نئی دہلی ، 18اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کووڈ-19 انفیکشن کے بڑھتے ہوئے معاملات نے ایک بار پھر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ انفیکشن کے نئے کیسوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا ہے، خاص طور پر ملک کی راجدھانی اور این سی آر حلقہ میں۔ کیس میں اچانک تیزی دیکھ کر حکومتی مشینری بھی حرکت میں آگئی۔
وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ چوکنا رہنا ضروری ہوگیا ہے۔ جلد ہی کچھ اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اس ہفتے ہونے والی میٹنگ میں ماسک پہننا لازمی قرار دے سکتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل بھی اس میٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔این سی آر میں انفیکشن کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گروگرام میں یہ شرح 19.1 فیصد، گوتم بدھ نگر میں 7.65 فیصد اور فرید آباد میں 5.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین صحت کا خیال ہے کہ نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہٹائے جانے کے بعد انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
یکم اپریل کو ملک میں نئے انفیکشن کے کل معاملات میں دہلی-این سی آر کا حصہ 11.8 فیصد تھا، جو 16 اپریل کو بڑھ کر 52.5 فیصد ہو گیا ہے۔ اس کے پیش نظر حالات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے مہاراشٹر کی راجدھانی دہلی کے ساتھ ممبئی کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے تمام ٹیسٹنگ سینٹرز کو دوبارہ کھول کر مفت ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔تمام ڈاکٹروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ نزلہ زکام کے تمام مریضوں کو RT-PCR ٹیسٹ کے لیے بھیجا جائے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے تمام نجی اور سرکاری اسپتالوں کو 48 گھنٹے کے نوٹس پر کووڈ-19 وارڈ کو مکمل صلاحیت کے ساتھ بنانے کے لیے تیار رہنے کا بھی حکم دیا ہے۔



