سیاسی و مذہبی مضامین

گستاخان رسول شریعت کی عدالت میں

مکرمی !اللہ رب العزت اپنے محبوب حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ’’ اورہم نے آپ کے ذکر کو بلند فرمادیا ہے ‘‘حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے حضرت جبریل سے اس آیت کریمہ کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے عرض کی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے تو میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے ۔

اسی لئے اللہ نے آپ کی قدرومنزلت اور آپ کی شان ظاہر فرمانے کیلئے آپ کے قلب اطہر پرقرآن نازل فرمایا ۔اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی بلندی یہ بھی ہے کہ اللہ نے اپنے حبیب پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کر نا مخلوق پر لازم قرار دیا ہے ۔یہاں تک کہ کسی کا صرف اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کی وحدانیت کا اقرا کرنا اُس وقت تک مقبول نہیں پو سکتا جب تک کہ وہ سچے دل سے حضور پر ایمان نہ لے آئے اور ایمان کے ساتھ رسول اللہ کی اطاعت بھی نہ کرنے لگے ۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’جس نے رسول کا حکم مانا ،اس نے حقیقت میں اللہ کا حکم مانا ‘‘ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اللہ کی عبادت کرتا رہے اور ہربات میں اللہ کی ہی تصدیق کرے ،اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی نہ دے تو اس کا عبادت کرنا سب کچھ بے کار ہے اور وہ کافر ہی رہے گا۔اگر ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو وہ عشق رسول میں سر شار نظر آتے ہیں۔

عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ میں بدر کی جنگ میں لڑنے والوں کی صف میں کھڑا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ میری دائیں اور بائیں جانب دو کم عمر بچے کھڑے ہو ئے ہیں ان کو دیکھ کرمیرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر کوئی بڑا میرے آس پاس ہوتا تو ہم ایک دوسرے کی مددکرتے اور کام آسکتے تھے وقت ضرورت ،اتنے میں ان دونوں لڑکوں میں سے ایک نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ تم ابو جہل کو پہچانتے ہو ؟

میں نے کہا پہنچانتا ہوں بتائوتمہیں کیا کام ہے ؟اس لڑکے نے کہا میں نے سنا ہے ابو جہل نے ہمارے پیارے آقا علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی ہے اور گالیاں بکتا ہے ،خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر وہ مجھے مل جائے تو میں اس وقت تک اس سے دور نہیں ہٹوں گا یہاں تک وہ مرجائے یا میں مر جائوں ۔حضرت عبد الرحمان بن عوف فرماتے ہیں کہ مجھے اس لڑکے سوال و جواب پر بہت تعجب ہوا اور دوسرے کم عمر لڑکے نے بھی یہی سوال کیا اور جیسے ہی ابو جہل نظرآیا میں کہا دکھو وہ ہے ابو جہل یہ دونو ں کڑکے ابو جہل کی طرف دوڑتے ہوئے گئے اور جاکر اس پر تلوار چلانا شروع کر دی اور یہاں تک کہ ابو جہل کو واصل جہنم کر دیا ۔

اسی عشق رسول کی مثال ایک انصاری صحابیہ نے پیش کی ہے ایک جنگ کے موقع پر آپ کو معلوم ہوا کہ جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا گیاہے یہ سن کر آپ فوراً جنگ کی طرف روانہ ہوتی ہیں راستہ میں ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیتا ہے آپ نے اس سے حضور کے بارے میں معلوم کیا کہ حضور کا کیا حال ہے اس کو معلوم تھا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم صحیح سلامت ہیں اس نے عورت کے سوال کا جواب نہ دیکر کہا کہ تمہارے باپ کو شہد کر دیا گیا ہے اس عورت نے اس خبر کو نظر انداز کیا ،اورپھر اس عورت کو بتا یا گیا کہ تمہارے بھائی کو بھی شہید کر دیا گیا ہے۔

اس عورت نے اس خبر کو بھی سن کر کوئی فکر نہیں کی ،پھر اس کو خبر دی گئی کہ تمہارے شوہر کو شہید کر دیا گیا ہے اس عورت نے بے چین ہوکر کہا کہ مجھے ان خبروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کون مر گیا اور کون زندہ ہے ،مجھے میرے نبی کے بارے میں بتائو ان کا کیا حال ہے آخر جب بتانے والوں کے پا س کوئی خبر نہ رہی تو بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بخیروعافیت ہیں یہ سن کر اس عورت کو سکون حاصل ہوا اور حضور کی سلامتی کی وجہ سے وہ اپنے باپ ،بھائی اور شوہر کے غم کو بھول گئی اور اس عورت کے منھ سے نکلا کہ اگر آپ (حضور)زندہ ہیں تو ہر پریشانی ومصیبت ہیچ ہے۔

صحابہ کے عشق کا اندازہ اس واقعہ سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ غزوئہ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوگیا یہ دیکھ کر حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور خون کو چوسنا شروع کر دیا ،اور اس خون کو منھ سے زمین پر گرانا بے ادبی سمجھا اور خون کو پی گئے جب حضور کو یہ واقعہ معلوم ہو اتو آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے کہ جس کے خون میں میرا خون آمیزش کر گیا ہو تو مالک بن سنان کو دیکھ لے۔

اسی عشق رسول کی مثال پیش کی حضرت زبیربن العوام رضی اللہ عنہ نے آپ نے سولہ سال کی عمرمیں اسلام قبول کیااور حضور سے بے پناہ محبت کیا کرتے تھے ایک مرتبہ کسی نے یہ خبرمشہور کر دی کہ مشرکین نے حضور کو گرفتار کر لیا ہے حضرت زبیر یہ خبر سن کر بے چین و بیتاب ہو گئے اور تلوار لیکر لوگوں کر چیرتے ہوئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوگئے حضور نے دیکھ کر معلوم کیا کہ کیا بات ہے اتنے بے چین کیوں ہو حضرت زبیر نے پورا واقعہ سنایا تو حضور بہت خوش ہوئے۔

موجودہ حالات میں اسی عشق رسول کو ہمارے سینوں سے نکالنے کی پرزور کوششیں کی جارہی ہیں اور آئے دن طرح طرح کے فتنے برپا کئے جا رہے ہیں کہ کسی بھی طرح سے اسلام اور بانی اسلام محسن انسانیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کیا جا سکے ،لیکن جس دین کا محافظ خدا ہو اور جس آخری نبی کو اس نے اپنا محبوب بنایا ہو ،اس دین اور اس نبی کی شان وعزت کو کوئی کتنا ہی نیچا کر نا چاہے وہ خود تو ذلیل وخوار ہو جائیگالیکن دین اور نبی کی ذات گرامی پر ذرہ برابرآنچ نہیں آسکتی ۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری حیات میں دین کی تبلیغ کر رہے تھے اسوقت بھی مخالفین نے آپ کو بہت ستایا اور آپ کو اذیتیں پہچائیں لیکن آپ نے اپنی زبان مبارک سے کسی کو کچھ نہیں کہا بلکہ رب نے اپنے محبوب کی طرف سے خودجواب دیا اور اللہ نے فرمایا ’’یقینا تیرا دشمن لاوارث اور بے نام ونشان ہے‘‘اور ابو لہب کی گستاخی کا جواب دیتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ’’ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا ‘‘ ۔

ان موجودہ حالات میںمسلمانو کے دل زخمی اور غمزدہ ہیں اپنے نبی کی شان میں گستاخی کی وجہ سے لیکن ان حالات میں مسلمانوں کو صبر سے کام لینا ہے ور اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں کہ جس طرح اللہ نے آج سے پہلے گستاخوں پر لعنت برسائی اور اس لعنت کا سلسلہ قیامت تک کیلئے جاری کر دیا ہے تو یقینا آج کے گستاخوں سے بھی اللہ رب العزت ضرورانتقام لیگا۔ اور ہماری زندگیاں ان حالات میں اسوئہ رسول کی محتاج ہیں ہمیں ہر وقت اسوئہ رسول پر چلنا ہوگا ناموس رسالت پر حملے روکنے کیلئے اپنے پیارے نبی کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنانا ہوگا ناموس رسالت پر ہونے والاحالیہ حملہ یہ کوئی پہلا اور آخری حملہ نہیں ہے اور نہ ہی آگے ان حملوں کے بند ہونے کی امید نظر آتی ہے ۔

ہمیں وقتی طور پر جو ش میں نہ آکرآنے والے وقت کیلئے لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے اور لائحہ عمل ہمارا یہ ہو کہ ہم عوام کی علمی تربیت کریںاور سیرت رسول سے ان کو آشنا کریں تاکہ آنے والے وقت میں ہر مظموم شرارت اور واقعہ کے سد باب کیلئے ہماری نسلیں عشق رسول کے حقیقی رنگ میں رنگی ہوئی نظر آئیں اور آپ کی سیرت وکردار کو اپنا کر اپنی شخصیت کو سنوار سکیں اور مخالفین سے مستند بات بھی کرسکیں ۔

ان نازک حالات میں مسلمانوں کو قانون کے دائرہ میں رہ کر مخالفین کو علمی جواب دینا چاہئے ۔اورہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان گستاخان رسول کو فوراً گرفتار کیا جائے اور ان کو سخت سے سخت سزا دی جا ئے۔ اورجیسا کہ ہمارے ملک کا دستور جمہوری ہے ہر انسان کو اپنے مذ ہب کے مطابق زندگی گزار نے کی آزادی ہے اس لئے حکومت ہند ایسا قانون بنائے کہ اگر آگے کو ئی کسی بھی مذہبی پیشوا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرے تو اس کو قانونی طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے اور ملک میں امن وامان قائم رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button