اے ایمان والو!
اے لوگوں جوا یمان لائے ہو۔ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کویاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اس نے تمہارے دل جوڑدیئے اور اس کے فصل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے۔ اللہ نے تم کو اس سے بچالیا اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شائد کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔(سورۃ آل عمران آیت 102 تا103)
نافرمانی کے انجام بد سے ڈرو
محترم قارئین آیات مذکور میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید فرما رہے ہیں صرف تقویٰ ہی نہیں بلکہ کامل طریقے سے اللہ کا ڈر حوف اپنے اندر پیدا کرنے کا اہل ایمان کو حکم ہورہا ہے ڈر خوف اس بات کا کہ نافرمانی کے صلہ میں ایک تو تمہارے لئے دنیوی امن ختم ہوجائے گا اور آخرت میں سزا بھی ہوگی لہذا اے میرے پیارے بندو! تم ان تمام تکالیف سے بچنے کیلئے اپنی زندگی کے شب و روز اس طرح گزارو کہ مرتے دم تک تمہارے اعمال میری مرضی کے مطابق ہوتے رہیں۔
ظاہر ہیکہ جب اللہ کے بندے اپنی زندگی کے شب و روز میں اللہ تبارک تعالیٰ کی مرضیات و نامرضیات کا خیال رکھیں گے تو ان کی زندگی میں ایک ایسا ارتقاء پیدا ہوگا کہ مرتے وقت تک بھی شیطان مردود کی چالبازیاں اہل ایمان کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں گی کیونکہ شیطان معلون اہل ایمان کو آخری وقت تک بھی اسلام سے کفر کی طرف پھیر لیجانے کی کوششیں کرتا رہتا ہے۔
اللہ کی رسّی مضبوط پکڑلو
ان آیات مبارکہ میں اہل ایمان کیلئے بنیادی باتیں بیان فرمانے کے بعد اللہ رب العزت ایک ایسا نسخہ تجویز فرما رہے ہیںجس پر عمل کرنے سے اہل ایمان دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی سے بچے رہیںگے۔وہ نسخہ یہ ہے کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے جسے قرآن کہتے ہیںجو حقیقت میں حق و باطل میں واضح فرق کرنے والی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑلو یعنی اس کے احکام پر عامل ہوجائو اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھنے کا واحد ذریعہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کتاب کے معلم اعظم کی حیثیت سے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے یعنی آپ کی حیات طیبہ اس کتاب کی ایک چلتی پھرتی تفسیر ہے اس کے مطابق عمل کیاجائے۔
اگر تم اس رسی کو کمزور طریقہ سے پکڑو گے یا، کسی قسم کا انحراف کروگے تو تمہارے درمیان تفرقہ پڑجائے گا اور مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ ان کی زندگی میں تفرقہ پڑجائے اور مسلمانوں میں تفرقہ کا وجود پانا جہاں دنیوی حیثیت سے تباہی و بربادی ہے وہیںپر خسران آخرت کا باعث ہے۔ قرآنی تعلیمات اس بات کی گواہی دے رہیں ہے کہ جب بھی اللہ کے بندوں نے الٰہی تعلیمات سے رو گردانی اور انبیاء علیہ السلام کے ارشادات سے اعراض کیا تو رسوائی ان کا مقدر بن گئی اور دردناک عذاب ان کو آگھیرا۔
برخلاف اس کے اسلامی تاریخ کے اوراق اس بات سے بھرے پڑے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ علیھم اجمعین نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے ایک ایسے اتحاد کا مظاہرہ کیا کہ باطل مٹ گیا حق غالب ہوا اور سب سے اہم بات یہ کہ اللہ نے انہیں رضی اللہ عنہ و رضوان عنہم کی سند سے دنیا ہی میں سرفراز فرمایا اور ان میں کی ایک جماعت کو دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی جسے ہم عشرہ مبشرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
اللہ کا بندوں پر احسان
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور تفرقہ میں نہ پڑنے کی تعلیم دینے کے بعد ایام گذشتہ کے باتوں کی یاد دلاتے ہوئے فرمان حق تعالیٰ ہورہا ہے اے مسلمانوں اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل جوڑدیئے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ، تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ یوں تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے بندوں پر بے شمار احسانات ہیں۔
احسانات دو طرح کے
لیکن یہاں پر جو احسانات گنائے گئے ہیں یہ دو طرح کے ہیں پہلا وہ ہے جس کا تعلق دنیوی زندگی سے ہے اور دوسرا وہ ہے جس کا تعلق ایمان و یقین اور آخرت کی ابدی زندگی سے ہے فرمایا تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اللہ نے تمہارے دل جوڑ دیئے یعنی ایام جاہلیت میں تمہاری حالت تو یہ تھی کہ بات بات پرایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا دشمن اور تمہاری لڑائیاں اتنے عروج کو پہنچ چکیں تھیں قریب تھاکہ ان لڑائیوں کے سبب پوری قوم موت کے گھاٹ اتر جاتی لیکن محض اللہ کا فضل و کرم ہوا کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت بناکر تمہارے پاس بھیجا جن کی تعلیمات نے تمہیں باہم شیر و شکر کردیا۔
دوسرا احسان عظیم
اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے ایک اور احسان کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ’’تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اللہ نے تم کو اس سے بچالیا’’مطلب یہ کہ قبولیت اسلام سے قبل تمہاری حالت یہ تھی کہ تم شرک و کفر میں مبتلا تھے اور تمہاری زندگی کے شب و روز اللہ کی نافرمانی میں گذر رہے تھے اس طرح کی تمہاری یہ روش جہنم کے گڑھے کے دہانے تک پہنچا چکی تھی اور قریب تھا کہ ادھر مرے ادھر اس دہکتی ہوئی آگ میں گرے لیکن محض یہ میرا تم پر احسان عظیم ہوا کہ میں نے تم کو اس آگ میں گرنے سے بچالیا، یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت عالم ،محسن انسانیت اور ہادی و رہنما بناکر تم لوگوں کی ہدایت کیلئے بھیجا، جن کے ذریعہ تمہیں دنیا کا امن اور جنت کا راستہ نصیب ہوا۔
روشن نشانیاں
اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام واقعات کو یاد دلاتے ہوئے بتارہے ہیں کہ یہ تمام حقائق تمہیں سیدھا راستہ اختیار کرنے کیلئے روشن نشانیاں ہیں لہذا تمہیںچاہئے کہ گزرے ہوئے واقعات سے تم سبق حاصل کرو اور مستقبل سنوارنے میں لگ جائو۔
حاصل کلام
محترم قارئین ! مذکورہ آیات مبارکہ پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوکر ہمارے سامنے آرہی ہے کہ موجودہ دور میں ملت اسلامیہ کے درمیان جو اختلافات اور تفرقہ کی کیفیت پائی جارہی ہے یہ سب باتیں اللہ کی رسی (اللہ کی کتاب اور شریعت) کو مضبوطی سے نہ پکڑنے کا نتیجہ ہے! قرآن مبین کی یہ آیات ملت اسلامیہ کو یہ دعوت فکر دے رہی ہیںکہ یہ اپنے تمام اختلافات کی یکسوئی قرآن حدیث کی روشنی میں کرلیں ورنہ اس وقت جو حالات ہیں اور مسلمانوں کی عدم اتحاد کی جو کیفیت ہے اس میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے



