17 رمضان المبارک 2 ہجری مقام بدر میں تاریخ اسلام کا وہ عظیم الشان یادگار دن ہے کہ جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی کفار کی طاقت کا گھمنڈخاک میں ملنے کے ساتھ اللہ کے مٹھی بھر نام لیوائوں کووہ ابدی طاقت اور رشک زمانہ غلبہ نصیب ہواکہ جس پر مسلمان آج تک فخر کرتے ہیں۔
12رمضان 2 ہجری کورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مختصر سے لشکر کو لیکرشہر سے باہر نکلے اور تھوڑی سی دور چل کر آپ نے اپنی مختصرسی فوج کا جائزہ لیا تو اسمیں کچھ کم عمر لڑکے بھی شامل تھے جو واپس کردئے گئے۔
اسی فوج میں حضرت عمر بن ابی وقاص بھی کم عمر تھے جب ان سے واپس جانے کو کہا گیا تو رونے لگے اور پنجوں کے بل کھڑے ہو گئے تاکے اونچے قد کے معلوم ہو سکیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کم سن سپاہی کے حوصلہ کو دیکھ کرمسکرائے اور آپ نے جنگ میں شامل ہونے کی اجازت عطافرمادی۔
اسلامی فوج کی کل تعداد 313 تھی اور کفار کی تعداد نوسوپچاس تھی۔اس لشکر کی بے سروسامانی کا عالم یہ تھا کہ اس پورے لشکر کے پاس دو گھوڑے اورستر اونٹ تھے ایک ایک اونٹ پر تین تین اور چار چار آدمی سوار تھے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ پر آپ کے علاوہ دو یا تین آدمی اور بھی سوار تھے اور کچھ جانثار صحابہ پیدل چل رہے تھے اور ہتھیار بھی سب کے پاس پورے نہ تھے کسی کے پاس تلوار تھی تو تیر اور کمان نہ تھی،اور کسی کے پاس نیزہ تھا تو تلوار نہ تھی اور مسلمان عام طور پر فاقہ زدہ،ناتوان،بیمار اور ضعیف تھے۔
اس کے بر خلاف کفار سب کے سب زرہ پوش اور تمام ہتھیاروں سے لیس اور مکمل تیاری کے ساتھ تھے۔یہ بے سرو سامان مجاہدین اسلام اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے جب میدان بدر میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ کفار میدان کے اونچے اور بہترین حصوں پر قابض ہوچکے ہیںاور جو جگہ مسلمانوں کو ملی وہاں نہ کوئی چشمہ تھااور نہ کوئی کنواں ساتھ ہی اونٹوں کے پیر زمین کے اندر دھنستے جارہے تھے کچھ صحابہ نے رائے دی کہ آگے چل کرچشموں پر قبضہ کر لیا جائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے بہت پسند آئی اور اس پر عمل کیا گیا۔
جب رات ہو گئی تو تمام صحابہ سو گئے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک بیدار اور مصروف دعارہے ۔صبح کو سب نے نماز ادا کی اور نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے متعلق اپنے صحابہ کوکچھ نصیحتیں بیان فرمائیںاس کے بعد صف بندی شروع کی آپ کے دست مبارک میں ایک تیر تھا جس کے اشارے سے آپ صفیں قائم فرما رہے تھے۔
جب آپ اس کام سے فارغ ہو گئے توآپ نے دو رکعت نماز پڑھی جس کے بعد آپ پر غنود گی سی طاری ہو گئی اس غنود گی کے عالم میں آپ کو اللہ کی طرف سے بشارت ملی کہ مسلمان فتحیاب ہونگیں اس خوشخبری کے بعد آپ مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ کفار کو شکست ہوگی وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
مختصر یہ کہ 17رمضان المبارک 2ہجری کومیدان کار زار گرم ہوا اللہ کی خاص فتح و نصرت سے 313مسلمانون نے اپنے سے تین گنا بڑے لائو ولشکر کو اسکی تمام تر مادی و معنوی طاقت کے ساتھ خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا اور دعائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جذبہ ایمانی سے ستر جنگ جوں کفارواصل جہنم ہوئے،چودہ صحابہ کرام نے داد شجاعت کی تاریخ رقم کرکے شہات پائی اور اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہ الٰہی میں رو رو کر دعا کی’اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنا وعدہ پورا کر،اے اللہ اگر تیری مرضی یہی ہے(کہ کافر غالب ہوں)تو زمین پرتیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہیں رہیگا‘اس لمحے اللہ رب العزت نے فرشتوں کووحی لیکر بھیجا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں،تم اہل ایمان کے قدم جمائو میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دونگا سنو تم گردنوں پر مارو(قتل)اور انکی پور (جوڑ)پر مارو۔(سورئہ انفال آیت بارہ)اوراس جنگ میں اللہ نے مسلمانوں کو فتح مبین عطافرمائی۔
یہ تھی مسلمانوں کی اصل طاقت جو ظاہری اسباب سے پاک وصاف تھی ۔کیونکہ اُن کو معلوم تھا کہ جنگ جیتنے کیلئے ظاہری اسباب نہیںبلکہ ایمان کامل اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کا ہونا لازمی و ضروری ہے جس کی وجہ سے اُن کو فتح مبین نصیب ہوئی۔آج جو ہم پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں اور آئے دن ہمارے ایمان اور دین پر حملے ہورہے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اللہ اور اُس کے رسول کے طریقے کو چھوڑ دیا ہے۔
اگر ہم آج بھی دین اسلام پر قائم ہوجائیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو بجا لائیں تو یقینا دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت آج بھی ہمارے سامنے زیر ہوجائے گی اور کامیابی مسلمانوں کو نصیب ہو گی اللہ رب العزت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اور بدری صحابہ کے صدقہ و طفیل مسلمانوں کی موجودہ حالات میں مدد فرمائے اور ساتھ ہی اپنی طرف رجوع ہو نے کی توفیق عطافرمائے۔آمین