نئی دہلی29مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہا ہے کہ اسلام خاندانی منصوبہ بندی کے تصورکے خلاف نہیں ہے۔ درحقیقت یہ محض پروپیگنڈہ ہے کہ مسلمان آبادی کی تعداد کے لحاظ سے ہندوؤں کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
اپنی بات رکھتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کے بارے میں کئی قسم کے پیروپیگنڈے پھیلائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف دشمنی کا جذبہ پیدا ہو رہا ہے۔
یہ بات سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اپنی کتاب ’’دی پاپولیشن متھ: اسلام، فیملی پلاننگ اینڈ پالیٹکس ان انڈیا‘‘ پرگفتگوکے دوران کہی ہے۔ بحث کے دوران انہوں نے کہاہے کہ یہ دکھایا گیا ہے کہ مسلمان بہت سے بچے پیدا کرتے ہیں اور وہ آبادی کے دھماکے کے ذمہ دار ہیں۔ سابق چیف الیکشن کمشنرنے کہاہے کہ ہاں مسلمانوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی سب سے کم سطح ہے ۔ صرف 45.3 فیصد۔ ان کی ٹوٹل فرٹیلیٹی ریٹ (TFR) 2.61 ہے جو کہ سب سے زیادہ ہے۔
اس کے ساتھ ایس وائی قریشی نے یہ بھی کہاہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوبھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں لیکن خاندانی منصوبہ بندی کے معاملے میں ہندو 54.4 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ جہاں شرح پیدائش 2.13 فیصد ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بحث میں قریشی نے کہاہے کہ یہ بھی ایک افسانہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ آبادی کے توازن کو بگاڑ رہا ہے۔
ہندوستان کا آبادی کا تناسب دراصل مسلمانوں کی تعداد 1951 میں 9.8 فیصد سے بڑھ کر 2011 میں 14.2 فیصد اور ہندوؤں کی شرح 84.2 فیصد سے بڑھ کر 79.8 فیصد تک ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ 60 سالوں میں 4.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے کہاہے کہ ایک اور پروپیگنڈہ یہ ہے کہ سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے ہندو آبادی کو زیر کرنے کی منظم سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہاہے کہ کسی بھی مسلم رہنما یا عالم دین نے مسلمانوں کو ہندوؤں سے آگے نکلنے کے لیے نہیں کہاہے۔ڈی یو کے سابق وائس چانسلرز، پروفیسر دنیش سنگھ اور اجے کمار کے ریاضیاتی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ مسلمان ہندوؤں کوکبھی نہیں پیچھے چھوڑ سکتے۔



