قومی خبریں

غلام نبی آزاد کو صدر جمہوریہ بنانے کی تیاریاں، بی جے پی کا نیا وار

 کانگریس مکت بھارت بنانے بی جے پی قیادت کی سرگرمیاں تیز :مسلمانوں پر ظلم، کشمیر مخالف پالیسی پر بگڑی شبیہہ بہتر بنانے کے اقدامات!

مودی کے ایک تیر سے کئی شکار، آزاد کی تائید نہ کرنے اویسی کا کے ٹی آر پر زور!!

حیدرآباد:(نعیم وجاہت)پانچ ریاستی اسمبلیوں کے حالیہ انتخابی نتائج نے گاندھی خاندان اور کانگریس کے مستقبل پر سوالیہ نشانات پیدا کردیئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کرنے والی کانگریس کو ختم کرنے کا جو منصوبہ بنایا گیا ہے اس پر تیزی سے عمل ہو رہا ہے۔
136 سالہ قدیم انڈین نیشنل کانگریس کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی جوڑی ببانگ دہل یہ اعلان کرتی رہی ہے کہ ملک کو کانگریس سے پاک (کانگریس مکت بھارت) بنایا جائے گا اور اس سلسلہ میں حکمراں جماعت کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور کچھ بھی کرسکتی ہے۔
اس ضمن میں باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ سنگھ پریوار اور اس کی سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی نریندر مودی کی زیر قیادت اس کی حکومت کانگریس کو دو دھڑوں میں تقسیم کرنے کی خواہاں ہے اور اس کے لئے وہ G23 (کانگریس کے ناراض قائدین کا وہ گروپ جو پارٹی قیادت میں تبدیلی کا خواہاں ہے) کے بعض ارکان کو استعمال کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔
اس معاملہ میں کسی وقت گاندھی خاندان کے انتہائی یا اعتماد رفیق رہے سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد Ghulam Nabi Azad کا نام لیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی قیادت غلام نبی آزاد سے ربط میں ہے۔ وہ چاہتی ہیکہ غلام نبی آزاد کانگریس کے ناراض قائدین کولیکرنئی کانگریس کا آغاز کریں۔
بی جے پی قیادت کو امید ہے کہ G23 کے بعض قائدین کانگریس کو توڑنے میں اس کی مدد ضرور کریں گے، چنانچہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان قائدین کو اعلیٰ دستوری عہدوں پر فائز کئے جانے کے لالچ بھی دیئے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر کہا جارہا ہے کہ بی جے پی قیادت ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی خواہاں ہے۔ اس کی تمام تر توجہ غلام نبی آزاد پر مرکوز ہے۔
وہ غلام نبی آزاد کو صدر جمہوریہ کے باوقار عہدہ پر فائز کرنے کی پیشکش بھی کررہی ہے۔ اس کے لئے شرط یہ ہے کہ پہلے غلام نبی آزاد کانگریس کے ناراض قائدین کے ہمراہ کانگریس کو توڑیں گے اور جب کانگریس دو دھڑوں میں تقسیم ہوگی تب کانگریس گاندھی خاندان تک سمٹ کر رہ جائے گی۔
اس کے فوری بعد بی جے پی قیادت نہ صرف راست طور پر عہدہ صدارت (صدر جمہوریہ) کے لئے غلام نبی آزاد کا نام پیش نہیں کرے گی بلکہ این ڈی اے کے کسی حلیف قائد کے ذریعہ یہ تجویز پیش کرائے گی کہ غلام نبی آزاد کو عہدہ صدارت کا متحدہ و مشترکہ امیدوار بتایا جائے۔
اس سے نریندر مودی حکومت کو کئی فوائد حاصل ہوں گے۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مودی حکومت کا جو رویہ ہے اسے لے کر عالمی سطح پر بالخصوص عالمی اداروں کے ذریعہ بہت تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ اگر غلام نبی آزاد کو عہدہ صدارت کا امیدوار بی جے پی بالواسطہ بناتی ہے تو پھر اس سے عالمی سطح پر مودی حکومت کی بگڑی شبیہہ بہتر ہوگی۔
غلام نبی آزاد کا تعلق کشمیر سے ہے وہ کشمیر کے چیف منسٹر بھی رہ چکے ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح بالخصوص عرب ممالک میں ہندوستانی مسلمانوں پر ہندوتوا فورس کے مظالم کو لے کر جوبرہمی اور ناراضگی پائی جاتی ہے اس کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مودی حکومت عرب ممالک کو یہ بتائے گی کہ ہم نے ایک مسلمان کو ملک کا صدر بنایا ہے۔ اس طرح وہ Image Biulding کے عمل کو مستحکم بنائے گی یعنی ایک تو وہ کانگریس کو توڑنے میں کامیاب ہوگی، دوسرے کشمیر سے متعلق عالمی برادری میں ہوئی بدنامی کو دور کرے گی،
تیسرے ہندوستانی مسلمانوں پر فرقہ پرستوں کے مظالم پر پردہ ڈالنے کی بھی کوشش کرے گی، چوتھے عالمی سطح پر مودی کا امیج بھی بہتر ہوگا۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اہم ترین اجلاس سے قبل دہلی میں واقع غلام نبی آزاد کی قیامگاہ پر G23 کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔
اسی طرح ایک اجلاس اسلامک کلچرل سنٹر دہلی میں منعقد ہونے والا ہے جس میں غلام نبی آزاد اور دوسرے ناراض کانگریس قائدین کانگریس کو توڑ کر نئی پارٹی بنانے کا اعلان کرسکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہیکہ G23 میں شامل تمام کے تمام کانگریس قائدین بشمول آنند شرما، کپل سبل، مکل واسنک، غلام نبی آزاد کی تائید و حمایت کریں گے یا پھر بی جے پی کی سازش کو سمجھ کر ان سے دوری اختیار کریں گے۔
ویسے بھی یہ وقت کانگریس سونیا گاندھی، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی کے ساتھ ساتھ ان کے حامی قائدین کے لئے محاسبہ کا وقت ہے کیونکہ 5 ریاستوں میں سے اسے کسی بھی ریاست میں کامیابی نہیں ملی بلکہ اس نے بدترین مظاہرہ کیا۔ پنجاب میں اقتددار پررہنے کے باوجود وہ اقتدار سے محروم ہوگئی۔ سیاسی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل یوپی کی 403 نشستوں میں سے اسے صرف 2 پر کامیابی حاصل ہوئی۔
باوثوق ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوپی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد صدر مجلس اسد الدین اویسی نے کے ٹی آر سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں کے ٹی آر پر زور دیا کہ وہ عہدہ صدر جمہوریہ کے لئے غلام نبی آزاد کی ہرگز تائید نہ کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button