سیاسی و مذہبی مضامین

مجھے بہتر ہے کچی قبر اپنی- ✍️محمد مصطفی علی سروری

اُم علی کے شوہر کا چار برس پہلے انتقال ہوگیا۔ وہ خود گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھی۔ اس کے علاوہ اب پانچ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری بھی انہی کے کاندھوں پر آنپڑی تھی۔ ام علی کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اب اپنی ذمہ داریوں کو کیسے پورا کریں گی۔
ام علی کا تعلق ہندوستان سے نہیں بلکہ سعودی عرب سے ہے جہاں کی مال و دولت اور جہاں پر دیئے جانے والے عطیہ جات کے متعلق قصے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ام علی کے لیے بھی لوگوں سے مدد مانگنا بڑا آسان تھا لیکن ان کی غیرت نے انہیں اللہ کے سواء کسی اور سے مانگنے سے روکے رکھا۔
ام علی نے بس اپنی مدد آپ کرنے کافیصلہ کیا اور اپنے گھر کے سامنے ہی فرش پر دوکان کھول لی اور اس تجارت سے اپنے لیے آمدنی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ گھر کے سامنے جب ایک خاتون نے دوکان لگالی تو لوگوں نے طرح طرح کی چہ مگوئیاں کرنی شروع کردی۔
ہر کوئی کہہ رہا تھا ایک خاتون سڑک پر بیٹھ کر کیسے کھانا تیار کرتی اور فروخت کرتی ہے۔ لیکن انہوں نے کسی کی نہ سنی۔ ان کے مطابق مجھے اپنی اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حلال کمائی کا یہ ذریعہ اچھا لگا۔ ام علی کے حوالے سے اردو نیوز، جدہ نے یکم؍ فروری 2022ء کی رپورٹ میں لکھا کہ میں سمجھتی ہوں کوئی بھی کام معمولی نہیں۔
انسان چیالنجس کو خود پر سوار نہ کرے بلکہ ان کے حل کی کوشش کرے ۔ وہ روزانہ ظہر کے بعد سے رات دیر گئے تک فرشی دوکان پر عوامی پکوان فروخت کرتی ہوں۔ اس سے فیملی کی تمام ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔
اپنے گردوں کا عارضی کے متعلق اس سعودی خاتون نے بتایا کہ وہ دیڑھ برس تک اپنا علاج بھی کرتی رہی۔ اس دوران ان کی ایک بیٹی نے اپنے گردہ کا عطیہ دیا جس کے بعد ان کی صحت بہترہوگئی۔
قارئین یہ تو سعودی عرب کا واقعہ ہے جہاں پر ایک خوددار خاتون نے اپنی مدد آپ کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور ثابت کردیا کہ حلال کمائی کرنے کے لیے محنت سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ ہمارا کیا حال ہے بلکہ حال نہیں المیہ یہ ہے کہ ہم محنت کرنے والوں کی ہمت کو توڑ دیتے ہیں اور ہاتھ پھیلا کر مانگنے والوں کی گود بھرنے تیار ہوجاتے ہیں۔ 
ہم لوگ ترکاری بیچنے والی خاتون کو طعنہ دے کر کہیں گے کہ کاروبار کے نام پر لوٹ مچارہی ہو اور ڈرامہ بازی کر کے مانگنے والوں کو پیسے دے کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
یقین جانئے جب تک ہم محنت کرنے والوں کی ہمت افزائی نہیں کریں گے تب تک ہماری عبادت گاہوں اور ہمارے محلوں میں بھیک مانگنے والوں کا ڈرامہ جاری رہے گا۔ خیر سے حالیہ کورونا کے دور میں معاشی مسائل کے سبب بہت سارے مسلمان بھی اپنے بچوں کو ترک تعلیم کرواکر حالات کا رونا رو رہے ہیں۔ یاد رکھیں تعلیم سے بے رغبتی اور لاپرواہی بہت سارے مسائل کا پیش قیمہ ثابت ہوتی ہے۔ 
کرونا سے لڑنے کے لیے ویکسین موجود ہے مگر تعلیم سے محرومی کے بعد کوئی بھی ہماری مدد نہیں کرسکتا ہے اور نہ اس کی کوئی دوائی ہے۔ 
