مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی۔ حیدرآباد
ترجمانی :’’اے ایمان والو! تم پورے پورے اسلام میں آجائو اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘۔(سورہ البقرہ آیت :208)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو کامل طور پر اسلام میں داخل ہوجانے کا حکم صادر فرمارہے ہیں۔
سابقہ طریقوں سے اجتناب
کلمہ توحیداور نبی کریم حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار اور آخرت پر یقین رکھنے کے ساتھ ہی آدمی اہل ایمان کی فہرست میں شامل کردیا جاتا ہے اس طرح اب اس آدمی کو لازمی طور پر اسلام کے تمام طور طریقوں اور اس کے قوانین پر عمل کرنا پڑے گا جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سارے انسانوں کی بھلائی کیلئے پہنچائے گئے ہیں۔
آدمی جب اسلام کو دین حق،دین رحمت سمجھ کر قبول کرتا ہے تو اس پر لازم آتا ہے کہ وہ اپنے سابق دین کی تمام رسموں طور طریقوں کو یکسر ترک کردے جس پر وہ قائم تھا۔ ایسا ہر گز نہ ہونا چاہئے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس کے آسان احکام پر عمل کیا اور سخت و آزمائشوں میں ڈالنے والے اعمال کو پس پشت ڈال دیا۔
فلاح آخرت کا واحد راستہ
الغرض دین اسلام اب رہتی دنیا تک کیلئے ایک بہترین نظام حیات ہے اور انسانوں کی اخروی کامیابی کا ضامن بھی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بابرکت،بندگی رب کا ایک مکمل نمونہ ہے۔ اس طرح اب دین اسلام کو قیامت تک کیلئے پسند فرمایاگیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قیامت تک کیلئے آخری نبی و رسول ہیں۔
اب اگر کوئی اس دین اسلام کے علاوہ یااس کے خلاف کوئی دوسرا طریقہ یا دوسرا قانون اپناتے ہوئے زندگی بسر کرے گا اور اسی حالت میں دنیا سے نکل کر اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے خود ساختہ و من گھڑت دین کو مسترد کردیں گے اور اس کی پاداش میں جہنم کے حوالے کردیں گے۔ اہل کتاب کی ان تمام شریعتوں کو جو ان کے متعلقہ انبیاء علیہم السلام لے کر آئے تھے وہ سب کے سب دین اسلام کے آجانے کے بعد منسوخ قرار دیئے گئے اس طرح ان تمام شریعت سابقہ سے اجتناب لازم ہے۔
شان نزول
مولانا نعیم الدین صاحبؒ نے ’’خازن‘‘ کے حوالے سے یوں تحریر فرمایا ہے کہ ’’اہل کتاب میں سے عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب حضور پر ایمان لانے کے بعد شریعت موسوی کے بعض احکام پر قائم رہے جیسے ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے اس روزشکار سے اجتناب لازم جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں تو مباح ہیں ان کا کرنا ضروری نہیں اور توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ،تو ان کی ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت موسوی پر عمل بھی ہوجاتا ہے۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ اسلام کے احکام کی پوری اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہوگئے اب ان سے تمسک نہ کرو۔
شیخ الاسلام مولانا شبیراحمد صاحب عثمانیؒ نے اس آیت کے تحت یوں تحریر فرمایا ہے جس کا ایک حصہ یہاں نقل کیاجاتا ہے۔
’’چند حضرات یہود سے مشرف بہ اسلاام ہوئے مگر احکام اسلام کے ساتھ احکام توراۃ کی بھی رعایت کرنی چاہتے تھے مثلاً ہفتہ کے دن کومعظم سمجھنا اور اونٹ کے دودھ اور گوشت کو حرام ماننا اور توارۃ کی تلاوت کرنا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس سے بدعت کا انسداد کامل فرمایا گیا۔
حوالہ القرآن الکریم ( و ترجمہ معانیہ و تفسیر مطبوعہ سعودی عرب ) آیت مذکورہ جو کہ مضمون کے آغازمیں پیش کی گئی اس کے نزول کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایمان لانے والے لوگوں میں دین اسلام پورے کا پورا داخل ہوجائے جس کے بغیر کوئی شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی خواہش نفس کو شریعت کے تابع کردے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد ہے کہ ’’تم میں کوئی مومن نہیں ہو تا جب تک اس کی خواہشات نفسانی میری شریعت کے تابع نہ ہوجائے (مشکوٰۃ کتاب الایمان)
مولانا مودودیؒ نے اس سلسلہ میں یوں تحریر فرمایا ہے کہ ’’یعنی کسی استثنیٰ اور تحفظ کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آئو تمہارے خیالات،تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں۔
ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بعض حصوں میں اسلام کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو۔ (حوالہ تفہیم القران)
موجودہ دور کے افکار
موجودہ دور کے مسلمانوں کا (الا ماشاء اللہ )یہی کچھ رویہ ہے کہ دین اسلام کو مختلف خانوں میں بانٹ کر رکھ دیاگیا ہے یعنی ایک طبقہ وہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ دین کی دعوت دینے والا سیاست پر اظہار خیال نہ کرے اور جو طبقہ سیاسی میدان میں کام کررہا ہے وہ دین کو انسان کی ایک انفرادی حیثیت تصور کرتا ہے۔
اس طرح یہ لوگ دین و دنیا، سیاست و آخرت کو علحدہ علحدہ کرتے ہوئے اپنے اصل مقصد حیات کو بھول رہے ہیں۔حالانکہ قرون اولیٰ میںاہل ایمان کی جماعت سے تعلق رکھنے والوں نے دین اسلام میں پوری طرح داخل ہوجانے کی ایک بہترین مثال قائم کی ہے اور ہمارے لئے ایک بہترین نمونہ چھوڑا ہے جنہیں ہم خلفائے راشدین و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
حاصل کلام
غرضیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے عالی شان منصب پر فائز کرنے اور ہم اہل ایمان کو بہترین امت بناکر اٹھانے کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ دین اسلام کو سارے ادیان پر غالب کیا جائے تا کہ کفر و شرک کا خاتمہ ہو توحید و سنت کا بول بالا ہو اور اس زمین پر دین حق کی حکمرانی چلے اور سارے انسان دنیامیں امن و سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کریں اور آخرت میں راحت حاصل کریں جو مومنوں کو جنت کی شکل میں ملنے والی ہے۔
اس سلسلہ میں ہم سے جو بھی سعی ہوسکتی ہے اس کے لحاظ سے کوششیں کریں فرعونی طاغوتی و شیطانی طاقتوں سے مرعوب ہوکر ان کے قدم بہ قدم نہ چلیں ، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کلام کے ذریعہ ان کو ہمارا کھلا دشمن قرار دیتا ہے، ہم بھی ان کو اپنا دشمن ہی سمجھیں اور اپنے مقصد حیات پر عمل کریں اور اپنے نصیب العین (اقامت ِدین) کی جدوجہد میں لگے رہیں یہاں تک کہ دین اسلام سارے عالم پر غالب آجائے۔



