قومی خبریں

جہانگیر پوری تشدد معاملے میں 14 افراد گرفتار-ایک ہی طبقہ کے افرادکی گرفتاری پرسوال

نئی دہلی17اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں پتھراؤ کے بعد پھوٹ پڑے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے 14 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ حکام نے اتوار کو یہ اطلاع دی ہے۔حکام نے بتایاہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں ایک 21 سالہ نوجوان بھی شامل ہے، جس نے مبینہ طور پر فائرنگ کی جس سے ایک پولیس سب انسپکٹر زخمی ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ملزم محمد اسلم سے ایک پستول بھی برآمد ہوا ہے جس سے اس نے ہفتے کی شام مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی۔

ملزم جہانگیرپوری میں واقع سی آر پارک کی کچی آبادی کا رہائشی ہے۔حکام نے بتایا کہ ہفتے کی شام دونوں برادریوں کے درمیان پتھراؤ ہوا اور کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ تشدد میں آٹھ پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہوئے۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس (نارتھ ویسٹ) اوشا رنگنانی نے کہا کہ ہفتہ کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش)، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 147 (فساد) اور متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

آرمز ایکٹ کی کارروائی کی گئی۔رنگنی نے کہاہے کہ ایف آئی آر کے سلسلے میں اب تک 9 لوگوں کو گرفتار کیا گیاہے۔بعد میں انہوں نے مزید کہا کہ پانچ اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایک ملزم، جس کی شناخت محمد اسلم کے نام سے ہوئی تھی، نے فائرنگ کی تھی، جس نے دہلی پولیس کے سب انسپکٹر کو نشانہ بنایا۔

ملزم کے قبضے سے واردات کے وقت استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا ہے۔رنگنانی نے بتایا کہ اسلم ایک اور کیس میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ اس کے خلاف 2020 میں جہانگیر تھانے میں تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے بتایا کہ سب انسپکٹر کو گولی لگی ہے اوران کی حالت مستحکم ہے۔انہوں نے کہا کہ اتوار کی صبح جہانگیر پوری میں پولیس کی بڑی تعداد موقع پر موجود تھی اور صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

رنگنانی کے مطابق اس وقت علاقے میں حالات معمول پر ہیں۔ایک اور پولیس افسرنے کہاہے کہ افراتفری پھیلانے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے ڈرون اور چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر (چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی) کی مددلی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں اور موبائل فونز میں ریکارڈ شدہ فوٹیج کی چھان بین کی جارہی ہے۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے، قومی راجدھانی کے باقی تمام 14 پولیس اضلاع میں حفاظتی انتظامات کو بڑھا دیا گیا ہے اور ٹکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

ایک ہی طبقہ کے افراد کی گرفتاری پرسوال -پولیس نے کہا،ابتدائی مرحلہ،جلد کارروائی کریں گے

دہلی جہانگیر پوری تشدد کیس میں اب تک 14 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کا تعلق ایک ہی کمیونٹی سے ہے۔ اسی کمیونٹی کے ملزمان کی گرفتاری کے بعد پولیس کی اس کارروائی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس سلسلے میں پوچھے جانے پر دہلی پولیس کے اسپیشل سی پی نے جواب دیا۔

دہلی پولیس کے اسپیشل سی پی دیپندر پاٹھک نے کہا ہے کہ جلوس کے دوران تلواریں اور بندوقیں لہرانے کی کچھ فوٹیج ملی ہیں، جس پر تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاہے کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز ملی ہیں۔

جب اسپیشل سی پی سے سوال پوچھا گیا کہ اس معاملے میں اب تک 14 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق صرف ایک برادری سے ہے، ایسا کیوں ہے؟ جواب میں دیپیندر پاٹھک نے کہاہے کہ یہ بہت ابتدائی مرحلہ ہے اور اس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ تفتیش جاری ہے۔

دیپندر پاٹھک نے کہا کہ علاقے میں امن اور خوشگوار ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے امن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔ امن کمیٹی کے بعض ارکان کو امن برقرار رکھنے کے لیے ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایاہے کہ تشدد کیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔دوسری جانب دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ جہانگیرپوری تشدد کیس کے اہم سازشی انصار کے خلاف پہلے ہی مقدمات درج ہیں۔ دہلی پولیس کے مطابق انصار کے خلاف مارپیٹ کے دو اور جوئے کے کئی معاملے درج ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button