ایس عاشکا رانی کا تعلق تاملناڈو سے ہے۔ اس لڑکی کے والدین نے آٹھویں جماعت سے آگے کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ لیکن خود تعلیم سے محروم رہنے والے والدین نے یہ ضروری سمجھا کہ اپنی بچی کو تعلیم دلائی جائے۔ خانگی اسکول کی تعلیم ان کے بس سے باہر کی بات تھی لیکن سرکاری اسکول تو موجود تھا۔
تاملناڈو کے مسلم پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی عاشکا رانی نے خواب دیکھنا شروع کیے۔ عاشکا کے خواب اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے تھے۔ وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ سیکنڈ کلاس کی تعلیم کے دوران جب اسکول میں ڈرامہ پیش کرنا تھا تو عاشکا نے ڈاکٹر کا رول ادا کرنا چاہا اور ڈرامہ میں عاشکا کا ڈاکٹر کا رول دیکھ کر ہر فرد متاثر ہوگیا۔
لوگ تو اس ڈرامہ کو کچھ ہی عرصے بعد بھول گئے لیکن عاشکا نے ڈاکٹر بننے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے رکھا۔ ایک ایسے گھر میں جہاں ماں باپ آٹھویں سے آگے تعلیم حاصل نہیں کرسکے۔ وہاں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایئے کہ ماں باپ نے اپنی بچی کو آٹھویں سے آگے پڑھانے کا فیصلہ کیا۔
عاشکا نے اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کے نمائندے کو بتلایا کہ ہماری کمیونٹی میں لڑکیوں کی بالغ ہونے کے بعد تعلیم روک دی جاتی ہے لیکن میرے ماں باپ نے مجھے آگے پڑھنے کے لیے ہمت بندھائی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عاشکا نے دسویں کے امتحان میں ضلع کی سطح پر اوّل پوزیشن حاصل کی۔ عاشکا کے والدین اس کو آگے پڑھانا تو چاہتے تھے مگر پرائیویٹ کالج کی فیس دینا ان کے بس سے باہر کی بات تھی۔
عاشکا نے سرکاری سہولیات سے استفادہ کر کے NEET کی تیاری شروع کی اور پھر اخباری رپورٹ کے مطابق عاشکا نے 350 مارکس کے ساتھ مدراس میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سیٹ حاصل کرلی۔ 
چونکہ عاشکا کو بیاک ورڈ کلاس مسلم کمیونٹی کا ریزرویشن حاصل ہے اس لیے اس کا سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ ہوگیا۔ عاشکا کہتی ہے کہ خواب تو کوئی بھی دیکھ سکتا ہے لیکن چند ہی لوگ خوابوں کو پورا کرسکتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے ان خوش قسمت لوگوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
وو اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ کہتی ہے کہ میں آگے چل کر ایک کارڈیالوجسٹ بننا چاہتی ہوں۔ (بحوالہ دی نیو انڈین ایکسپریس۔ 30؍ جنوری 2022ء کی رپورٹ)
تعلیم کے لیے غربت کا بہانہ بناکر جو لوگ اپنے بچوں کو گھروں میں بٹھا رہے ہیں وہ لوگ ذرا یہ واقعہ بھی ملاحظہ کریں۔ 26؍ دسمبر 2021کی بات ہے جب بادل پور اتر پردیش کے گائوں کی ایک بارہ سالہ مسلم لڑکی اپنے گھر کے باہر کھیل رہی تھی تب کی ایک پڑوسی خاتون اس کم عمر بچی سے بات چیت شروع کرتی ہے۔
جو لوگ مسلم لڑکیوں کی تعلیم یہ کہہ کر مخالفت کرتے ہیں کہ لڑکیاں جب پڑھ لیتی ہیں تو اپنے ہی مذہب اور خاندان سے بغاوت کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے، وہ اس واقعہ پر غور کریں۔
