سیاسی و مذہبی مضامین

ہندوستانی سیاست اور مسلمان

حالات ہر دن بگڑتیں نظر آ رہے ہیں جبکہ ہماری نظر معاملات پر نہیں ہے معاملات دینی، سماجی، سیاسی یا دنیاوی ہو ہمارے پاس احتساب کی کوئی ترکیب نہیں ہے ترتیب نہیں ہے ہم محض ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے پر آمادہ رہتے ہیں اور ہم اسی میں خوش بھی ہے۔

کیونکہ ہمارے ذہن میں جو بات آئی زبان سے نکل گئی اور ہم اسی پر خوش ہے کہ میں نے فلاں کو فلاں مسئلے پر فلاں باتیں کردی جب کہ ہم کو بے بنیاد بحث و مباحثے سے اوپر اٹھ کر حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔

حالات وہ جو بدل رہے ہیں حالات وہ جو بگڑ رہے ہیں 2014 سے اب تک کے حالات سب کے سامنے ہیں چاہے معاملہ طلاق ثلاثہ کا ہو ماب لنچنگ کا ہو لو جہاد کا ہو مرکز نظام الدین کا ہو ، اب حجاب کا ہو سارے معاملات ہمارے ہاتھ سے ایسے پھسلتے جا رہے ہیں ،جیسے مٹھی سے ریت پھسلتی ہے ،لیکن ہم احتساب کرنے پر آمادہ نہیں ہے اور ہم کب احتساب کرنے پر آمادہ ہوں گے یہ سوال سوچنے کا ہے ۔

ہم نے سمجھا ہی نہیں کہ ملک میں جنگ کس چیز کی جاری ہے اور وہ جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جارہی ہے، ملک میں ذہنیت کی جنگ جاری ہے ،ملک میں نفرت انگیزی کی جنگ جاری ہے ،ملک میں ایک طبقے کو کمتر ثابت کرنے کی جنگ جاری ہے ،ملک میں دوسرے طبقے کو اولین بنانے کی جنگ جاری ہے ،ملک ایک واحد مذہب کے رسم و رواج کی طرف بڑھ رہا ہے اور ان تمام جنگوں کا واحد ہتھیار سیاست ہے ،جو ہمارے پاس نہیں ہے اس جنگ میں ہم نہتے ہیں۔

اس جنگ میں ہم بے ساز و ساماں ہیں اور وہ صرف اس لیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حصے میں واحد قیادت آئے جبکہ ملک کی صورتحال یہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مسلمانوں کو اجتماعی قیادت کی ضرورت ہے ہاں وہ قیادت کی جو الگ الگ حصوں سے آتی ہو الگ الگ شہروں سے آتی ہو الگ الگ مراحل سے آتی ہو الگ الگ سونچ  سے آتی ہو الگ الگ پارٹیوں سے آتی ہو اور ان تمام مختلف سیاستدانوں کا ایک ہی اولین مقصد ہو کہ ملک کے ہندوستان میں مسلمانوں کا اقلیتوں کا پسماندہ طبقات کا وقار برقرار رہے۔

سیاسی وجود برقرار رہے پرسنل لا برقرار رہے مذہبی آزادی برقرار رہے تعلیمی آزادی برقرار رہے سیاسی آزادی برقرار رہے اگر یہ تمام مسائل کو لے کر کوئی قیادت عروج پر آتی ہے تو یہ صورتحال یقینا تبدیل ہوگی مگر شرط ہے کہ قیادت اجتماعی ہو کیونکہ وحدانیت کا شرف خدائے تعالی کو حاصل ہے اور واحد خدا کی ذات ہے جو اکیلے تمام کاموں کو چلا سکتی ہے۔

