سیاسی و مذہبی مضامین

نماز عشق ادا ہوتی ہے شمشیروں کے سائے میں!

از: ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی

جان دیکر صور پھونکا نعرہ تکبیر کا، رنگ گہرہ کردیا ایمان کی تصویر کا
(نماز عشق ادا ہوتی ہے شمشیروں کے سائے میں!!!)

عالم اسلام نے جب 1443ہجری میں قدم رکھا ہے تو ایک طرف حسب سابق کئی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری طرف چمن الستان محمدی کو فتح و کامیابی کے ابواب کھلتے ہوئے اقتدار کا کھویا ہوا تخت حاصل کرتے دیکھا جارہا ہے، جن کی استقامت بلند مزاجی، ثابت قدم، مزاحمت نے ایمان حرارت کو پختہ کیا اور تقریباً دو دہوں بعد سوپر پاور سربہ چشم ان چند ہزار اسلام کے پرچم تھامنے والوں کے سامنے نہ صرف سرنگوں ہونا پڑا، بلکہ ملک چھوڑ کر بھاگتے ہوئے ثالتی ملک (قطر) کو مصلحت (Compramise) کی بیٹھک کے لئے مدعو کرنے کی التجاء کرتے ہوئے ساری دنیا کے سامنے سوپر پاور کا غرور ٹوٹتا نظر آیا۔

یہ ایسے واقعات ہے جو امت مسلم کی کمر ہمت باندھتے ہوے تمہیں یہ بتارہی ہیں، اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو مدد الٰہی سامل حال ہوجائے گی۔

باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

دراصل اسلام اس لئے نہیں آیا کہ اس کے ماننے والے دنیا والوں سے عاجزی کرتے پھریں کہ تمہیں بھی جینے کا موقع دیا جائے، رہنے ، بسنے، سانس لینے کے وسائل ہمیں بھی فراہم کئے جائیں، ہمیں بھی روزگار کے ذرائع دیئے جائیں ! اسلام غلبے کے لئے آیا ہے، اسلام اپنی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت دکھانے کے لئے آیا ہے، سکون کی متلاشی انسانیت کو حق بتانے کے لئے آیا ہے۔

بھوکوں کی پیاسوں کو تنگ دستوں کی، بیواؤں، مسکینوں کو ضرورتوں کو پورا کرنے آیا ہے۔ ساری انسانیت مساوات و محبت Love & Equality کا سبق سکھانے آیا ہے، جہنم کی آگ سے بچانے آیا ہے، ہند میں ایکتا، اکھنڈتا، بندوتوا، عالمی بھائی چارہ کے قیام کے لئے حکمرانی کرنے آیا ہے۔

اب ان اسلامی تعلیمات کو پیغمبر اسلام کے تعارف کو عام کرنا اسلام کے بارے میں پھیلائی جانے والی نفرت کو اسلام روشن آفتاب کو داغدار کرکے پیش کرنے والی سازشوں، قوتوں، منصوبوں کے خلاف محبت،پیار، حکمت و فراست سے صبر کا دامن تھامے ہوئے مسلسل، استقامت کے ساتھ ڈٹے رہنا جڑے رہنا ،اس دور کی یہ ہر کلمہ گو کی منصبی ذمہ داری ہے۔

یہ کام کی اس وقت جتنی ضرورت ہے، شاہد ہی پہلے ضرورت تھی، اس دعوت دین کے کام کے لئے اب جتنا ماحول ہند میں موافق ہے شاہد ہی پہلے ایسا موافق ماحول پہلے میسر تھا۔یہی مقصد کے ساتھ امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کربلا کے میدان میں دشمن کی طاقت، ناپاک عزائم، گھناؤنی سازشوں کی پرواہ کئے بنا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دین اسلام کی لاج رکھ لی، استقامت دین عطا کیا۔

بزم باطل تیرا نعرہ سن کے برہم ہوگئیں
یا حسینؓ تیری خونی آستیں ملت کا پرچم بن گئیں

میدان کربلا میں جہاں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبروں جیسا آزمایا گیا۔ مصیبتوں کے پہاڑ آزمائشوں کے انبار کا سامنا ہوا۔ اپنے 72 جاں نثاروں المیوں کے دیکھنے کے بعد … دشمن آپ ؓ کے خون کا پیاسہ تھا، پھر یہ منظر رونما ہوا۔

