سیاسی و مذہبی مضامین

فرض ہے دریا دلوں پر خاکساروں پر دریا دلوں کی مدد-محمد مصطفی علی سروری

سعید صاحب نے اپنی لڑکی کی شادی دھوم دھام سے کی۔ ماشاء اللہ سے دولہا قطر کی ایئر لائنس میں اچھے عہدہ پر فائز تھا۔ ان کی لڑکی نے بھی بی ڈی ایس کی ڈگری کی تھی اور ماشاء اللہ سے سعید صاحب خود بھی این آرآئی رہ چکے ہیں۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ ذاتی گھر ہے۔
فلیٹ ہیں اور چند ایک ملگیاں جس سے ماہانہ آمدنی ہوجاتی ہے۔ ان کے گھر میں بھی ماشاء اللہ سے ایک دو نہیں بلکہ تین تین ملازم ہیں۔
ایک ملازمہ پکوان کرنے کا کام کرتی ہے۔ ایک نوکر سودا سلف لانے کے ساتھ ان کی گاڑی چلانے کا بھی کام کرتا ہے جبکہ ایک اور ملازمہ برتن دھونے اور جھاڑو دینے اور صفائی کا کام کرتی ہے۔
اپنی آخری لڑکی شادی کے بعد سعید صاحب نے اطمینان کی سانس لی اور اپنے بچوں اور پوترا، پوتریوں کے ساتھ 15 دنوں کے لیے بنگلور چلے گئے۔ کیونکہ ان کی بڑی بہو کا مائیکہ بنگلور کا تھا اور امریکہ سے چھوٹی بہن کی شادی میں آنے والے ان کے دوسرے لڑکے نے بڑے اصرار کے ساتھ انہیں اور اپنی ماں کو بھی بنگلور چلنے کی دعوت دی۔
نئی دلہن اور دلہا بھی ساتھ تھے۔ گھر کا ہر فرد خوش تھا۔ پندرہ دن کیسے گذر گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ امریکہ اور سعودی عرب میں ملازم بچے تو بنگلور سے ہی اپنے اپنے مقام چلے گئے۔ بیٹی اور داماد اوٹی کے لیے سفر پر نکل گئے۔ سعید صاحب اور ان کی بیوی واپس حیدرآباد لوٹ گئے۔ 
ایک دن پورا آرام کیا۔ اس کے بعد سعید صاحب کو ان کی بیگم نے یاد دلایا کہ گھر میں شادی تو ہوچکی ہے۔ اس لیے جو سونے کے زیورات رکھے ہیں اب ان کو واپس بینک کے لاکر میں رکھوا دیا جائے۔ اگلے دن سعید صاحب نے الماری کھولی اور سونے کے زیورات نکالنے کا ارادہ کیا۔
لیکن ان کے تو مارے ہیبت کے ہاتھوں پائوں پھول گئے کہ الماری میں ان کا لاکر ٹوٹا ہوا تھا اور وہاں سے سونا اور نقد رقم جو انڈین روپیوں کے علاوہ امریکی ڈالر کی شکل میں تھی وہ غائب ہوگئی تھی۔
فوری گھر کے ملازمین کو طلب کیا۔ غصہ کیے۔ دھمکی دی کہ پولیس کے حوالے کر دوں گا ۔ مگر کسی نے بھی کوئی اطلاع نہیں دی اور مجبوراً سعید صاحب کو پولیس میں شکایت درج کروانی پڑی۔پولیس شک کی بنیاد پر سبھی ملازمین کو پکڑ کر لے گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ سعید صاحب کے گھر پر سی سی ٹی وی نہیں تھا البتہ قریب میں واقع ایک دوسرے سی سی ٹی وی کا فوٹیج دیکھا گیا اور پھر پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد سعید صاحب کے ایک دور کے رشتہ دار کو گرفتار کرلیا۔
قارئین کرام اب سارے واقعہ میں نام فرضی ہیں لیکن واقعہ کی سچائی کیا ہے وہ بھی جان لیجئے گا۔ سعید صاحب کے مطابق ان کے ہی خاندان کا ایک شخص ہے جو ان سے اپنی بچی کی شادی کے لیے مدد نہیں بلکہ قرضہ مانگ رہا تھا اور سعید صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غریب رشتہ دار کی بچی کے لیے قرضہ تو نہیں دیا کیونکہ وہ قرضہ حسنہ پوچھ رہا تھا۔
دوسرا دو لاکھ روپئے کا قرضہ وہ واپس کیسے چکا پائے گا۔ سعید صاحب کو یقین بھی نہیں تھا۔ ان کو غصہ اس بات پر تھا اگرچہ انہوں نے قرضہ نہیں دیا لیکن غریب کی بچی کی شادی کے لیے 25 ہزار کی مدد کی تھی اور ہمدردی کرنے کے باوجود وہ شخص اتنا خراب نکلا کہ اس نے اپنے ہی محسن کے گھر چوری کرڈالی۔ 
قارئین اس سارے قصے کو سنانے کے بعد محکمہ پولیس کے ایک اہلکار نے جو کہ اس کیس کی تحقیقات سے جڑے تھے بتلایا کہ سعید صاحب کی بھی غلطی ہے کہ ایک ضرورت مند سیدھی سیدھی درخواست کر رہا ہے کہ اس کو امداد نہیں قرضہ چاہئے تو انہوں نے اپنے ہاں پیسے رکھتے ہوئے بھی قرضہ دینا مناسب نہیں سمجھا اور امداد کے نام پر 25 ہزار دے کر ایسا سمجھ رہے ہیں کہ بڑا احسان کیا ہے اور جو ملزم سعید صاحب کے گھر سے چوری کے الزام میں پکڑا گیا۔’
اس نے پولیس کے روبرو اعتراف کیا کہ وہ چور نہیں ہے بلکہ اس کو رقم کی ضرورت تھی اور اب بھی وہ صاحب نیت رکھتا ہے کہ سعید صاحب کی رقم واپس کردے گا۔ حالانکہ ملزم کے پاس سے زیورات کے علاوہ نقد رقم اور ڈالر بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔ 
تفتیش کے دوران ملزم نے بتلایا کہ جس وقت وہ چوری کی نیت سے گھر میں داخل ہوا وہ تو چاہتا تھا کہ صرف دو لاکھ کی ہی رقم لے مگر ساری رقم اور زیورات ایک ہی بیگ میں رکھے تھے تو مجبوراً اس کو سارا بیگ لے جانا پڑا۔ سعید صاحب کے سارے قصے کا سب سے اہم پہلو وہ تجزیہ ہے جو پولیس اہلکار کرتا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ آج کل سے نہیں بلکہ برسوں سے ہمارے سماج کا چلن پڑچکا ہے کہ لوگ صاحب استطاعت ہونے کے باوجود قدرت رکھنے اور وسائل کے باوجود لوگوں کی مدد نہیں کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیشہ ہی ان کے سامنے کھڑے رہیں۔ مانگتے رہیں۔ جھک کر سلام کرتے رہیں اور ان کو گھیرے رہیں۔ 
کیا واقعی پولیس اہلکار کا تجزیہ درست ہے۔ کیا واقعی ہمارے سماج میں ایسا چلن چل پڑا ہے کہ لوگ دوسروں کی ہر طرح سے مدد اس لیے نہیں کرتے ہیں کہ اگر اس کی مکمل طرح سے یا حقیقی معنوں میں مدد کردی جائے تو وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکتا ہے یا ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر ان کی ہی صف میں کھڑا ہوجائے۔ دوم کیا واقعی ہمارے سماج کے صاحب ثروت افراد چاہتے ہیں کہ ضرورت مند ایسے ہی ان کے اطراف و اکناف ہاتھ باندھے کھڑے رہیں۔
محمد عاکف اخبار ٹائمز آف انڈیا کے رپورٹر ہیں۔ 26؍ دسمبر 2021ء کے اخبار میں وہ اورنگ آباد سے رپورٹ کرتے ہیں کہ وہاں کی پولیس نے 16 برس کے ایک ایسے نوجوان کو گرفتار کرلیا جو نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس نوجوان پر ایک بینک میں چوری کرنے کا الزام ہے۔
پولیس کے حوالے سے اخبار نے لکھا ہے کہ 16 برس کا یہ نوجوان ایک غریب گھرانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے گھر کے معاشی حالات خراب ہیں جس کی وجہ سے اس کے گھر والے اس کو کرونا کے وبائی دور میں موبائل فون نہیں دلاسکے اور اپنی گرفتاری کے بعد یہ نویں جماعت کا طالب علم کہتا ہے کہ میں نے چوری کی کوشش اس لیے کی کہ میں ایک نیا موبائل فون خریدنا چاہتا تھا جس کی مدد سے میں اپنی آن لائن کلاسس اٹینڈ کرنے کا خواہشمند تھا۔ لیکن چوری کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور یہ نوجوان اب پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔
قارئین کرونا کے وبائی دور میں کتنے نوجوان ایسے تھے جنہیں صرف اس وجہ سے تعلیم ترک کردینا پڑا کیونکہ ان کے پاس آن لائن کلاس کرنے کے لیے موبائل فون نہیں تھا اور تعلیم کے لیے آن لائن کلاس کے لیے اگر کوئی طالب علم غیر قانونی راستہ اختیار کرے تو وہ چور کہلاتا ہے اور سماج کے وہ لوگ کس خطاب کے مستحق ہیں جو استطاعت رکھتے ہوئے بھی لوگوں کی مدد برائے نام کرتے ہیں۔ یہ تو تصویر کا ایک پہلو ہے۔ دوسری طرف دانش مند لوگ کیا کر رہے ہیں۔