12 سالہ مسلم لڑکی جس کے گھر کی معاشی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور وہ اپنے گھر میں رہتی ہے۔
12 سالہ مسلم لڑکی اپنی پڑوسی خاتون کو بتلاتی ہے کہ وہ اپنے پڑوس کے ایک لڑکے سے محبت کرتی ہے اور اس کی محبت کا جب اس کی ماں کو پتہ چل گیا تو اس نے خوب پٹائی کی۔ اب پڑوسی خاتون اس 12 سالہ مسلم لڑکی کو یہ کہہ کر ورغلاتی ہے کہ اگر وہ اس کے ساتھ چلتی ہے تو وہ اس کو اس لڑکے کے ساتھ ملا دے گی۔
جس سے وہ محبت کرتی ہے۔ یوں بادل پور کی 12 سالہ مسلم لڑکی کو پڑوس میں رہنے والی خاتون بس میں بٹھاکر ہریانہ لے جاتی ہے اور کر وہاں پر ایک 52 سالہ ہندو شخص کے ساتھ اس کی شادی کروادیتی ہے۔
نوئیڈا پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اترپردیش کی اس لڑکی کو 70 ہزار روپیوں میں ہریانہ کے ایک شخص کو فروخت کردیا گیا تھا۔ ماں کی شکایت پر پولیس نے اس کم عمر نابالغہ مسلم لڑکی کو برآمد کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
(بحوالہ دی پرنٹ27؍ جنوری 2022ء کی رپورٹ) رپورٹ کے مطابق ہریانہ میں مردوں کے لیے دلہن کی خریداری کا باضابطہ طور پر ریاکٹ کام کر رہا ہے کیونکہ وہاں مردوں کے مقابل عورتوں کی آبادی کا تناسب ملک بھر میں سب سے کم ہے۔
قارئین کرام مسائل تو بہت سارے ہیں مسلم سماج میں بھی مسائل کی کمی نہیں ہے۔ ایسے میں دو طرح کے حل دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تو مسائل میں بھرے لوگوں کا دوسروں سے مدد مانگنا اور دوسری شکل اپنی مدد آپ کرنا۔
ہمارے ہاں عمومی طور پر مدد مانگنے والوں کی اور مدد کرنے والوں کی غیر محسوس طریقے سے پذیرائی نظر آتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو خاص کر ضرورت مندوں کو اپنی مدد آپ کرنے کی ترغیب دلائی جائے۔ مثبت ماحول فراہم کیا جائے اور اپنی مدد آپ کرنے کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال و دولت دی ہے تواپنی دولت کو غریبوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کیجئے گا تاکہ وہ لوگ بھی اپنی مدد آپ کرسکیں اور اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوسکیں۔ فیصلہ آپ کا ہوگا آپ کیا چاہتے ہیں۔
لوگوں میں پیسے اور چیزیں بانٹ کر لوگوں کو مانگنے والا ہی بنانا چاہتے ہیں یا ان کو ٹریننگ اور ترغیب کے ذریعہ خود پیسے کمانا سکھانا چاہتے ہیں۔ 
ہر سال سردیوں کے موسم میں کنبل بانٹنا لوگوں کی مدد کا ایک طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ لوگوں اور ضرورت مندوں کو سال بھر کمانے کی تربیت اور وسائل مہیا کروائے جائیں تاکہ اگلے برس تک وہ سردیوں سے اپنے بل پر ہی مقابلے کے قابل بن سکیں۔
طئے کرلیں ہم اپنے سماج میں مانگنے والوں کی فوج تیار کر رہے ہیں یا اپنی قوم کو اپنی مدد آپ کرنا سکھلا رہے ہیں۔ بظاہر حالات خراب ہیں۔ لیکن تعلیم سے بچوں کا رشتہ توڑنا کسی طرح بھی موزوں و مناسب نہیں۔
آگے بڑھئے حالات کا سامنا کرنا، اپنی مدد آپ کرنا شروع کیجئے۔ ورنہ عمر بھر مانگنے والے ہی کہلائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کے حالات پر رحم فرمائے اور ہم سب کو اپنی مدد آپ کرنے والا بنائے۔ آمین
بقول شاعر
مجھے بہتر ہے کچی قبر اپنی
کسی گنبد سے جوخیرات کا ہے
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button