
نئی دہلی،7جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ہندوستان میں ٹائپ ون ذیابیطس ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن (آئی ڈی ایف) کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں ذیابیطس سے 6.7 ملین سے زائد اموات ذیابیطس کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ اموات 20 سے 79 سال کی عمر کے لوگوں کی تھیں۔ہندوستان میں یہ بیماری کس قدر خطرناک شکل اختیار کر رہی ہے یہ اس بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں دنیا میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار بچوں اور نوعمروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا دنیا کا ہر پانچواں بچہ یا نوعمر ہندوستانی ہے اور ہندوستان میں روزانہ 65 بچے یا نوعمر ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہو رہے ہیں۔
آئی ڈی ایف کی تازہ ترین رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا بچوں اور نوعمروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2021 تک دنیا بھر میں 12.11 لاکھ سے زیادہ بچے اور نوعمر ٹائپ 1 ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ ان میں سے نصف سے زیادہ کی عمر 15 سال سے کم ہیں۔ ان میں بھی سب سے زیادہ تعداد ہندوستانیوں کی ہے۔
ہندوستان میں 2.29 لاکھ سے زیادہ بچے اور نوعمر ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہیں۔خیال رہے کہ ذیابیطس کی دو قسمیں ہیں، ٹائپ 1 اور ٹائپ 2۔ ٹائپ 1 ذیابیطس لوگوں کو کم عمر میں ہی اپنا شکار بنا لیتی ہے اور اس میں مبتلا شخص کو زندہ رہنے کے لیے انسولین کے انجکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا کوئی ٹھوس علاج نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹائپ 2 میں مبتلا افراد کا علاج ادویات اور تھراپی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں انسولین کے انجکشن کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔پچھلے سال ہندوستان میں ٹائپ 1 ذیابیطس کے 24 ہزار سے زیادہ نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
یعنی ہر روز 65 سے زائد بچے اور نوعمر ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک نئی گائیڈ لائن جاری کی ہے۔ آئی سی ایم آر کی یہ گائیڈ لائن ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک بار پھر کورونا کیسز کی رفتار بڑھنے لگی ہے۔ ذیابیطس میں مبتلا افراد کو کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔



