کیرالہ: غیر ہندو فنکارٹیم کو مندر میں پرفارم کرنے سے روکا گیا ششی تھرور نے حیرت کا اظہار کیا،کہا،ہمارے مذہب کی بدنامی ہوئی
ترووننت پورم 29مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کرناٹک میں فرقہ پرستی کابخاراب دوسری ریاست میں بھی پھیل رہاہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کیرالہ کے ایک مندر میں غیر ہندو فنکاروں کو بھرتناٹیم پرفارم کرنے سے مبینہ طور پر روکنے پر افسوس کااظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دوسروں کی نظر میں ہمارے مذہب کو نقصان پہنچتا ہے۔
مناسیا وی پی نامی فنکار کو مندر میں پرفارم کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندونہ ہونے کی وجہ سے انہیں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہاں مندر بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ غیر ہندو مندر میں پرفارم نہیں کر سکتے۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہاہے کہ میں کچھ مندروں میں مقدس مقامات پر جانے کی پابندیوں کے بارے میں سمجھتا ہوں۔ لیکن یہ مندر کے احاطے میں دیگر رقاصوں کے ساتھ رقص کا مظاہرہ ہے۔
حیرت ہوئی کہ مندر اس کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ مجھے یقین ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کو برا کر رہا ہے اور دوسرے لوگوں کی نظروں میں ہمارے مذہب کے تصور کو نقصان پہنچا رہاہے۔طے شدہ ڈانس پروگرام میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ مندر حکومت کے دیواسم بورڈ کے زیر کنٹرول ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق بورڈکے چیئرمین پردیپ مینن نے کہاہے کہ موجودہ مندر کی روایات کے مطابق مندر کے احاطے میں صرف ہندوہی پوجاکر سکتے ہیں۔
یہ مندر کمپلیکس 12 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ 10 روزہ میلہ مندر کے احاطے میں ہوگا۔ فیسٹیول کے دوران 800 سے زائد فنکار مختلف پروگراموں میں پرفارم کریں گے۔ ہمارے اصولوں کے مطابق ہمیں فنکار سے پوچھنا ہے کہ وہ ہندو ہیں یا غیر ہندو۔ منشیا نے تحریری طور پر کہا تھا کہ ان کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
اسی لیے انہیں وہاں آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہم مندر کی موجودہ روایات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔



