پندرہ اگست 1947 کو ملک آزاد ہوا، تقسیم ہند سے لیکر آج تک ملک میں کسی نہ کسی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے سیاسی جماعتیں ملک میں بسے مسلمانوں کو نشانے پر رکھ کر اپنا سیاسی ہدف جاری رکھے ہوئے ہیں خواہ وہ کانگریس ہو خواہ بی جے پی، دونوں ہی سیاسی جماعت مسلمانوں کو ہراساں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، گزشتہ 75سالوں میں 60 سال سے زائد عرصہ کانگریس ہی کی حکومت ملک میں قائم تھی، کانگریس کے دور اقتدار میں بابری مسجد پر لگا قغل کو کھولا گیا۔
اس متنازع جگہ کو دوبارہ شدت کے ساتھ متنازعہ بنایا گیا، عدالت نے بابری مسجد کے مقام پر شیلنیاس کرنے کی اجازت دی، معاملہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ جناب لال کرشن ایڈوانی صاحب نے ملک میں اپنے ذاتی ایئر کنڈیشن ٹرک پر رتھ یاترا رام مندر کی حمایت میں شروع کی جہاں جہاں سے یہ قافلہ گزرا وہاں نفرتوں نے قیام کیا زہر اگلتی زبانیں مسلمانوں کو نشانہ بناتی رہی کانگریس کے حکمران خاموش تماشائی بنے لطف اندوز ہوتے رہے۔
قانون کی بالادستی محض کتابوں میں دفن ہوکر رہ گئی، کانگریسی رہنماؤں نے اپنے دور اقتدار میں تخریب کار عناصر پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی، نتیجہ تخریب کار عناصر پراؤن چڑھتے گئے ان کی قوت میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا، کانگریس حکومت محض اس لئے خاموش رہی کہی اکثریت طبقہ کے ووٹ کانگریس سے علیحدہ نہ ہوجائے اسی خوف نے کانگریس کو کمزور کردیا، اس خام خیالی میں کانگریس داخلی طور پر لاغر ہوتی رہی، ملک میں کہی بھی کسی مقام پر بم دھماکہ جب بھی ہوئے تفتیش کی سوئ مسلمانوں سے شروع ہوتی رہی، یک طرفہ کاروائی ہمیشہ سے حکومت کا نصب العین رہا۔
صرف اقلیت کو مورود الزام ٹھہرایا جاتا رہا، پولس جوق درجوق اقلیت طبقے سے تعلق رکھنے والوں پر کیس درج کرتے رہے انہیں عدالتوں سے بھی کوئی راحت میسر نہ ہوئی بے گناہوں پر مقدمہ درج کرکے انہیں جیل خانوں میں سلاخوں کے پیچھے زندہ مرنے کے لئے رکھا گیا، یہ وہ سیاست تھی جو حکومت نے اپناہ رکھی تھی، اسی اثناء اقلیت سے نفرتوں سے لبریز کانگریس کی سیاست رفتہ رفتہ دم توڑنے لگی اللہ ظلم کو زیادہ ٹھہرنے نہیں دیتا ظالم خود ہی خستہ حال ہو جاتا ہے۔
لہذا کانگریس کی سیاسی پکڑ بابری مسجد شہید ہونے کے بعد روبزوال ہوتی چلی گئی، نیز 2014 کے الیکشن میں کانگریس سیاسی طور پر نست ونابود ہوگئی، حتیٰ کہ پارلیمنٹ میں کانگریس کی حالت اب اتنی غیر ہوچکی تھی اپوزیشن کی قیادت کی استعداد سے بھی یہ محروم ہوگئے، سیاسی طور پر کانگریس کا دم اکھڑ چکا ہے، مستقبل قریب میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات تقریباً اختتام پذیر ہو چکے ہے۔
اس کے برخلاف بی جے پی نے سیاسی حکمت عملی صرف اقلیت کو ہراساں کرنے پر مرکوز رکھی حکمران جماعت کی تمام سیاست اقلیت کو نشانے پر رکھ کر کی جاتی ہیں، اکثریت کو اقلیت کا خوف دلانا ان کا اولین لایحہ عمل رہا ہے، اس طریقہ کار میں حکمران جماعت کامیابی کے مراحل طے کرتی جارہی ہے۔
2014سے لیکر اب تک حکمران جماعت کا کوئی ایسا کام جو عوام کی فلاح وبہبود کے لئے کیا گیا ہو نظر نہیں آتا ٢٠١٦ کی نوٹ بندی کے مضر اثرات آج تک عوام کا پیچھا کررہے ہیں، معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا، ملازمتیں فراہم کرنے میں حکومت ناکام رہی، معاشرے کو مزہبی منافرت میں جھونک کر سیاست کو افق کی بلندی پر لے جانے والی جماعت اب بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑ رہی ہیں۔
رہایشی مکانات کو بلڈوذر سے سیاسی اغراض و مقاصد حاصل کرنے کے لئے منہدم کرتی پوپی کی حکومت اقلیت پر ظلم کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی، وفاقی حکومت نے این آر سی اور سی اے اے، گو ہتھیا قانون، طلاق ثلاثہ قانون بنا کر اقلیت بلخصوص مسلمانوں کی شہریت کو ختم کرنا نیز مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کا دلچسپ مشغلہ بنا رکھا ہیں، خواتین کی بلوغت کی عمر کو بڑھا کر الگ داستان رقم کر دی، ملک انتشار کا شکار رفتہ رفتہ ہو رہاہے، ایک نیا قانون اگنی پتھ کا اہتمام حکومت کے زیر غور ہے۔
اس کے منظر عام پر آتے ہے بھارت کے بیشتر ریاستوں میں تشدد برپا ہوا کثیر تعداد میں بے روز گار نوجوانوں کا جم غفیر سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہا ہے، الغرض حکومت کا کوئی شعبہ کسی عوامی فلاحی کاموں کا ارتقاب کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، کہی پر بے لگام زبانیں رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔
حکومت گستاخی رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر کوئی کاروائی نہیں کرتی، جگہ جگہ سڑکوں پر جلوس نکالے گئے پولس نے نہتے لوگوں پر بندوق سے گولیاں داغی نوجوان سڑکوں پر جاں بحق ہوئے، ظلم کرتی حکومت اقلیت دشمنی میں اپنے ارتقاء کو پہنچ چکی ظالم یہ ظلم محض حکومت میں بنے رہنے کے لئے کررہاہے۔ تاہم آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔
وماعالینا الاالبلاغ المبین



