قومی خبریں

 ورور راؤ کے خلاف الزامات بہت سنگین ، موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے:این آئی اے کا عدالت میں موقف

ممبئی، 21 مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے بامبے ہائی کورٹ سے شاعر اور سماجی کارکن وراورا راؤ Pendyala Varavara Rao   کی طرف سے دائر کی گئی مستقل طبی ضمانت کی عرضی کو خارج کرنے پر زور دیا ہے۔ جانچ ایجنسی نے پیر کو کہا کہ وراورا راؤ کے خلاف Elgar Parishad Maoist Case میں الزامات بہت سنگین ہیں اور اگر ثابت ہو گئے تو انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وراورا راؤ ایلگار پریشد ماؤ نواز تعلق کیس Elgar Parishad Maoist میں ملزم ہیں۔ این آئی اے کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انیل سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ 83 سالہ وراورا راؤ باقاعدگی سے عمر سے متعلق مسائل سے لڑ رہے ہیں۔ سنگھ نے کہا ہے کہ تفتیشی ایجنسی رضامندی کا خط دینے کو تیار ہے کہ جب بھی ضرورت ہو گی، انہیں جیل یا سرکاری ہسپتال میں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
راؤ کو گزشتہ سال ہائی کورٹ نے عارضی طبی ضمانت دی تھی۔ ضمانت میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر دی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ راؤ کو باقاعدہ طبی امداد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت سنگین جرم ہے جس کا تعلق قومی سلامتی سے ہے۔ اس کے علاوہ راؤ کے خلاف الزامات سزائے موت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
سنگھ نے کہا کہ اب وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں، تو مستقل طبی ضمانت دینے کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ سنگھ نے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ راؤ اس وقت تک ضمانت پر رہیں گے جب تک پوری ٹرائل ختم نہیں ہو جاتی۔
جسٹس ایس بی شکرے اور ایس ایم موڈک کی بنچ نے تبصرہ کیا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 437 خاص حالات میں مستقل ضمانت فراہم نہیں کرتی ہے جس میں کسی ملزم کی صحت کی خرابی ہوتی ہے۔ سنگھ نے دلیل دی کہ حکومت کے زیر انتظام جے جے ہسپتال کے ڈاکٹر کسی بھی بیماری کا علاج کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور راؤ کا وہاں مناسب علاج ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button