سیاسی و مذہبی مضامین

شب قدر کی فضیلت✍️یاسمین معلمہ انجمن اسلام گرلزس ہائی اسکول باندرہ

 شب قدر وہ رات ہے جس کی فضیلت کا اللہ تعا لیٰ نے قرآن پاک میں ذکر فرما یا ہے یہ رات رمضان المبا رک کے اخیر عشرہ میں ہو تی ہے ’رَمَضانُ الْمُبارَک  کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کی کہلاتی ہے‘جو اپنے اندر بہت ساری رحمتیں اور برکتیں رکھتی ہیں۔

کلام پاک میں اسے ہزار مہینوں سے بہتر افضل بتلایا ہے خوش نصیب ہے وہ شخص جسے شب قدر کی عبا دت نصیب ہو جا ئے کہ جو شخص اس ایک رات کو عبادت میں گذارے اس نے گو یا 83برس چار ماہ سے زیادہ  عبا دت میں گذار دیا اور اس سے زیادہ کا بھی حال معلوم نہیں کہ ہزار مہینے سے کتنے ماہ زیادہ افضل ہے۔

اللہ جل شانہ کا حقیقتاً بہت بڑا انعام ہے کہ قدر دانوں کیلئے یہ ایک نہایت اہم نعمت مرہمت فرما ئی۔ قرآن و حدیث میں اس رات کے بے شمار فضائل و برکات موجود ہیں۔ شب قدر کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس کے متعلق قرآن کریم میں مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔

رب تبارک و تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے۔’’بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا ہے شب قدر، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر (ہے) اس میں فرشتے اور جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک‘‘ (سورۂ قدر، پارہ 30)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سیدعالمﷺ نے فرمایا: جس نے لیلۃ القدر میں ایمان واحتساب کے ساتھ قیام فرمایا، اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں (بخاری شریف)

امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے جب پہلی امتوں کے لوگوں کی عمروں پر توجہ فرمائی تو آپ کو اپنی اُمّت کے لوگوں کی عمریں کم معلوم ہوئیں۔ آپﷺ نے یہ خیال فرمایا کہ جب گزشتہ لوگوں کے مقابلے میں ان کی عمریں کم ہیں تو ان کی نیکیاں بھی کم رہیں گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے (موطا امام مالک )

حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کریمﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک نیک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار ماہ تک راہ خدا کے لئے ہتھیار اٹھائے رکھے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اس پر تعجب ہوا تو ا? تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور ایک رات یعنی شب قدر کی عبادت کو اس مجاہد کی ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر قرار دیا (سنن الکبریٰ، بیہقی جلد 4، ص 306، تفسیر ابن جریر)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبیﷺ نے فرمایا۔ شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاقت راتوں یعنی 21، 23، 25، 27 اور 29 کی رات میں ہے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے ان رات میں عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ اسی رات کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ یہ رات کھلی ہوئی اور چمکدار ہوتی ہے۔ صاف و شفاف گویا انوار کی کثرت کے باعث چاند کھلا ہوا ہے۔

یہ زیادہ گرم نہ زیادہ ٹھنڈی بلکہ معتدل اس رات میں صبح تک آسمان کے ستارے شیاطین کو نہیں مارتے جاتے۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے بعد صبح کو سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے۔ بالکل ہموار ٹکیہ کی طرح جیسا کہ چودھویں کا چاند کیونکہ شیطان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اس دن سورج کے ساتھ نکلے (مسند احمد، جلد 5ص 324، مجمع الزوائد)

حدیث میں ہے :عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُخْبِرَنَا بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَی رَجُلَانِ مِنْ الْمُسْلِمِینَ فَقَالَ خَرَجْتُ لِأُخْبِرَکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَی فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَی أَنْ  یَکُونَ خَیْرًا لَکُمْ فَالْتَمِسُوہَا فِی التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْخَامِسَۃِ ‘‘         (بخاری کِتَاب الْجُمُعَۃِ، بَاب رَفْعِ مَعْرِفَۃِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ لِتَلَاحِی النَّاسِ)

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے بارے میں بتانے کے لئے نکلے اسی دوران دو مسلمان دو مسلمان کسی معاملے میں  آپس میں جھگڑ پڑے، آپ نے ارشاد فرمایا، میں نکلا تھا کہ تم لوگوں کو شب قدر کے بارے میں بتاوں مگر فلاں فلاں جھگڑنے لگے اور اس کا علم اٹھا لیا گیا ،بھلادیا گیا،مجھے امید ہے کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہی ہے لہٰذا تم لوگ اس رات کو29ویں،27 ویں اور25 ویں رات میں تلاش کرو۔

آخری عشرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت شدت سے اعمال خیر کا اہتما م کرتے تھے۔عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری دس دنوں میں داخل ہوتے تو  عبادت کے لئے کمر کس لیتے، خود بھی شب بیداری کرتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔(صحیح بخاری، کتاب صلاۃ التراویح، باب العمل فی العشر الاواخر من رمضان)

لیلۃ القدر کی فضیلت اہمیت کے سمجھنے کے بعد کون ایسا شخص ہو گا جو اس رات میں عبا دت نہ کرے ’لہو لعب میں اپنا قیمتی وقت بر باد کرے گا‘ہم کو چا ہئے کہ ہم رَمَضانُ الْمُبارَک  کے اخیر عشرے کے طا ق راتوں میں شب بیداری کر کے شب قد ر کی تلا ش کریں اس میں عبادت کریں۔

نفل نماز،ذکر واذکار،تلاوت قرآن،تہجد،صلوۃ التسبیح غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک خصوصی طور پر29,27,25,23,21رمضان کی راتوں کو اپنے محلہ کی مسجد میں جا گنے کا اہتمام کریں گھر میں عورتیں اللہ کی عبا دت کر تے ہو ئے شب بیداری کریں۔ہو ٹلوں پا رکوں اور دیگر مقامات پر گپ شپ میں اپنا وقت ضا ئع نہ کریں ۔

شب قدر کی دعا:عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علی وسلم سے دریافت کیا کہ اگر مجھے شب قدر مل جائے تو میں کون سی دعا پڑھوں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پڑھو: ’’اللہم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی   ‘‘کہ اے اللہ تو بے شک معا ف کر نے والا ہے۔(سنن ابن ماجہ کتاب الدعاء، باب الدعاء بالعفو والعافیۃ)

متعلقہ خبریں

Back to top button