نماز تراویح رمضان المبارک کی ایک امتیازی شان کی حامل عبادت ہے، نماز تراویح بالاجماع سنت موکدہ ہے، احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مسجد نبوی میں یہ نماز باجماعت پڑھائی، لیکن جب مجمع کی کثرت ہونےلگی اور صحابہ کےذوق کودیکھ کر خطرہ ہواکہ کہیں یہ نماز بھی امت پر فرض نہ ہوجائے اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سلسلہ موقوف فرمادیا۔
البتہ خلفإ راشدین اور دیگر صحابہ نے نماز تراویح کی مداومت فرمائی ہے، حدیث میں نماز تراویح کی بہت فضیلت آئی ہے، چنانچہ ارشاد ہے من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم، یعنی جس نے رمضان میں ایمان اور نیت ثواب کے ساتھ قیام کیا یعنی تراویح پڑھی اس کےگزشتہ تمام گناہ معاف کردئےجائیں گے۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی احادیث میں نماز تراویح کی فضیلت آئی ہے، اور اس کاحکم یہ ہے کہ مردو عورت پر پورے رمضان ہر شب میں بییس رکعت تروایح ادا کرنا سنت موکدہ ہے، لہذا اس کا چھوڑنے والا تارک سنت کہلائےگا۔
تراویح کے سلسلہ میں دو سنتیں ہیں ایک پورے رمضان ہر رات بیس رکعت تراویح پڑھنا،دوسرے تراویح میں کم سے کم ایک قرآن مکمل کرنا، دونوں سنتیں الگ الگ ہیں،ان دونوں میں سےکسی ایک میں بھی بلاعذر کوتاہی کرنےوالاتارک سنت کہلائےگا، الحَمْدُ ِلله تقریبا پورے عالم اسلام میں ان دونوں سنتوں کی ادائگی کااہتمام کیاجاتاہے۔
پورے رمضان تراویح بھی ہوتی ہیں اور ختم قرآن بھی، مگر افسوس اس بات کاہے کہ برصغیر میں حفاظ کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جس نے تراویح میں قرآن پڑھنے کاایک عجیب طریقہ ایجاد کر رکھاہے ، نہ تو قرآنی آداب کا کوئی پاس ولحاظ نہ قواعد تجوید کاکوئی خیال،اتنی تیزی کےساتھ تراویح میں قرآن پڑھتے ہیں کہ قرآنی رموز و اوقاف پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔
مفاہیم ومطالب خلط ملط کردیتے ہیں، تیزی کے چکر میں صفحے چھوٹیں تو چھوٹتے رہیں، الفاظ کٹیں تو کٹتے رہیں، حرکات وسکنات کی اغلاط ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں، لحن جلی کاارتکاب ہو سو ہو کوئی پرواہ نہیں، ایسا قرآن پڑھاجاتا ہے کہ نہ سننے والوں کوپتہ نہ پڑھنے والے کو کہ کیا پڑھا جارہا ہے کیا سنا جارہا ہے۔
بس یعلمون تعلمون کی گردان گردانی جاتی ہے،گویا کہ قرآن کےساتھ ایک مذاق کیا جاتا ہے، قرآن کی توہین وبےادبی کیجاتی ہے، اور افسوس اس بات کاہے کہ اس طرح پڑھنے کو اچھائی اور خوبی کانام دیا جاتاہے،اس طرح سنانے اور سننے پر خوش ہواجاتاہے حالانکہ یہ بالکل نادرست اور قابل مذمت ہے، تراویح میں قرآن کےساتھ یہ نارواسلوک قرآن اور تراویح کےساتھ ایک ظلم ہے، قرآن کو ترتیل سے پڑھنا چاہئے،ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہئے۔
قرآن اس طرح بےڈھنگی کےساتھ پڑھنے والوں پرلعنت کرتاہے، چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ کاقول ہے،رُبّ قاری للقرآن والقرآن یلعنہ، یعنی بعض قرآن پڑھنے والے ایسےہوتے ہیں جن پر قرآن لعنت کرتاہے، اور امام جزری کا فرمان ہے من لم یجودالقرآن اٰثم، جو تجوید سےقرآن نہ پڑھے وہ گنہگار ہے، قرآن کو حسن وخوبی کےساتھ پڑھنے کا حدیث میں حکم ہے۔
مگر افسوس ہے کہ ہمارے یہاں حفاظ کا ایک طبقہ خصوصا جدید طبقہ اسے بوجھ سمجھ کر بس اتار پھینکنے کی کوشش کرتاہے، لگتا ہے قرآن پڑھتے ہوئے گھبراہٹ محسوس کررہا ہے،حالانکہ قرآن پڑھنے سےمومن کو تلذذ حاصل ہوتاہے قرآن باعث سکون قلب ہے۔
ہونا تو یہ تھا کہ قرآن مزے لے لے کرپڑھاجاتا اللہ کا کلام سمجھ کرمکمل آداب اور احترام کےساتھ پڑھا جاتا، رقت اور سوز کےساتھ پڑھا جاتا مگر افسوس ہے،ایک کھلواڑ کیا جاتا ہے،یاد رہے قرآن پڑھنے کےچار درجے قراء اورعلمائےتجوید نے لکھے ہیں۔
تحقیق ترتیل تدویر حدر، انھیں چار درجوں میں سے کسی ایک درجہ میں قرآن پڑھناچاہئے،یہ تو تراویح میں قرآن کاحال ہےاس کےعلاوہ تراویح میں نماز کے ارکان وشرائط سنن و واجبات کےساتھ وہ رویہ اپنایاجاتاہے کہ اللہ کی پناہ، حفاظ تراویح میں ثنا پڑھنا غیرضروری اور فالتو عمل سمجھتے ہیں۔
رکوع وسجود میں مقتدی بمشکل اطمنان سے ایک بار تسبیح پڑھ پاتے ہوں فبھا، قومہ میں کمر سیدھی بھی نہ ہوپائی کہ سجدے میں جاگرے اورقعدہ میں درودو دعاماثورہ شوقیہ ترک کر کےسلام پھیر دیا جاتا ہے، سنن تو کجا فرائض واجبات کو بھی مکمل اور اطمنان سےنہیں ادا کیاجاتاہے۔
حالانکہ اطمنان سے تمام ارکان ادا کرنا واجب ہے بغیر تعدیل ارکان کےنماز نامکمل وناقص اور واجب الاعادہ ہے، پوری نماز تراویح اس طرح پڑھ کر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ نماز نہیں کوئی دوسرافعل ہے، یاد رہے الٹی سیدھی اور بےالتفاتی اور ٹال مٹول سے پڑھی ہوئی نماز بددعا کرتی ہوئی اوپر جاتی ہے اور پھر پرانے کپڑے میں لپیٹ کر نمازی کےمنھ پرمار دی جاتی ہے۔
حفاظ کرام سے درخواست ہیکہ خدا کےلئے اس طرح کی حرکتیں کرکے اپنی اور مقتدیوں کی تراویح خراب مت کیجئے، یہ بھی ایک نماز اور عبادت ہے اسےعبادت ہی سمجھ کرادا کیجئے ، حدیث میں عبادت کرنے کاایک پیمانہ بتایاگیاہے۔
چنانچہ ارشاد ہے ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک، کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اللہ کو دیکھ رہےہو، اگر یہ کیفیت پیدانہ ہوسکےتو یہ خیال کرو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہاہے، تراویح میں یہ خیال ہوناچاہئے کہ ہم اللہ کودیکھ رہے ہیں یا اللہ ہمیں دیکھ رہاہے اللہ ہمارے سامنے ہے، اللہ ہمارا قرآن سن رہاہے اور یہ ترایح ہم اللہ کےلئے اور ثواب کی خاطر پڑھ رہے ہیں ۔یہ کیفیت پیداکرنی ہے اخلاص پیداکرناہے۔