تمام نظام کو چلا سکتی ہے سورج اور چاند کے نظام کو زمین و آسمان کے نظام کو اکیلے چلانے والی طاقت اللہ کی ہے لیکن بعد از خدا کسی کو کوئی بھی کام کرنا ہو تو اس کو اجتماعیت کی ضرورت ہوگی اس کو افراد کی ضرورت ہوگی اور ملک اس وقت سیاسی اجتماعیت کی طرف مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے ہاں مسلمان قیادت ہر پارٹی میں موجود ہونی چاہیے چاہے وہ کانگرس ہو راشٹروادی کانگریس ہو سماجوادی پارٹی ہو ونچت بہوجن اگھاڑی ہو، بہوجن سماج پارٹی ہو یا مجلس اتحاد المسلمین ہو یا تمام سیاسی پارٹیاں ہو ہر پارٹی میں ہر سیاسی جماعت میں مسلم نمائندگی کی اس وقت بہت ضرورت ہے اور اگر ہم اس بات کو نظر انداز کریں گے تو ہمیں اس کا خمیازہ بہت خطرناک بھگتنا پڑھ سکتا ہے۔؎

ہمیں اپنے آپ کو سیاسی اعتبار سے بیدار کرنے کی ضرورت ہے نسل نو کو سیاست میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے ،دینی حلقوں کو وہ جماعتوں کو سیاست میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے اور اگر ہم اس وقت اس سیاست سے نظر انداز کریں گے تو ہمارا مستقبل اندھیرے میں ہوگا مسجدوں کے میناروں سے اذان نہیں گونجییگی داڑھی رکھنا ٹوپی پہننا قرآن پڑھنا مکتب چلانا دینی درسگاہیں چلانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

کیونکہ ملک عزیز ہندوستان میں فیصل سیاست ہے فیصلہ کن عمارتیں جن کو کہا جاتا ہے چاہے وہ پارلیمنٹ ہو چاہے وہ راجہ صبح ہو چاہے وہ کسی اسٹیٹ کی اسمبلی ہو ان تمام عمارتوں میں ملک کا مستقبل طئے ہوتا ہے، ملک میں بسنے والوں کا مستقبل طے ہوتا ہے ملک میں کیا چلے گا یا نہیں چلے گا۔؎

یہ ان عمارتوں میں طئے ہوتا ہے ملک میں کس کو آزادی ہوگی، کس پر پابندیاں ہوگی یہ بھی ان عمارتوں میں طئے ہوتا ہے اور ان عمارتوں میں جانے کے لیے سیاست میں ہونا شرط ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک عزیز میں شریعت کی حفاظت ہو اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک عزیز میں مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کو اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی بے خوف و خطر ہو کر اسلام پر عمل کرے ہمارے مدارس کھڑے رہے۔

ان میں بچے پڑھتے رہیں ہمارے مکاتب چلتے رہے ہماری بچیاں باپردہ رہے ہماری نسلیں رمضان کے روزے بھی رکھے عید گاہ میں نماز عید بھی پڑھے ہم بکرا عید میں قربانیاں بھی کریں ہم ملک میں دعوت و تبلیغ بھی کریں ہمارے جلسے جلوس بھی ہوتے رہے اگر ہم چاہتے ہیں یہ تمام چیزیں ایسی ہیں ہو جیسی ہوتی رہی ہے تو ہمیں سیاست میں آگے آنا ہوگا ہماری نسلوں کو سیاست کے لئے تیار کرنا ہوگا ہمارے ممبروں سے سیاسی بیداری کرنی ہوگی ہمیں حکمت کا دامن پکڑنا ہوگا ہاں ہمیں بیدار ہونا ہوگا راحت اندوری صاحب نے کہا تھا۔

نہ ہم سفر سے نہ ہم نشیں سے نکلے گا
ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

یہ وقت باظرف ہونے کا ہے کم ظرفوں کے لعن طعن کے خوف سے ہم سیاسی دوری نہیں بنا کے رکھ سکتے اگر ہم سیاسی دوری بنا کر رکھیں گے تو اس کا نقصان آنے والی نسلوں کو اٹھانا پڑے گا اور ملک میں اسلام وہ مسلمانوں کا جو بھی حال ہوگا اس کے ذمہ دار ہم ہوں گے اور آخرت میں خدائے تعالیٰ ہمارا گریبان پکڑے گا۔

میں خاص کر کر ہمارے دینی حلقوں کے ذمہ داران سے غمزدہ دل کے ساتھ یہ درخواست کرتا ہوں کہ نسل کو تباہ ہونے سے بچا لیجئے سیاسی بیداری پیدا کی جائے اللہ رب العزت ہم کو عقل سلیم عطا فرمائے ہم کو حکمت عطا فرمائے اور ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button