
ہندوتوا تنظیمیں گھر واپسی اور لو جہاد کےنام پر مسلم لڑکیوں کو مختلف اضلاع میں ہندو بنارہی ہے
اس وقت پورے ہندوستان میں آر ایس ایس کی حمایتی تنظیموں کے ذریعہ مسلم لڑکیوں کو مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکےغیر مسلم لڑکوں سے شادی کرنے پر اکسایا جارہا ہےاس مہم میں کامیاب لڑکوں کو خطیررقم دی جاتی ہے؛تاکہ وہ انہیں لبھانے، محبت کے جال میں پھنسانے اورانہیں ہندو بنانے کی سازش میں کامیاب ہوسکیں ملک کے مختلف حصوں اوربہت سارے اضلاع سے اس قسم کی تشویشناک،المناک اور پریشان کن خبریں ہر دن موصول ہو رہی ہیں،اس طرح ان لڑکیوں کو دین وایمان سے بے زار کرکے ہندو مذہب میں داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے ہماری مسلم لڑکیاں ان کے جال میں جن وجوہات سے پھنستی ہیں۔
ان میں ایک بڑا سبب اختلاط مرد وزن ہے، یہ اختلاط تعلیمی سطح پر بھی ہےاور ملازمت کی سطح پر بھی، کوچنگ کلاسز میں بھی پایا جاتا ہے اورہوسٹلز میں بھی، موبائل انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ اختلاط زمان ومکان کے حدود وقیود سے بھی آزادہو گیا ہے، پیغام بھیجنے اور موصول کرنے کی مفت سہولت نے اسے اس قدر بڑھاوادے دیا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی خلوت گاہیں ہی نہیں جلوت بھی بے حیائی، عریانیت کا آئینہ خانہ بن گئی ہیں، یہ اختلاط اور ارتباط آگے بڑھتا ہے تو ہوسناکی تک نوبت پہونچتی ہے، جسے محبت کے حسین خول میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے۔
والدین اور گارجین یا تو اتنے سیدھے ہیں کہ انہیں لڑکے لڑکیوں کے بے راہ روی کا ادراک ہی نہیں، یا اتنے بزدل ہیں کہ وہ لڑکے لڑکیوں کی بے راہ روی پر اپنی زبانیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، یا جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت، شادی کے کثیر اخراجات کے خوف سے اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں اپنا شوہر خود تلاش لیں،کورٹ میریج کرلیں؛ تاکہ یہ درد سر ان سے دور ہوجائے، ان خیالات کے پیچھے ان کی غربت اور دینی تعلیم وتربیت سے دوری کا بڑا دخل ہوتا ہے، اگر بنیادی دینی تعلیم وتربیت والدین اور لڑکے لڑکیوں کے پاس بھی ہو تو انہیں اس کا ہرپل احساس ہوگا کہ غربت اور شادی کے حوالے سے پریشانیاں وقتی ہیں اور ایمان چلے جانے کی صورت میں آخرت کا عذاب یقینی اور لازمی ہے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے گھر واپسی اور لو جہاد کے نام پر چلائی جارہی تحریکوں سے ملک بھر میں ارتداد کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے نہ صرف دیہات بلکہ شہری علاقوں میں بھی اس کے اثرات بڑھتے جارہے ہیں۔حالیہ کچھ عرصہ کے دوران اترپردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک، ایم پی اور راجستھان میں کئی ایسے واقعات کی اطلاعات ہیں جس میں مسلم لڑکیوں اور لڑکوں نے مذہب تبدیل کرتے ہوۓ غیر مسلم لڑکوں لڑکیوں سےشادی کی ہے جبکہ معاشی طور پر کمزور کئی خاندانوں سے متعلق بھی یہ اطلاع ملی ہے کہ انہیں مالی امداد اور تعاون کے ذریعہ تبدیلی مذہب پر آمادہ کیا گیا، لیکن اس سلسلے میں کوئی پولیس کیس درج نہیں ہوا اور نہ ہی ایسے واقعات پر گودی میڈیا کو بھی خبرنشر کرنے کی توفیق ہوئی۔
