نئی دہلی 21مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر کو راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں صدر رام ناتھ کووند نے ملک کے چوتھے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے نوازا۔ آج ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی گرانقدر خدمات کے لیے حکومت ہند نے اِنھیں اس اعزاز کے لیے منتخب کیا تھا۔
اس موقع پر پروفیسرنجمہ اختر کے خاندان سے ان کی بیٹی فرح خان اور بیٹا سعد اختر بھی موجود تھے۔پروفیسر نجمہ اختر کو دسمبر 2021 میں NAAC سے A++ تسلیم شدہ ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پہلی خاتون وائس چانسلر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایک سرکردہ ماہر تعلیم کے طور پر جانا جاتا ہے۔
پروفیسر نجمہ اختر نے حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے قومی ادارہ جاتی درجہ بندی کے فریم ورک (NIRF) میں جامعہ کا چھٹا (06) درجہ حاصل کیا ہے۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی نے سنٹرل یونیورسٹیز پرفارمنس ایویلیوایشن میں 95.23 فیصد حاصل کرکے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو سال 2019-20 کے لیے وزارت تعلیم کے ذریعہ کرایا گیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ ایسا ادارہ ہے جسے نیشنل ایکریڈیشن اینڈ اسیسمنٹ کونسل (ناک) نے دسمبر دوہزار اکیس میں اے پلس پلس گریڈ دیا ہے۔ ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی میں انقلاب لانے والی ماہر تعلیم خاتون کے بطور بڑے پیمانے پر ان کی شناخت قائم ہوئی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ان کی فعال قیاد ت میں نیشنل انسٹی ٹیوشنل رنکنگ فریم ورک(این آئی آر ایف) وزارت تعلیم،حکومت ہند کی رینکنگ میں چھٹا مقام حاصل کیا ہے۔
سال 2019 اور 2020 کے لیے وزارت تعلیم کی جانب سے کیے جانے والے جملہ مرکزی یونیورسٹیوں میں مظاہرہ کی جانچ میں پنچانوے اعشاریہ دوتین فی صد کے ساتھ نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ پروفیسر اختر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی(مانو) حیدرآباد، دہلی یونیورسٹی، آسام یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تقرری کمیٹی اور داخلہ کمیٹی کی ویزیٹر نامنی بھی رہی ہیں۔وہ دہلی پبلک اسکول کی مینجمنٹ کمیٹی میں بھی رہی ہیں اوربہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈکی اعلیٰ بااختیار کمیٹی کی رکن بھی رہی ہیں ۔



