سیاسی و مذہبی مضامین

مسلمان ہے قاری بھی قاتل بھی مقتول بھی -محمد مصطفی علی سروری

شہر حیدرآباد میں حالیہ عرصے کے دوران قتل کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عوامی اور سماجی سطح پر لوگوں نے قتل کی بڑھتی ہوئی واردات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔شہر حیدرآباد میں صرف قتل کی وارداتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے بلکہ قتل کی کوشش (Attempt to Murder) کے کیس مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔
اگر قتل اور قتل کی کوشش دونوں طرح کے کیس کو ملاکر تجزیہ کریں تو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوگا۔
خاص بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اس طرح کے واقعات میں ملوث ہورہی ہے تو یہ کسی طرح بھی کورونا اور اس کے بعد کے حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل مدت میں مسلم معاشرے میں بچوں کی تعلیم سے بے رغبتی، ڈراپ آئوٹ کی شرح میں اضافہ، والدین اور سرپرستوں کی اپنی اولاد کی تربیت کو لے کر بے توجہی بڑا ہی اہم سبب ہے۔
کیونکہ مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جرائم میں اضافہ اسی آبادی میں، علاقے میں ہوتا ہے جہاں ترک تعلیم کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جس معاشرے اور علاقے میں میاں بیوی کے جھگڑے، علیحدگی اور طلاق کی شرح بڑھتی ہے وہاں پر بچوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
آیئے اس اہم مسئلہ کا ہم سائنٹفک انداز میں اعداد و شمار کی روشنی میں تجزیہ کرتے ہیں۔
جہاں تک کالم کی سرخی میں قاری کا ذکر ہے تو وہ اس بات کا مظہر ہے کہ اخبارات اور میڈیا میں مسلمانوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی خبر پڑھ کر بھی جو مسلمان قاری اور ناظر خاموش رہے گا وہ بھی ان حالات کا ذمہ دار ہوگا۔
قارئین کرام واقعی یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا لاک ڈائون اور کرونا کی پریشانیوں کے سبب قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔آیئے سب سے پہلے شہرحیدرآباد میں قتل کی جملہ واردات کتنی ہوئی ہے۔ اس کا گذشتہ پانچ برس کا ریکارڈ اٹھاکر دیکھتے ہیں کہ صورت حال اس عرصے کے دوران کیسی رہی؟
سال 2015ء کے دوران شہر حیدرآباد میں 100 لوگوں کا قتل کیا گیاتھا۔ سال 2016ء کے دوران 78 افراد قتل کیے گئے۔ سال 2017ء کے دوران شہر میں قتل ہونے والے لوگوں کی تعداد 60 رہی ۔ سال 2018ء کے دوران جملہ 76 افراد کا قتل کیا گیا۔ جبکہ سال 2019ء کے دوران شہر میں 83 افراد کا قتل ہوا۔
قارئین کرام قتل کے متعلق یہ تمام اعداد و شمار حکومت تلنگانہ کے محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹس سے لیے گئے ہیں اور سال 2020ء میں شہر حیدرآباد میں کتنے لوگ قتل کیے گئے اس کے اعداد و شمار ہمیں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ سے ملے جس کے مطابق گذشتہ برس کے دوران شہر حیدآباد میں 71 افراد کو قتل کیا گیا۔ 
ان اعداد و شمار کے پس منظر میں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ پوری ریاست تلنگانہ میں شہر حیدرآباد قتل کی وارداتوں میں کے معاملے میں اس سارے عرصے کے دوران کبھی بھی سرفہرست نہیں رہا لیکن حکومت تلنگانہ محکمہ پولیس کی سالانہ رپورٹس سے ایک بہت ہی اہم اور چونکا دینے والی بات یہ سامنے آئی کہ سال 2015ء کے دوران شہر میں (Attempt to murder) قتل کی کوشش کی جملہ واردات 123 ریکارڈ کی گئی۔
سال 2016ء کے دوران یہ تعداد 132 رہی۔ سال 2017ء کے دوران 126 ، سال 2018 کے دوران 163 ، سال 2019ء کے دوران 197 کی وارداتیں رجسٹر کی گئیں۔
سب سے تشویش کی بات تو یہ ہے کہ پوری ریاست تلنگانہ میں شہر حیدرآباد قتل کی کوشش کرنے کے معاملات میں دو ایک سال سے نہیں بلکہ تقریباً 5 برسوں سے سرفہرست آرہا ہے۔ اب ایک اور تشویشناک امر یہ ہے کہ قتل کرنے کی کوشش سے لے کر جرائم کی دیگر وارداتوں میں نابالغ بچوں کی خاصی تعداد ملوث ہوتی جارہی ہے۔ 
سال 2015ء کے دوران 1226 نابالغ بچے مختلف کیسس میں بک کیے گئے۔ سال 2016 کے دوران کم عمر بچوں کی 991 تعداد جرائم میں ملوث رہی۔ یہ بچے کس طرح کے جرائم میں ملوث رہے تو یہ جان لیجئے کہ سال 2015ء کے دوران سائبرآباد اور حیدرآباد کے 5 نابالغ مجرمین قتل کی واردات میں ملوث تھے۔
سال 2016 کے دوران قتل کی 6 وارداتیں ایسی تھیں جس میں نابالغ بچے ملوث تھے۔ سال 2017ء کے دوران نابالغ بچوں نے جملہ 1360  جرائم انجام دیئے اور پوری ریاست تلنگانہ میں 235 نابالغ مجرمین کے ساتھ شہر حیدرآباد نابالغ مجرمین کی فہرست میں سرفہرست رہا۔ 
سال 2017 کے دوران قتل کی جملہ 4 واقعات ایسے تھے جس میں نابالغ بچے ملوث رہے اور قتل کے 5 ایسے واقعات تھے جس میں حیدرآباد اور سائبرآباد کے بچے ملوث رہے۔
سال 2018 کے دوران قتل کی 4 ایسی وارداتیں تھیں جس میں قاتل کم عمر نابالغ بچے تھے اور قتل کی کوشش کرتے ہوئے حیدرآباد سائبرآباد میں 6 بچوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
سال 2019ء کے دوران حیدرآباد و سائبرآباد میں قتل کی 6 وارداتیں ایسی تھیں جس میں کم عمر نابالغ بچے مجرم تھے اور قتل کی کوشش کرنے کے الزام میں 17 بچوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سال 2019ء کے دوران  1281 جرائم کی وراداتیں ایسی تھیں جو پولیس کے ریکارڈ کے مطابق نابالغ بچوں نے تلنگانہ بھر میں انجام دی تھی اور 328 نابالغ مجرمین کے ساتھ شہر حیدرآباد پوری ریاست تلنگانہ میں سرفہرست رہا۔
قارئین کرام یہ بات اعداد و شمار کی روشنی میں بالکل واضح ہوچکی ہے کہ حالیہ عرصے میں قتل کی جن وارداتوں میں اضافہ کی بات کی جارہی ہے وہ صرف کرونا کے لاک ڈائون اور معاشی پریشانیوں کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ گذشتہ کئی برسوں سے قتل کی واردات سے زیادہ قتل کی کوشش کرنے پر تلنگانہ پولیس نے جو کیس بک کیے ہیں۔
ان سے ثابت ہوتا ہے کہ قتل کی کوشش اور قتل  لاک ڈائون اور کرونا کے معاشی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ رجحان مسلسل بڑھتا ہی جارہا ہے اور سب سے پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ نابالغ بچے جرائم کی دنیا میں اپنے قدم بڑھا رہے ہیں اور پوری ریاست تلنگانہ کے مقابلے میں شہر حیدرآباد کے بچوں کا جرائم میں ملوث ہونا ہمارے لیے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔
اور ویسے بھی سال 2021ء بھی ختم ہونے جارہا ہے اور اگلے سال کے اوائل میں حکومت تلنگانہ کا محکمہ پولیس اس برس رونما ہونے والے اعداد و شمار کی بنیادوں پر اپنی سالانہ رپورٹ بھی جاری کردے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ مسلمان قوم قتل اور جرائم میں مسلم نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر کیا اقدامات کرتی ہے اور مسلمانوں کو اس دلدل سے باہر نکالنے کے لیے کیا لائحہ عمل طئے کرتی ہے۔
اس کالم کے لیے مواد حاصل کرنے اور اعداد و شمار معلوم کرنے کے لیے جب میں نے گذشتہ پانچ برس کی تلنگانہ پولیس کی سالانہ رپورٹس کا مطالعہ کیا تو مجھے اس سے پتہ چلا کہ ملزمین کو سزا دلوانے کے حوالے سے تلنگانہ پولیس کو صد فید کامیابی نہیں مل پائی ہے۔ بحرحال لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے پولیس کو جو اقدامات کرنا ہے وہ پولیس کر رہی ہے۔ مسلم کمیونٹی کو کیا کرنا چاہیے؟
کیا صرف علماء اور خطیب حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں میں قتل و غارت گری کے بڑھتے واقعات کا سدباب کریں۔ کیا خطبہ جمعہ سے یہ مسائل حل ہوجائیں گے۔ 