لیکن جب اس کے برعکس معاملات پیش آتے ہیں جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا تو گودی میڈیا نے پورے مرچ مصالحہ کے ساتھ کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک انہیں اپنی سرخیوں میں بنائے رکھا۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ارتداد کے واقعات کی تعداد مصدقہ آنکڑے سے 5سے6 گنا زیادہ ہےایسے دو واقعات کی خبر آپ نے پڑھی ہوگی جس میں اترپردیش کے علی گڑھ میں ایک مسلم لڑکی نے ہندو رسم و رواج کے مطابق ایک مندر میں اپنےہندو دوست کے ساتھ شادی کرلی۔یہ سارا معاملہ کھلے عام انجام دیا گیامگر نہ ہی پولیس کو اور نہ ہی ارباب اقتدار کو یہ توفیق ہوئی کہ اس تعلق سے کوئی کارروائی کرے حالانکہ اترپردیش بھی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں لوجہاد کے نام سے قانون نافذ کیا گیا۔
چند ماہ قبل اس کے تحت کئی ہندو لڑکیوں کی آپسی رضا مندی ومرضی سےمسلم نوجوانوں کے ساتھ کی گئی شادیوں کومنسوخ کروایا گیا اوردلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ مسلم نوجوانوں نے ان لڑکیوں کو بہلا پھسلا کردھوکہ سے شادی کی حالانکہ وہ تمام ہی لڑکیاں بالغ تھیں اور ان میں سے کئی ایک نے ٹیلی ویژن چینلوں پر صاف طور پر یہ کہا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے ہی شادی کی ہے ، کوئی دباؤ یا جھوٹ نہیں کہا گیا وہ جانتی تھیں کہ ان کا جیون ساتھی دوسرے مذہب کا ہے اوریہ شادی انہوں نے اپنی خوشی سے کی ہےاس کے باوجود ہندوتوا تنظیموں کے نوجوانوں نے انہیں اپنی شادی توڑنے اور ہندو دھرم میں واپسی پر مجبور کیا۔ساتھ ہی ساتھ ان نوجوانوں کے خلاف کئی دفعات کے تحت مقدمات تک درج کرواۓ۔
یہ اوربات ہے کہ عدالت میں ان نوجوانوں کےخلاف عائدکردہ الزامات ثابت نہیں ہو پائے اورانہیں باعزت بری کر دیا گیا لیکن ان کی شادیاں ضرورٹوٹ گئیں اور ان کے خاندانوں کو بھی سخت ذہنی اذیت سے گزرنا پڑاان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لو جہاد قانون صرف یکطرفہ جانبدارانہ کاروائی ہی کرتا ہے؟ کیا لڑکی ہندو اورلڑکا مسلم ہو تب ہی قانون اپنا کام کرے گا مسلم لڑکی کی صورت میں ارباب اقتدار اور پولیس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی یوپی کے علی گڑھ اور تریپورہ کے اگرتلہ کے یہ واقعات تو مثال کے طور پررکھے گئے ہیں جبکہ اخباری رپورٹ کےمطابق ہردن ملک کے کسی نہ کسی علاقہ میں ارتداد کےایسے ہی واقعات عام ہوتے جارہے ہیں جن میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی کی تو کوئی رپورٹنگ بھی نہیں ہوتی وہیں مقامی طور پر دبا دیاجاتا ہے ۔
ایسے واقعات کو دیکھتے ہوۓ ہی مسلم پرسنل لا بورڈ نے ارتداد کے خلاف خصوصی شعور بیداری مہم بھی چلائی اور مختلف پروگرامس بھی منعقد کئے گئے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں پر نظر رکھیں اور دینداری نہج پر انکی تربیت کریں فرقہ پرستوں کے غلبہ میں آنے کے بعد تو ضروری ہوگیا ہے کہ ہر والدین اپنی اولاد کی خصوصا لڑکیوں کی تربیت پر دھیان دیں یاد رکھیں ہر والدین سے قیامت میں اس کی اولاد کی تربیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
حافظ محمد الیاس چمٹ پاڑہ مرول ناکہ ممبئی



