سیاسی و مذہبی مضامین

افاداتِ زکیہ

حکیم الامت کا ارشاد

فرماتے ہیں کہ اکل حلال کابہت خیال رکھے کہ یہ طاعت کرنے کا آلہ ہے اور گناہوں سے بچنے کا کہ آدمی سوچ سمجھ کر زبان کو استعمال کرے۔ اسی لئے حضرت والا فرماتے کہ جب کوئی کلمہ بولو، تو بولنے سے پہلے سوچو کہ یہ کلمہ مجھے جنت میں لے جارہا ہے یا جہنم میں لے جارہا ہے۔

امام شافعی کا جواب سے پہلے خاموش رہنا

حضرت امام شافعی کے بارے میں لکھا ہے کہ جب کوئی شخص آکر ان سے سوال کرتا تو بعض اوقات امام صاحب دیر تک خاموش رہتے، کوئی جواب نہ دیتے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ حضرت! اتنی دیر ہوگئی، آ پ کچھ بول ہی نہیں رہے، کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں؟ جواب میں فرمایا: حَتّٰی اَعْرِفَ اَنَّ الْفَضْلَ فِی السُّکُوتِ اَوْ فِی الْکَلاَمِ۔ میں اس لئے خاموش ہوں کہ پہلے یہ دیکھ لوں کہ خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے یا بولنا زیادہ بہتر ہے۔

لہٰذا پہلے تول رہے ہیں کہ اب جو کلمہ بولوں گا ،یہ میرے لئے فائدہ مند ہوگا یا نقصان د ہ ہوگا ۔ پہلے تو تولو پھر بولو۔ جو کلمہ زبان سے نکالو۔ تول کر نکالو کہ یہ کلمہ کیسا ہے اورکتنا ہے؟ اور اس سے مجھے فائدہ پہنچے گا یا نقصان؟

زبان کی حفاظت پر جنت کی ضمانت

اسی لئے حدیث شریف میں نبی کریم  نے ارشاد فرمایا:’’مَنْ یُضْمِنُ لِیْ مَا بَیْنَ لِحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ اَضْمَنُ لَہُ الْجَنَّۃَ‘‘ جو شخص مجھے دو چیزوں کی ضمانت دیدے میں اسکو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔کونسی دو چیزیں؟ ایک وہ چیز جو جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان، اسکی ضمانت دیدے کہ وہ اسکو غلط استعمال نہیں کرے گا۔ اور ایک وہ چیز جو ٹانگوں کے درمیان یعنی شرمگاہ کہ اسکو غلط استعمال نہیں کرے گا ، میں اسکو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

لہٰذا یہ نہ ہو کہ یہ سرکاری مشین مفت میں مل گئی ہے تو اب صبح سے شام تک قینچی کی طرح چل رہی ہے او ررکنے کا نام نہیں لیتی۔ جو منہ میں آرہا ہے بک رہے ہیں، کوئی سوچ وفکر نہیں ۔ یہ حالت ٹھیک نہیں۔ بلکہ بولنے سے پہلے سوچو کہ جو بات منہ سے نکالنے والا ہوں وہ فائدہ پہنچائے گی؟ اس کے بعد زبا ن سے بات نکالو۔

فاسق اور گناہ گار کی غیبت کرنا

عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ جو فاسق وفاجر ہو، اسکی غیبت جائز ہے۔ مطلقاً اس طرح سے یہ بات درست نہیں ،بلکہ جس طرح نیک آدمی کی غیبت جائز نہیں اسی طرح سے فاسق وفاجر کی غیبت بھی جائز نہیں۔

ہاں اگر کوئی شخص کسی گناہ کو اس طرح اعلانیہ کرتا ہے کہ اس گناہ کی اپنی طرف نسبت سے نہیں شرماتا، اور نہ اس کو وہ برا سمجھتا ہے کہ یہ گناہ اس کی طرف منسوب ہو تو اگر اس گناہ کا ذکر اسکی غیر موجودگی میں کرکے اسکی طرف منسوب کریں تو یہ جائز ہے۔ مثلاً ایک آدمی اعلانیہ شراب پیتا ہے اور سب کو بتاکر پیتا ہے اب اگر آپ اسکے پیٹھ پیچھے یہ ذکر کریں کہ فلاں شخص شراب پیتا ہے ،

ظاہر ہے کہ آپ کے اس ذکر کرنے سے اسکو کوئی تکلیف اسلئے نہیں ہوگی کہ وہ خود دوسروں کو بتاتا ہے کہ میں شراب پیتا ہوں، لہٰذا یہ غیبت ناجائز نہیں۔ لیکن جس گناہ کو وہ چھپانا چاہتا ہے اور اس گناہ کو اپنی طرف منسوب ہونے کو برا سمجھتا ہے اور اسکے ذکر سے اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو اسکے پیٹھ پیچھے اس گناہ کا تذکرہ کرنا ناجائز ہے ،

چاہے وہ سچی بات ہو، وہ غیبت ہے اور حرام ہے لہٰذا اگر زبان پر لگام نہ ڈالی جائے تو یہ انسان کو گناہ میں مبتلا کردیتی ہے۔ اور غیبت جس طرح کرنا جائز نہیں ، اسی طرح سننا بھی جائز نہیں۔

(ماخوذ: از افادات حکیم الامتؒ صفحہ: ۹۳تا۹۵ مؤلفہ حضرت از حبیب الامت  )٭

متعلقہ خبریں

Back to top button