وارانسی ، 17 مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گیان واپی مسجد معاملہ میں وارانسی کی عدالت میں ایک نئی عرضی داخل کی گئی ہے۔ نئی عرضی تین خواتین سیتا ساہو، منجو ویاس، ریکھا پاٹھک نے دائر کی ہے۔ (وہ وہی خواتین ہیں ، جنہوں نے شرنگا گوری کے حوالے سے عرضی دائر کی تھی)۔ اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسجد کی مشرقی دیوار جو نندی کے سامنے ہے ،اسے گرائی جائے، نیز کل مبینہ طور دریافت شیولنگ (جو کہ حقیقت میں وضو خانہ کا فوارہ ہے )کی لمبائی، چوڑائی کو ناپا جانا چاہیے۔ اس پورے عمل کے لیے عدالت کو ایک بار پھر کورٹ کمشنر کا تقرر کرنا چاہیے۔
وارانسی کی گیان واپی مسجد میں تین دن تک سروے پینل میں شامل ایڈوکیٹ کمشنر نے کہا ہے کہ آج وہ سروے رپورٹ عدالت میں داخل نہیں کریں گے۔ ایڈوکیٹ کمشنر اجے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ ہم الگ الگ رپورٹ درج نہیں کریں گے، لیکن تینوں لوگ مل کر رپورٹ درج کریں گے۔ اس کے لیے عدالت سے پیر تک کا وقت مانگا جا سکتا ہے۔
سوموار (16 مئی) کو گیانواپی مسجد میں تیسرے اور آخری دن کیے گئے سروے میں ہندو فریق کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کے وضوخانے کے حوض میں سے مبینہ شیولنگ برآمد ہوا ہے۔ اس پر نچلی عدالت نے ضلع انتظامیہ کو اس جگہ کو سیل کرنے کا حکم دیا تھا،نیز نمازیوں کی تعداد پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی ۔ دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وارانسی کی گیا ن واپی مسجد میں مبینہ طور پر شیولنگ کی موجودگی کے بعد عدالت کے حکم پر مسجد میں وضو خانے کو سیل کرنے کو غیر منصفانہ قرار دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا واقعہ فرقہ وارانہ جنونیت کا نتیجہ ہے ،اور یہ ایک سازش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔



