اخبار انڈین ایکسپریس نے 2؍ جنوری 2022ء کو رپورٹ دی کہ اترپردیش کے علاقہ آگرہ سے ہر روز 50 کیلو آلو کے 500 تھیلے لاریوں کے ذریعہ ریاست تلنگانہ کو بھیجے جاتے تھے لیکن سال گذشتہ حکومت تلنگانہ نے اترپردیش سے آلو منگوانے پر پابندی عائد کردی۔
اخباری رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کے وزیر زراعت ایس نرنجن ریڈی نے حکومت تلنگانہ کے اس اقدام کی مدافعت کی اور کہا کہ جب تلنگانہ میں خود آلوئوں کی تازہ پیداوار ہو رہی ہے تو اترپردیش سے کیوں کولڈ اسٹوریج میں رکھے آلو خریدے جائیں۔
اتر پردیش میں اکتوبر کے وسط سے لے کر نومبر کے آغاز تک آلووں کی کاشت کی جاتی ہے جو کہ فروری سے مارچ تک تیار ہوجاتی ہے۔ اس دوران اتر پردیش کا کسان اپنے آلوئوں کی پیداوار کا صرف پانچواں حصہ بازار میں فروخت کرتا ہے اور باقی کا سارا آلو کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کردیا جاتا ہے۔ جہاں سے یہ آلو نومبر کے مہینے تک سپلائی کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہماچل پردیش، پنجاب کے علاوہ کرناٹک اور مہاراشٹرا سے آلوئوں کی سپلائی شروع ہوجاتی ہے۔
قارئین کرام اس خبر سے پتہ چلا کہ تلنگانہ کی مارکیٹ میں ہر روز 25 ہزار کیلو آلو فروخت ہوجاتا ہے اور فی الحال تلنگانہ میں خود آلوئوں کی کاشت اس قدر ہونے لگی ہے کہ اب اترپردیش سے آلو منگوانے کی ضرورت نہیں رہی۔
قارئین گذشتہ سات برسوں کے دوران جب سے تلنگانہ کی علیحدہ ریاست بنی ہے لوگوں کی زندگیوں میں کیا تبدیلیاں آئی اس حوالے سے کئی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سچ ہے کہ تلنگانہ میں نئی ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے بعد کچھ بدلا یا نہیں اس سے قطع نظر یہ ایک سچائی ہے کہ تلنگانہ میں زراعت اور کاشت کاری کا پورا منظر نامہ بدل گیا ہے۔
ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی سال 2011ء کی مردم شماری کے حساب سے 4464699 تقریباً پینتالیس لاکھ ہے۔ (بحوالہ Statistical Year Book 2007، حکومت تلنگانہ) پوری ریاست تلنگانہ کی آبادی ساڑھے تین کروڑ بتلائی جاتی ہے اور تلنگانہ کے مسلمانوں کی تقریباً 50 فیصد آبادی شہر حیدرآباد میں مرکوز ہے۔ شہر حیدرآباد میں رہائش پذیر مسلمان زرعی سرگرمیوں سے تو دور ہیں لیکن کسی حد تک حیدرآباد کا مسلمان حیدرآباد کی ہائی ٹیک سٹی میں موجود آئی ٹی کمپنیوں کے مواقع سے استفادہ کر رہا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر حیدرآباد سے ہٹ کر ریاست تلنگانہ میں جو مسلمان آباد ہیں وہ زرعی شعبے میں موجود روزگار اور تجارت کے مواقع سے مناسب انداز میں استفادہ کریں۔کیونکہ ریاست تلنگانہ کا زرعی شعبہ بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے اور بے شمار لوگوں کو روزگار اور تجارت کے مواقع مہیا کر رہا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ کا شمار آج پنجاب کے بعد دوسری سب سے بڑی ریاست کے طور پر ہوتا ہے جو چاول کی کاشت کرتی ہے۔ سال 2015-16 کے دوران تلنگانہ کی چاول کی کاشت 23.57 لاکھ ٹن تھی جو کہ سال 2020-21 کے دوران 141.09 لاکھ ٹن تک جا پہنچی ہے۔
اس طرح پنجاب کے بعد تلنگانہ کا دوسرا نمبر ہے جہاں سے مرکزی حکومت چاول خرید رہی ہے۔ صرف چاول کی کاشت کے میدان میں ہی نہیں بلکہ کاٹن کی کاشت کے حوالے سے بھی تلنگانہ، مہاراشٹرا اور گجرات کے بعد تیسرے نمبر پر پہنچ چکی ہے۔
جہاں تک آلو کی کاشت کا سوال ہے تو ریاست تلنگانہ میں ساڑھے تین ہزار سے لے کر چار ہزار ایکڑ کے رقبہ پر خاص کر ظہیر آباد اور سنگاریڈی کے اضلاع میں آلو کی کاشت کی جارہی ہے۔ تلنگانہ کے وزیر زراعت نرنجن ریڈی کے مطابق ریاست تلنگانہ میں نئے آبرسانی پراجیکٹس کی وجہ سے زیر کاشت رقبہ میں ایک لاکھ ایکڑ کے اضافہ کی گنجائش ہوگئی ہے اور کچھ عرصے میں تلنگانہ میں اس اضافی رقبہ بھی کاشت شروع ہوگی۔
فی الحال ہم آلو کی کاشت میں اضافہ پر غور کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب آلو کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے تو اس وقت ہم لوگ آلو آگرہ کے کولڈ اسٹوریج سے آلو منگوانے پر مجبور تھے۔5؍ جنوری 2022 کو انگریزی اخبار تلنگانہ ٹوڈے نے کھمم سے ایک رپورٹ شائع کی۔
رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں کاٹن کی کاشت اتنی معیاری ہو رہی ہے کہ کپاس کے کاشتکاروں کو مارکٹ میں زبردست منافع بھی مل رہا ہے۔ کاٹن کارپوریشن آف انڈیا نے اس برس کپاس کی اقل ترین قیمت خریدی (6250/-) مقرر کی ہے اور کھمم کے جلور پیاڈ مارکٹ میں 5 ؍ جنوری کو کپاس کی خریداری کے لیے تاجروں نے 10,200/- فی کنٹل ادائیگی کی۔
جو کہ سرکاری مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔ بازار کے ذمہ داروں نے اخبار کو بتلایا کہ مارکٹ میں کپاس کے 4750 سے زائد تھیلے آتے تھے۔ گذشتہ دس دنوں سے کپاس کی فی کنٹل قیمت 9 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ گجرات، مدھیہ پردیش کرناٹک اور دوسری ریاست سے تاجرین کپاس کی خریداری کے لیے تلنگانہ کا رخ کر رہے ہیں اور کھمم کے کپاس کے معیار سے مطمئن ہوکر اس کو خریدنے 10 ہزار فی کنٹل کی قیمت بھی دینے کے لیے تاجر تیار ہیں۔
حالانکہ اس برس کھمم میں صرف 1.00 لاکھ یکڑ زمین پر ہی کپاس کی کاشت ہوئی ہے لیکن جن کسانوں نے کپاس کی فصل اگائی انہیں بہترین قیمت مل رہی ہے۔ یوں کرونا کے بحرانی دور میں جب معیشت کے ہر سیکٹر میں گراوٹ آئی ہے صرف زرعی شعبہ ایسا رہا جس نے ہندوستانی معاشی ترقی کے منظر نامے میں 19.9 انیس اعشاریہ نو کی شرح سے ترقی ریکارڈ کرنے میں مدد کی ہے۔
زرعی شعبہ پر حکومت کتنا بجٹ خرچ کر رہی ہے ذرا اس کا بھی اندازہ لگائیے۔ تلنگانہ کے 30 لاکھ زرعی پمپ سیٹس کو حکومت کی جانب سے مفت میں الیکٹریسٹی دی جارہی ہے اور کسانوں کو مفت میں برقی کے لیے ریاستی حکومت 10 ہزار کروڑ سالانہ خرچ کر رہی ہے۔
ریاستی حکومت (63) لاکھ کسانوں کے خاندانوں کو ریتو بندھو اسکیم کے تحت راست کسانوں کے بینک اکائونٹس میں پچاس ہزار کروڑ روپئے کی نقد امداد تقسیم کر رہی ہے۔
زراعت کے شعبہ اور زرعی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے حالیہ عرصے میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان بھر میں زرعی شعبے سے 813ء بلین ڈالر مالیتی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے اور سال 2030ء تک ہندوستان کا زرعی شعبہ ملک کا سب سے بڑا خانگی شعبہ بن جائے گا اور اس شعبہ میں (153) ملین نوکریوں کے مواقع نکلیں گے۔
دنیا کے بشمول ہمارے ملک ہندوستان میں آگے چل کر معیشت کا کونسا شعبہ کس طرح کا مظاہرہ کرے گا، کس شعبہ کے لیے کونسے چیالنج ہوں گے اور ان چیالنجس کا سامنا کرنے کیا اقدامات کرنے ہوں۔ ماہرین تجزیہ نگار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایک ایسے پس منظر میں جب حکومتی شعبے میں مواقع کم سے کم ہوتے جارہے ہیں۔ بیرون ملک حالات چیالنجس سے بھرے ہیں اور ہر ملک روزگار کے میدان میں اپنے شہریوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اندرون ملک روزگار اور تجارت کے مواقعوں کو تلاش کریں اور جب پتہ چل رہا ہے کہ ہندوستان کا زرعی شعبہ ہی خانگی شعبہ میں سب بڑا ہوگا مسلمان اگر اب بھی تماشائی بنے رہے تو اپنے ہی ملک میں اجنبی بن کر رہ جائیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کا مسلما خاص کر تلنگانہ کے مسلمان بھی اس حوالے سے غور کرے کہ وہ کیسے زرعی شعبے میں موجودہ مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کرسکتا ہے۔ صرف زراعت ہی نہیں اس سے جڑے شعبوں میں بھی کاروبار اور تجارت کے بیش بہا مواقع ہیں۔
رونے دھونے شکوے شکایت کرنے سے مسائل حل نہیں ہونے والے ہیں۔ زندگی تو انہی لوگوں کی آسان ہوگی جو حرکت کریں گے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کرونا کے بحران میں طیاروں کی آمد و رفت، ٹرینوں کی نقل و حرکت، گاڑیوں کا چلنا رو ک دیا گیا تھا۔ صنعتیں بند ہوگئی تھیں۔
بڑی بڑی کمپنیاں آن لائن کام کرنے لگی تھیں۔ لیکن زرعی شعبہ واحد ایسا سیکٹر تھا جہاں سرگرمیوں کی بھی اجازت تھی اور کام کرنے والوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ چھوٹ بھی حاصل تھی اور ماہرین نے پیش قیاسی کردی ہے کہ ملک کا سب سے بڑا خانگی شعبہ زرعی شعبہ ہوگا۔
اب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شعبہ کے مواقعوں سے استفادہ کریں۔ منصوبہ بندی کریں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کود ور حاضر اور مستقبل کے چیالنجس کا سامنا کرنے کی عقل سلیم عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
بقول شاعر
اب میں راشن کی قطاروں میں نظر آتا ہوں
اپنے کھیتوں سے بچھڑنے کی سزاء پاتا ہوں
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)



