سیّد علی انجم رضوی
اگر ہم ماضی کے دریچوں سے جھانک کر دیکھیں تو یونانی کی زرّیں تاریخ ہمیں دعوتِ نظّارہ دیتی ہے ۔ دورِ قدیم ہی سے جڑی بوٹیاں حُکمَاء اور اَطِبّاء کی تَوجُّہ کا مرکز بنیں ۔ اُنھوں نے ان جڑی بوٹیوں سے انسان کی بیماریوں کے تَدارُک اور اس کی بقا کے لیے مُوثٔر اَدوَیّات ڈھونڈ نکالیں ۔
قدیم زمانہ میں اس طرزِ علاج نے کیسی کیسی کرشمہ سازیاں کی ہیں یہ تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہے ۔ تمام قدیم دانشور، فلسفی ، ریاضی داں اور سائنس داں اِس طرزِ علاج کے بھی ماہر رہے ہیں ۔ اِس کی ادوَیّات کی اثر انگیزی کا ہر کوئی اسیر رہا ہے ۔ملک میں ایک زمانے تک حکیم اور وید ہی علاج کیا کرتے تھے۔
یونانی طرزِ علاج کا ہندوستان میں ایک شاندار ریکارڈ رہا ہے۔ یہ ہندوستان میں عَربوں اَور ایرانیوں کے ذریعے گیارہوِیں صدی کے اِرد گِرد وارِد ہوئی۔مگر ہندوستان میں برِٹیش حکومت کے دوران اِس نظام کو ایک سنگین جھٹکا لگا۔ ایلوپیتھک نظام شروع کیا گیا اَور اس نے اپنے پیر جما لیے۔
یونانی نظام کی تعلیم، تحقیق اَور مشق کو تقریباً دو صدیوں تک ناقدری کا مقابلہ کرنا پڑا۔ اس کے باوجود برٹِش دور میں بھی دِلّی میں شریفی خاندان، لکھنؤ میں عزیزی خاندان اور حیدر آباد کے نظام کی کوششوں کی وجہ سے یونانی علاج بادِ مخالف کے تیز و تُند جھونکوں سے محفوظ رہ پایا۔
موجودہ دور کے دوا ساز ، زمین میں موجود معدنی ذخائر سے یونانی طریقوں ہی کی مدد سے اَدوَیّات تخریج کرتے ہیں ۔ مشہور فزیشن اور کیمسِٹ اَلْرَاضِی اور اِبنِ سِینا کی خدمات طِبِّ یونانی میں خاص اہمیت کی حامِل ہیں ۔ اُن کی تحریر کردہ کتابیں ’’کونٹینس‘‘ اور’ ’دی کینن آف میڈیسن‘‘ کو آج بھی دنیا بھر میں طِبِّ یونانی کے نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
بلکہ دور ِجدید میں بھی ان کتابوں کو سائنس داں ریسرچ کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ جدیدمعالجین بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے یونانی طریقے اپنا رہے ہیں۔ اس کی ایک زندہ مثال حِجامہ ہے ۔ اس طریقہ ٔعلاج سے آج بہت سے لوگ فائدہ اْٹھارہے ہیں۔مگر افسوس کہ ان تمام انفرادی خصوصیات کے باوجود یونانی طریقۂ علاج کا کہیں تذکرہ نظر نہیں آتا ۔
جدید دور میں یونانی کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کی وہ حق دار ہے ۔ ہم یونانی پیتھی کا صحیح تعارف کرانے میں ناکام رہے ہیں ۔ زمانے کی اس بے نِیازی کی ایک وجہ تو ہماری اپنی کوتاہی ہے ۔ ایلوپیتھی کی یلغار میں ہم نے یونانی کو بوسیدہ جُزدان میں لپیٹ کر رکھ دیا ۔ ہم نے یونانی کو اپنایا تو ہے ، مگر صرف اَسناد کے حصول کی حد تک ۔ ڈگری ملنے کے بعد ہم خود اسے بڑی بے دردی سے فراموش کر دیتے ہیں ۔