Peri Maheshwar کیریئر 360 کے فائونڈر اور چیئرمین ہیں۔ انہوں نے 27؍ دسمبر 2021ء کو اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ حالیہ عرصے میں انہیں راجستھان کے ایک چھوٹے سے گائوں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پر 124 رکشہ راں ہیں جو کہ رکشہ چلانے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے گائیڈ کی خدمات بھی فراہم کرتے ہیں۔
سال بھر میں ان کی آمدنی کا سیزن صرف چار مہینے کا ہوتا ہے۔ سیاحوں کو گائیڈ کی خدمات فراہم کرنے کے علاوہ وہ لوگ بقیہ مہینوں میں معمولی طرح کے کام کرتے ہیں۔ ساتھ میں رکشہ چلا لیتے ہیں۔ ان رکشہ رانوں کی ایک کمیٹی ہے جس کے تمام رکشہ راں ممبران ہے۔ ہ لوگ سیزن کے دوران 500 روپئے فی کس اور غیر سیزن کے آٹھ مہینوں کے دوران 200 روپئے فی کس ماہانہ کمیٹی کے ہاں جمع کرتے ہیں۔
اس جمع شدہ رقم سے یہ رکشے والے اپنے ممبران کی علاج کی ضروریات، شادیوں کے اخراجات کے لیے مدد کرتے ہیں کسی برس جب کسی رکشہ راں کو مدد کی ضرورت نہیں تب، وہ لوگ اپنی جمع شدہ رقم اپنے سماج کی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اسکالر شپ دیتے ہیں اور سماجی فلاح کے کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ 
راجستھان کے گائوں کے رکشے والوں کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ہے۔ پیری مہیشور آگے لکھتے ہیں کہ ممبئی کی ایک کمپنی نے رکشوں کو موٹر لگا کر موٹر والے رکشہ بنانا شروع کیے اور Offer کی کہ وہ 30 موٹر والے رکشے مفت میں ان لوگوں کو دینا چاہتے ہیں۔ جو بڑے بزرگ ہیں لیکن ان رکشہ والوں نے یہ آفر ٹھکرادیا۔ ان کے مطابق موٹر والے رکشے اگر دینے میں تو سب کو دیئے جائیں۔ صرف چند ایک کو نہیں۔ کیونکہ اس سوال کا جواب ان لوگوں نے دیا کہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کو دوسروں پر ترجیح ملے اور ہمارا اتحاد متاثر ہو۔ 
قارئین آج کے کالم میں جن موضوعات پر گفتگو رہی۔ اول تو ایسے سرمایہ دار اور مخیر حضرات کی جو ہزار لوگوں کو 10،  10  روپئے دینے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ ان کی مدد کا دائرہ وسیع سے وسیع تر رہے۔ دوسرا ضرورت مند حضرات اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے غیر قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں کیونکہ ان کی ضرورت کے حساب سے کوئی ان کی مدد کرنے آگے نہیں آرہا ہے۔
سوم راجستھان کے گائوں کی مثال کہ غریب ہیں مگر اپنا دماغ استعمال کر رہے ہیں اور اچھے وقتوں اور اچھی آمدنی کے دنوں میں بچت کر رہے ہیں تاکہ برے دنوں کا سامنا کیا جاسکے۔سونچئے گا۔ ہر سال ہم بھی زکوٰة تقسیم کرتے آرہے ہیں جن کے باپ دادا زکوٰۃ لیتے تھے ان کے بچے بھی آج زکوٰۃ کے لیے فون کرتے ہیں۔
کیا ہی بہتر نہیں کہ آج جو لوگ زکوٰۃ کے مستحق ہیں کل وہ زکوٰة لینے والوں کی قطار سے زکوٰۃ دینے والوں کی قطار میں ترقی کرلیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کو ضرورت مندوں کی حقیقی معنوں میں مدد کرنے والا بنادے۔ ریاکاری نام و نمود اور دکھاوے سے اور ہر قسم کے تماشوں اور نمائش سے حفاظت فرما ۔
فرض ہے دریا دلوں پر خاکساروں کی مدد
فرش صحرا کے لیے لازم ہوا سیلاب کا
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button