سیاسی و مذہبی مضامین

شادی ایک چیلینج ہےاور اس چیلینج کو قبول کرنے کا جو عزم کر لیتے ہیں انکی شادیاں کامیاب رہتی ہیں!!

حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی

ہرماں باپ کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو کسی اچھی فیملی کسی اچھے لڑکے کے ساتھ شادی کیلئے منسوب کریں اور جب ایسا ہو جاتا ہےتو ان کا دل دوسرے وسوسوں میں گھرنے لگتا ہے لخت جگر کی شادی ایک بہت بڑا امتحاں ہے جس میں غم اورخوشی دونوں عنصر موجود ہوتے ہیں والدین بہن بھائی اور سہیلیاں سب اسے آنسوؤں کی برسات میں رخصت کرتی ہیں اس وقت ان کی زبان پر ایک ہی دعا ہوتی ہے اللہ اسے تمام خوشیاں دینا کہ سدا سہاگن رہے اپنے گھر میں خوشحال زندگی بسر کرے سسرال والوں کی آنکھ کا تارا بنی رہے۔

دعاوں کی سوغات کے ساتھ سسرال جانے والی لڑکی کی ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے اسے خود کو مکمل طور پر بدلنا پڑتا ہے ایک لڑکی اپنے میکے میں اگرخوب شوخ طبیعت کی مالک ہے تو سسرال میں اسے اپنے مزاج کی اس شوخی پر قابو پانا ہوتا ہےایک خوشحال زندگی کیلئےضروری ہے کہ وہ وقت سے پہلے اندازہ لگالے کہ سسرال والے کسیے ہیں اس گھر کا ماحول کیسا ہے؟

رہن سہن کیا ہے کتنے افراد ہیں اور کون کس مزاج کا ہے؟شوہر کا مزاج کیسا ہے؟

اگرسسرال والوں کا مزاج اچھا ہے سب ملنسار ہیں تو ہر لڑکی ایسے ماحول میں گزارہ کر سکتی ہے، لیکن اگر وہ سب ہر کام حد میں رہ کر کرنے کے عادی ہیں تو لڑکی کو بھی اپنا مزاج تھوڑا تبدیل کر لینا پڑے گا سسرال والے اگر کم گو ہیں ،تو لڑکی کو بھی اپنی زبان اورمزاج پر قابو رکھنا ہوگاشوہر کے مزاج میں غصہ ہے تواس وقت نہ تو شوخیاں کرنا چاہیے اور نہ ہی خود اپنا غصہ ظاہرکر ناچاہیے خاموش رہنا ہی ضروری ہے بعد میں جب موڈ خوشگوار ہو جائے تو نہایت نرمی اور پیار سے غصے کی وجہ معلوم کرنا چاہیے۔

بیوی شوہر کی فرمانبرداری کرے لیکن جوائنٹ فیمیلی میں رہنے والوں کو یاد رہے کہ آپ کو صرف شوہر کے ساتھ ہی نہیں رہنا بلکہ اس کے پورے گھر کے ساتھ رہنا ہےآپ اگر صرف شوہر کی پرواہ کریں گی تو باقی گھر والوں سے آپ کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں آپ کو نہ صرف شوہر سے بلکہ اس کے تمام گھر والوں سے اچھے اخلاق پیش کرنے کی ضرورت ہے ایسی لڑکیوں کیلئے شادی ایک چیلینج ہےجو لڑکیاں اس میں کامیاب ہوجاتی ہیں ان کی شادی کامیاب رہتی ہے۔

اکثر ماں باپ کے گھر لڑکی بہت آزاد ہوتی ہے اپنے فیصلوں میں اسے خود مختاری حاصل ہوتی ہے اپنی مرضی سے کھانا پینا سونا جاگنا ہوتا ہے جب کہ شادی کے بعد ایسا نہیں ہوتا اور ہونا بھی نہیں چاہیے جب آپ ایک نئے ماحول میں آئی ہیں توخود کو اس ماحول کا عادی بنانے کے لیے بھر پور کوشش کریں۔

بہت سی لڑکیاں شادی کے بعد ہر بات میں سسرال کے لیے یہاں کا لفظ استعمال کرتی ہیں مثلا ہمارے یہاں تو یہ نہیں ہوتا یا ہماری امی کے گھر تو سالن دوسرے طریقے سے بنتا ہے میں تویہاں سب دیکھ رہی ہوں ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ سسرال والوں سے اجنبیت برت رہی ہیں اپنی سسرال کی طرف سے ہر اس تقریب میں شرکت کریں جس میں سسرال والے آپ کی شمولیت چاہتے ہیں ہر شخص سے خلوص سے ملیں سب کے نام اور رشتے یاد رکھنے کی کوشش کریں۔

اگر کوئی آپ کی ساس یا نند سے ملنے آتا ہے تو آپ ان کو عزت دیں ساس کی رشتہ دار خواتین سے احترام سے ملیں اس سے آنے والے پر بہت اچھا اثر ہو گا ۔اگر آپ کی سسرال کی طرف سے کوئی تحفہ آپ کو ملتا ہے وہ بخوشی قبول کر یں، آپ کو پسند نہ بھی آئے تو بھی دینے والے کا شکریہ ادا کریں اگر کوئی شے آپ کو واقعی پسند آجائے تو دل سے تعریف کریں کچھ لڑکیاں ہر معاملے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہیں۔

اس طرح ان کو صرف برا کہنے والا ہی سمجھ لیا جاتاہے اوراگر واقعی کسی معاملے میں ناپسندیدگی کا اظہار کریں تو کوئی انہیں اہمیت نہیں دیتا کہ یہ تو ہر وقت یہی بولتی ہے جس پر ان کو برا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اپنے آپ کو سسرال کے ماحول میں ڈھال لینا ہی اچھی لڑکی کا کام ہے دونوں طرف کے رشتوں میں توازن کرنا سکھیں قسمت سے آپ کو اچھی سسرال مل گئی ہے تو اس کی قدر کریں۔؎

اگر خدانخواستہ سسرال والے اچھے نہیں تو صبر سے کام لیں اور اللہ سے دعا کریں کہ اللہ ان کو آپ کیلئے رحم دل بنادےاللہ سبحانہ تعالیٰ ہر لڑکی کے نصیب بہترین فرمائے آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button