٭ امام حسین عالی مقام ؓ کربلا کے میدان میں تنہا کھڑرے ہیں، ہونٹوں پر پیاس اور تشنگی کے کانٹے چب رہے ہیں، آسمان سے سوچج قیامت خیز آگ برسا رہا ہے، نینوا کے سینے پر دریائے فرات بہہ رہا ہے۔

سوائے حسین ؓ اور آل حسین ؓ کے ہر ایک کو پانی عام تھا، امام عالی مقام کے جاں نثاران توحید و رسالت کی گواہی دیتے ہوئے جام شہادت نوش کرچکے تھے، گلستان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجڑ چکا، چمنستان فاطمہ ؓ کو موت کی بے رحم ہوا کی جھوکوں نے سمیٹ لیا۔

عون و محمد ؓ رخصت ہوچکے…
عباس علمبردار جام شہادت پاچکے…

شہزادہ علی اصغرؓ کالاشا بیگورو کفن کربلا میں پڑا ہے
معصوم علی اصغرؓ کے خون سے کربلا کی ریت رنگین تھی

لیکن شہزادہ علی ؓ اپنے جاں نثاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر نڈھال ہوچکے۔

لیکن شہزادہ علی ؓ کو شجاعت بہادری، جواں مردی
پر ان اثرات کا سایہ تک نہ تھا۔

شیرخدا کا شیر اپنے تمام اثاثہ جات لٹانے کے بعد بھی استقامت بلند ہمت کا پرچم بنا کھڑا تھا۔

ایمان کی روشنی آنکھوں سے جھلک رہی ہے
چہرے پر اعتماد کا نور جھلک رہا ہے

… گھوڑے پر سوار ہیں، سیدہ زینتؓ رکاب تھامتی ہیں
…یزیدی فوج پر سکتہ طاری ہے، شیر خدا کے شیر کا سامنا کرتے ہر کوئی خاموش ہے کترا رہا ہے۔ وہ جانتے تھے کے مد مقابل نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

… وہ جانتے تھے کہ جنت کے نوجوانوں کا سردار سے مقابلہ ہے
لیکن یزیدیوں کی مصلحتیں ان کی پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی تھی
مفادات کے تالے ان کے ھونٹوں پر پڑے تھے۔

لالچ حرص تما کے پردے آنکھوں پر پڑے ہیں

نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل کرکے پلیت یزید کا قرب حاصل کرنا ان کا خواب تھا۔

بالآخر تیروں کی بارش ہوئی، گھات لگا کر حملہ ہوا، زندگی کے آخری لمحہ آپہنچا امام علی مقام نے اپنے خون آلود ہاتھوں سے تیمم کیا۔
بارگاہ خدا وندی میں سجدہ ریز ہوگئے۔

نہ مسجد میں نہ بیت اللہ کی دیوار کے سائے ہیں
تماء عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں

امام حسین ؓ جس سنگین مسئلہ پر نبرد آزما ہوئے، نہایت حساس اہم مسئلہ تھا جس کا معاملہ شریعت حقہ سے تھا۔ پیغمبری نظام سے تھا۔ قرآن برحق سے تھا۔

کربلا کا یہ معرکہ عظیم فاتحین لشکر چنگیز خان، ہلاکو، الگزینڈر کے بربریت کے سامنے کسی شمار میں نہیں، مہینوں سالوں چلنے والی جنگوں سے نانپا جائے تو جنگ کربلا فجر سے عصر تک جاری …ان کے سامنے کیا اہمیت رکھتی ہے۔

لیکن جنگ کربلا لا لہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد مضبوط کردی ۔ نفاق کے پردے چہرے سے اُٹھایا، ایمان کا چہرہ روشن کیا۔

اعتماد کی شمع جلائی، آفتاب اسلام کو داغداری سے بچایا اور ساری دنیا کو بتا دیا اسیری آزادی کی تمہید ہے، قلت تعداد کو بہانہ نہ بنانے کا درس دیا۔ کربلا کا روشن ترین باب جس کی تابانیاں تا ابد الآباد قائم رہیں گی۔

جان دے کر صور پھونکا نعرۂ تکبیر کا
رنگ گہرا کردیا ایمان کی تصویر کا٭٭٭

متعلقہ خبریں

Back to top button