قارئین کرام تلنگانہ پولیس نے بھی اپنی سالانہ رپورٹس میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ جن خاندانوں میں ماں باپ میں اختلافات ہوں، علیحدگی ہوں اور جھگڑے ہوں وہاں پر پلنے والے بچے جرائم کی طرف جلد راغب ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ پولیس کی رپورٹس میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ غریب بستیوں، سلم علاقوں اور گنجان آبادی والے علاقے میں رہنے والے بچے ہی زیادہ تر جرائم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ 
بچوں کی تعیشات کے حصول اور مال و دولت کی چاہت بڑھتی جارہی ہے اور جب غربت میں وہ دنیا بھر کی سہولیات حاصل نہیں کرپاتے اور ان کی تربیت و تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی تو وہ تب بھی جرائم کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔
شہر حیدرآباد میں بھی سلم علاقوں کا خاصہ بڑا علاقہ ہے۔ جن پر مسلم اداروں، انجمنوں اور افراد کو توجہ دینے کی ضرورت ہے جب گھروں میں ماں باپ کی بات بچے سننے تیار نہیں تو جمعہ کا خطبہ دینے والے مولوی صاحب کی کون سنے گا اور جمعہ کے خطبات کی اثر پذیری کے حوالے سے بات کی جائے تو ایک سروے میں مجھے اس بات کا پتہ چلا کہ اسکول جانے والے بچے ہوں یا کالج کے طلبہ۔
نوکری پیشہ افراد ہوں یا کاروبار کرنے والے حضرات۔ ہر ایک نماز جمعہ کے لیے جب مسجد کا انتخاب کرتا ہے تو اس کی پہلی ترجیح اکثر اس بات پر ہوتی ہے کہ کس مسجد میں جمعہ کی نماز جلد ہوتی ہے۔ کس مسجد میں مولانا کا بیان مختصر ہوتا ہے تو ایسی مسجد ان کی پہلی پسند ہوتی ہے۔ 
اگر کسی کو میرے ان شخصی تاثرات سے اعتراض ہو تو اپنے طور پر عام عوام کی رائے کریں تو پتہ لگ جائے گا۔ 
یہ تو رہی مساجد کے امام اور خطیب حضرات کی اثر پذیری عربی خطبے سے پہلے والے بیانات اردو زبان میں ہوتے ہیں کہ اردو زبان سے ناواقفیت اردو کے دینی بیانات کی اثر پذیری کو اور بھی کم کردیتی ہے۔
ایسے میں پہلے تو والدین امیر ہوں یا غریب۔ پاش علاقے کے ہوں یا سلم علاقے کے۔ ان کی شادی سے پہلے ہی کونسلنگ کی جائے کہ شادی کے بعد اولاد کی ذمہ داری کو کیسے نبھانا چاہیے اور یہ کام اہم کیوں ہے۔
اپنے بچوں کی دینی تعلیم کو یقینی بنائیں ان کو اردو زبان ضرور سکھائیں۔ اردو زبان میں جتنا اسلامی لٹریچر موجود ہے وہ بھی مسلم ماں باپ اور ان کے بچوں کی اسلامی تربیت کے لیے کافی ہوگا۔ اردو جاننے والا جمعہ کے دن مسجد جائے گا تو شائد خطیب کے خطبہ پر توجہ دے گا۔ 
شادی سے پہلے ہی جوڑوں کی کونسلنگ ہوگی تو شاید طلاق، خلع اور علیحدگی و اختلافات کے واقعات بھی کم ہوں گے۔ چونکہ پولیس کا بارہا اصرار ہے کہ جن گھروں میں میاں بیوی کے اختلافات ہوتے ہیں وہاں پر بچوں کے بگاڑ کے آثار بھی بڑھ جاتے ہیں۔ وہ بچہ قاتل بھی بن سکتا ہے، مجرم بھی بن سکتا اور جرائم کا رخ بھی کرسکتا ہے۔
آیئے اپنا جائزہ لیں۔ اپنے خاندان، اپنے رشتہ دار اور اپنے اطراف و اکناف اس حوالے سے کام شروع کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے آس پاس ، ہمارے قریب میں کوئی قاتل نہ بن سکے۔ 
پنجاب یونیورسٹی نے سال 2019ء میں سندیپ کمار کو لدھیانہ شہر میں جرائم کا جغرافیائی مطالعہ کے موضوع پر تحقیق کے لیے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا۔
سندیپ کمار نے اپنی تحقیق سے یہ بات ثابت کی کہ جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے ملزمین / مجرمین کی اکثریت ڈراپ آئوٹ یا تعلیم منقطع کرنے والی ہے اور دوسری اہم بات کہ پاش علاقوں کے مقابلے سلم علاقوں کے لوگ زیادہ جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔
شہر حیدرآباد میں بھی جرائم خاص کر قتل کے واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ مجرمین ڈراپ آئوٹ یا تعلیم سے دور ہیں اور اس حوالے سے اگر سلم علاقوں میں مسلمانوں کو تعلیم سے جوڑنے کی مہم شروع کی جائے تو مسلم نوجوانوں کو جرائم سے دور رکھا جاسکتا ہے۔ 
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button