کنیت اور نام
آپ کی کنیت ایسی مشہور ہے کہ نام چھپ کر رہ گیا۔اصحاب سیر نے آپ کے نام کے بارے میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں،خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے نام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں میرا نام عبدشمس بن صخر تھا اسلام لانے کے بعد نبی کریم ﷺ نے میرا نام عبدالرحمن اور کنیت ابوہریرہ ؓرکھی۔
ابوہریرہؓ کی کنیت
حضرت ابوہریرہ ؓ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بلی پال رکھی تھی ،رات کو اس کو درخت پہ رکھتا تھا اور صبح کو جب بکریاں چرانے جاتا تو ساتھ لے جاتا اور اس کے ساتھ کھیلتا تھاتولوگوں نے یہ بات دیکھ کر مجھے ابوہریرہ کہنا شروع کردیا۔
ہجرت اور قبول اسلام
حضرت ابوہریرہؓ خود بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ خیبر تشریف لے گئے اور میں ہجرت کرکے مدینہ پہنچاحضرت ابوہریرہ ؓ کے قبیلہ کے ایک آدمی طفیل بن عمرو دوسی نے ہجرت عظمی سے پہلے مکہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے وطن یمن واپس آکر اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی اور غزوہ خیبر کے زمانہ میں یمن سے 80 افراد کو لے کر حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے،آپ تشریف لے گئے تھے،پھر یہ حضرات بھی خیبر پہنچے۔
اسی وفد میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے،انہوں نے بھی نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔سیدنا ابن عمرؓ نے ایک مرتبہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے فرمایا کہ آپ ہم سب سے زیادہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر رہتے تھے، اور ہم سب سے زیادہ ان کی حدیثوں کو یاد رکھنے والے ہیں ،
سیدنا ابوہریرہ ؓ سےروایت ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہﷺ کے پاس کھجوریں لایا اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ ان میں برکت کی دعا کیجئے، آپﷺ نے انہیں جمع کرکے میرے لئے دعا کی اور فرمایا لو پکڑو اور اسے اپنے توشہ دان میں رکھ دو،جب تم لینا چاہو تو ہاتھ ڈال کر لے لینا اور اسے جھاڑنا نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں سے کتنے ہی ٹوکرے اللہ کی راہ میں خرچ کئے پھر خود بھی ہم اس میں سے کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے وہ تھیلی کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوئی تھی، لیکن جس روز سیدنا عثمانؓ کو قتل کیا اس روز وہ گر گئی ۔
سفر آخرت کے وقت حالت
آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا زادراہ کم ہے سفر طویل ہے۔
شیخ عائشہ امتیازعلی,متعلمہ! مہاراشٹرا کالج ناگپاڑہ ممبئی



