تاریخ او راپنے متعلق خود فکر کرنی ہوگی۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں کرائے کے سپاہی کسی کام کے نہیں۔ اگر یہ جنگ ہماری ہے تو ہمیں خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر مسلمان سوشیل سائنس کے مضامین سے ایسے ہی غفلت برتیں گے تو مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
حالیہ واقعہ تو خانگی پرنٹر اور پبلشر کے حوالے سے سامنے آیا اور موجودہ حالات میں جب اکثر ادارے اور انجمنیں تاریخ کو اپنے طور پر اپنے انداز میں اور اپنے مفادات کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کرنا چاہ رہے ہیں تو احتیاط ضروری ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو اپنی تعلیمی ترجیحات صحیح طئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے لیے اس کام کو آسان بنائے۔ (آمین۔ یارب العالمین)
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



