نئی دہلی ،23؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) راجستھان کے الور ضلع میں ایک دلت نوجوان کو مبینہ طور پر کچھ لوگوں نے مندر میں ناک رگڑنے پر مجبور کیا اور اس کی پٹائی بھی کی۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان راجیش کمار میگھوال ایک نجی بینک میں کام کرتا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ سوشل میڈیا پر فلم’دی کشمیر فائلز‘ پر تنقید سے متعلق اپنے ایک تبصرے کے جواب میں انہوں نے مبینہ طور پر ہندو دیوتائوں کے بارے میں توہین آمیز کلمات لکھے تھے، جس کی وجہ سے کچھ مشتعل افراد نے انہیں مارا پیٹا اور مندر میں لے گئے۔ اور ناک رگڑنے پر مجبور کیا گیا اور معافی مانگنے کو کہا گیا۔
واقعہ منگل کو بہروڑ تھانہ علاقہ کا ہے جس کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔بہرور سرکل آفیسر (سی او) آنند کمار نے کہا کہ راجیش کمار نے دو تین دن پہلے فیس بک پر فلم پر تنقید کی تھی۔ اس نے فلم کے خلاف ایک پوسٹ لکھی جس پر بہت سے لوگوں نے تنقیدی تبصرہ کیا۔
اپنی پوسٹ میں نوجوان نے سوال کیا کہ کیا ظلم صرف پنڈتوں کے ساتھ ہوا ہے دلتوں کے ساتھ نہیں؟میگھوال کی اس پوسٹ کے جواب میں کچھ لوگوں نے ان تبصروں پر’جئے شری رام‘اور ‘جئے شری کرشنا‘ لکھا، انہوں نے مبینہ طور پر دیوتائوں کے تئیں کچھ تضحیک آمیز تبصرہ کیا۔
تاہم بعد میں اس نے رام اور کرشن پر تبصرہ کرنے پر سوشل میڈیا پر معافی مانگ لی۔ لیکن کچھ مقامی لوگوں نے اسے ایک مندر میں معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ انہیں منگل کو مندر لے جایا گیا، جہاں میگھوال نے معافی مانگی۔
افسر نے کہا کہ وہاں موجود کچھ لوگوں نے اسے مندر میں ناک رگڑنے پر مجبور کیا،انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ رات بہرور پولیس اسٹیشن میں 11 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ان میں سے دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اور لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔



