اس مہنگائی کے دور میں ہر کوئی پریشانی کے عالم سے دو چار ہورہا ہے آمدنی کم اور خرچ زیادہ ہیں خاص کر رمضان المبارک میں اخراجات اور بھی بڑھ جاتے ہیں اور اس مہنگائی میں غریبوں کی پریشانیاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔
اس مہنگائی کو لے کر جہاں پر اکثر لوگ پریشان حال ہیں وہی پر آپ اپنے مسجد کے امام وموذنین کا بھی خیال رکھیں مہنگائی انکے لئے بھی ہےاور اس وقت سب سے کم تنخواہوں میں کام کرنے والے حضرات ائمہ کرام وموذنین کرام کی ذات ہے ۔
جو بہت ہی سادہ مزاجی کے ساتھ رہتے ہیں اور اپنا درد سہ لیتے ہیں مگر کسی کے سامنے شکوہ نہیں کرتےلیکن ہر امام ایسے نہیں ہیں کچھ امام خوش باش اور خوشحال بھی ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے اکثر امام ومؤذن غریبی کے عالم میں زندگی بسر کررہے ہیں ایسے اماموں کے حالات کو دیکھتے ہوۓ مقتدیوں کے اندر یہ سوچ پیدا ہونا چاہیے اور یہ خیال کرنا چاہیے کے ہمارے امام صاحب کی تنخواہ کیا ہے اور ہماری تنخواہ کیا ہے۔
انکی گزر بسر کے انتظامات کیا ہے انکی قلیل تنخواہیں معززطریقے سے اثاثہ حیات کی فراہمی میں کفایت کرسکتے ہے؟جب ہم لوگ کو،،40،35 ہزار کمانے کے باوجود گھر چلانے میں دشواری ہوتی ہے تو بیچارے امام پانچ دس ہزار سے اپنے گھر کو کیسے چلاتے ہوں گے اور خاص کر رمضان المبارک کے مہینے میں جب کے اس ماہ میں خرچ بھی بہت زیادہ ہے کس طرح گزارہ کرتے ہونگے۔
لہذا ائمہ و موذنین کا خیال کرنا ہماری ذمہ داری ہے اگر مقتدی مسجدکے امام وموذن کا خیال نہ کرے تو کون کرے گا وہ دن رات ہمارے لیے محنت کرتے ہیں سال بھر ہمارے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور ہمیں جو درس قرآن و احادیث کریم سے روشناس کراتے ہیں اور اذان کے ذریعے ہمیں مسجد کی طرف بلانے ہیں وہ ہماری آخرت سنوارنے میں لگے رہتے ہیں اور ہم لوگ ہیں جو اپنے امام وموذن کی ضرورت کو سمجھ نہیں پاتے۔
اگر ان کی ضرورت کے بارے میں ہر کوئی سوچنے لگے تو امام وموذن کی دقتیں دور ہو جائے گی اور ائمہ کرام وموذنین کی مدد کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے جب آپ اپنے بال بچوں کی خریداری کریں تو وہاں پر ان کے بچوں کے لئے بھی خریداری کرلیں اورجب آپ خود اپنےلئے خریداری کریں تو ساتھ ان کے لئے بھی کچھ خریدلیں جو آپ سے بن سکے۔
اگر ایسا ماحول بن گیا تو یقینا رمضان میں ائمہ وموذنین کی پریشانیاں دور ہو جائیں گی اور وہ بے فکر ہو کر امامت اور مسجد کی خدمات انجام دے سکیں گے اور ان کی دعاؤں سے آپ سب فیضیاب ہوں گے اس لئے گزارش ہے اہل خیر حضرات سے کے وہ عید کے موقع پر اپنے امام وموذنین کا بھی خیال ضرور رکھیں۔
اللہ آپ کی رزق میں برکتیں عطافرمائے گا ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں ہم مساجد کی تعمیر و تزئین میں دل کھول کر خرچ کرتے ہیں توان سب کےساتھ ہمیں اس پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ جوشخص ہمیں پانچ وقتوں کی نماز پڑھاتا ہے اور جو ہمیں ان نمازوں کے اوقات کی خبر دیتاہے۔
ہر طرح کے موسم اور حالات میں بروقت اذان دیتا ہے،ان کی تنخواہیں بھی بہتر کی جائیں،آج کا دور تو اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ لاکھوں کمانے والے لوگ بھی پریشان ہی رہتے ہیں؛لیکن کیا مساجد کی تعمیر وتزئین میں لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے والے ہم مسلمان اپنے ائمہ اورموٴذنین کواتنی تنخواہیں نہیں دے سکتے کہ وہ ایک بہتر اور اطمینان بخش زندگی گزارسکیں؟
اس سلسلے میں مساجدکے متولیان اور ٹرسٹیان کو بھی اپنےاماموں اور مؤذنوں کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