قومی خبریں

غیر قانونی دراندازی کیس: لکھنؤ کی خصوصی عدالت نے 13 بنگلہ دیشیوں اور 2 روہنگیا شہریوں کو 5 سال قید کی سزا سنادی

فرضی آدھار، پین کارڈ اور پاسپورٹ تیار کرانے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، ہر مجرم پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد

لکھنؤ | 7 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارت میں غیر قانونی دراندازی اور جعلی شناختی دستاویزات تیار کرانے کے ایک منظم نیٹ ورک سے متعلق مقدمے میں لکھنؤ کی خصوصی این آئی اے عدالت نے 15 غیر ملکی شہریوں کو پانچ، پانچ سال قید اور 10،10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ سزا پانے والوں میں 13 بنگلہ دیشی اور دو روہنگیا شہری شامل ہیں، جنہیں اترپردیش اے ٹی ایس نے اکتوبر 2021 میں گرفتار کیا تھا۔

خصوصی این آئی اے عدالت کے جج اوماکانت جندل نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔ سزا پانے والوں میں محفوظ الرحمٰن، الامین احمد، کھوکھن سردار، علاء الدین، جمیل احمد، حسین محمد فہد، شخاوت خان، اسید الاسلام، زین الاسلام، راجیو حسین، مومن الاسلام، مہدی حسن، شان احمد، محمد جمیل اور نور امین شامل ہیں۔

استغاثہ کے مطابق یہ معاملہ ایک ایسے منظم گروہ سے متعلق تھا جو بنگلہ دیش اور میانمار کے شہریوں کو غیر قانونی طریقے سے بھارت میں داخل کراتا تھا۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ سرحد عبور کرانے کے بعد ان افراد کے لیے جعلی آدھار کارڈ، پین کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر شناختی دستاویزات تیار کرائے جاتے تھے تاکہ انہیں بھارتی شہری ظاہر کیا جا سکے۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ اس نیٹ ورک کے مبینہ سرغنہ متھن منڈل، وکرم سنگھ، محفوظ، سمیر منڈل عرف ٹونی، محمد جمیل اور ان کے دیگر ساتھی غیر قانونی دراندازی کے پورے ریکٹ کو منظم انداز میں چلا رہے تھے۔ الزام ہے کہ یہ گروہ بنگلہ دیش اور میانمار سے آنے والے افراد کی شناخت تبدیل کرنے کے بعد انہیں ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرتا تھا۔

اے ٹی ایس نے عدالت کو بتایا کہ کئی غیر ملکی شہریوں کے لیے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بھارتی پاسپورٹ بھی حاصل کیے گئے۔ بعد ازاں انہی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے بعض افراد کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے مختلف ممالک بھی بھیجا گیا۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق اس پورے نیٹ ورک کا مقصد غیر قانونی طور پر لوگوں کو بھارت میں آباد کرنا اور انہیں بھارتی شناخت فراہم کرنا تھا۔

اترپردیش اے ٹی ایس کو اس نیٹ ورک کے بارے میں کافی عرصے سے خفیہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ مسلسل نگرانی اور تحقیقات کے بعد 26 اکتوبر 2021 کو مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد اے ٹی ایس نے شواہد جمع کرکے تمام ملزمان کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی، جس کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت آگے بڑھی۔

عدالت نے دستیاب شواہد، تفتیشی ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں تمام 15 ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ہر ایک کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ ہر ملزم پر 10 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

عدالتی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ غیر قانونی دراندازی، جعلی شناختی دستاویزات کی تیاری اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کے خلاف سخت قانونی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button