ہمارا احساسِ کمتَری بھی اس کے لیے ذمہ دارہے ۔ اپنے آپ کو ’’ حکیم ‘‘ کہلوانے کے بجائے ہم ڈاکٹر کہلوانا زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ ہماری اِنھیں کوتاہیوں کی وجہ سے ہم نئی نسل کو اس سے ہم آہنگ نہیں کر پائے ۔
یونانی دوا ساز کمپنیوں کی کوتاہیاں بھی اس کی اہم وجہ ہے ۔ وہ آج کے مقابلہ جاتی دور میں اپنے پراڈکٹ (Product) کی افادیت کو منوانے میں ناکام ہیں ۔ اس لیے ضروری ہے کہ یونانی دوا ساز کمپنیاں جدید تقاضوں کے مطابق دواؤں کی تشہیر اور ترسیل کے طریقوں کو اختیار کریں ۔ نہ صرف صارفین کو راغب کریں بلکہ معالجین اور تقسیم کاروں کو بھی متوجہ کریں ۔
زمانہ کی اس ناقدری کے باوجود یونانی کا مستقبل روشن نظر آتا ہے ۔ یونانی طریقۂ علاج میںہمارے ملک کے ’’ ورلڈ لیڈر ‘‘ بننے کے عزائم موجود ہیں ۔ آج لوگ تمام تر علاج کرانے کے بعد آخری چارۂ کار کے طور پر یونانی کی جانب آتے ہیں۔ لیکن اگر ہم منظم طریقہ پر کوششیں کریں تو لوگ یونانی کو ترجیحی بنیاد پر اپنائیں گے۔
اگر جدید طریقۂ علاج اور قدیم طریقۂ علاج کا موازنہ کیا جائے تو ہم پاتے ہیں کہ آج ہماری بیماری کا فیصلہ مشین اور رپورٹس کرتی ہیں۔ ہمارا مقصد چند رپورٹس کو درست کرنا ہو گیا ہے۔ لیکن اگرہم عوام و خواص کو اس بات پر قائل کر پائیں کہ یونانی طریقہ ٔعلاج میں تکلیف پر توجہ دے کر کیفیات کی بنیاد پر اسے دوٗر کیا جاتا ہے ، تو یقیناً لوگ یونانی کی جانب راغب ہوں گے ۔
یونانی طریقۂ علاج کی اثر انگیزی کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ کورونا وائرس نے ساری دنیا میں طوفان بَپا کر رکھا ہے ۔ پریس اِنفارمیشن بیورو یعنی PIB نے اپنی Advisory میں کہا ہے کہ اس جان لیوا بیماری میں یونانی اَدوَیّات بہت مفید ہیں ۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ بھارت میں روایتی طریقہ ٔ علاج کو عام کرنے میں گزشتہ ایک دہائی میں مزید تیزی آئی ہے۔ آج ہندوستان ، طبِّ یونانی کو فروغ دینے والے معروف ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں یونانی تعلیم، تحقیق اَور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کی سَب سے بَڑی تَعداد ہے۔ حکومت نے ایک علیٰحدہ وزارت ’’ آیوش ‘‘ بنا کر روایتی طریقۂ علاج کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر جنوبی افریقہ، ایران، چین، امریکہ، اسرائیل، یونان، بنگلہ دیش، تاجکستان، سری لنکا اور دیگر ممالک کے ساتھ وزارتِ آیوش کا یونانی شعبہ تعاون اور مفاہمت کے مراحل میں ہے۔ اگر یونانی کی ترقی کی یہی رفتار رہی اور ہماری مخلصانہ کوششیں شاملِ حال رہیں تو وہ دن دور نہیں جب یونانی پیتھی دیگر پیتھیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا لوہا منوانے لگے گی ۔



