سیاسی و مذہبی مضامین

ایمان اور رشتہ داریاں ✍️مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

غرض کہ دوستی دشمنی ، پیار و نفرت ، اتفاق و اختلاف اور رفاقت و دوری ،اہل ایمان ان ساری چیزوں کو اسی کے مطابق رکھیں

اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم )کہدو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد میں عزیز تر ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا ۔

دین اسلام بہت ہی حساس مذہب ہے ۔ یہ اپنے ماننے والوں ( مسلمانوں ) سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ساری وابستگیاں صرف اسی سے جوڑلے اور اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی کیلئے اسی سے رہنمائی و رہبری حاصل کرے اور کسی دوسری طرف امیدیں نہ باندھیں ،کسی اور مخلوق کو نافع و ضار ( نفع و نقصان پہنچانے والا ( نہ سمجھیں مختصر یہ کہ ،اسلام مسلمانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ پورے کے پورے اس کے محب بن کر رہیں ۔ اسلام کا یہ ایک اہم پہلو ہے کہ یہ اپنے ماننے والوں کو اس بات کی ہدایت کرتا ہے کہ کسی کو کچھ دو تو اسلام کی خاطر دو اور کسی سے ہاتھ روک لو تو بھی اسی دین اسلام کیلئے ۔

کسی سے محبت کرو بھی تو اسی دین حق کیلئے اور دشمنی ہو بھی تو اسی دین حنیف کی خاطر اور اس بات کی بھی تاکید کرتا ہے کہ اللہ کے باغیوں اور سرکشی کرنے والوں کے ساتھ دوستی نہ کریں ، انہیں اپنا راز دار نہ بنائیں یہاں تک کہ جو لوگ مذہب اسلام پر ( مذہب شیطان ) کفر و شرک کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اپنا رفیق نہ بنایا جائے اگر ان میں تمہارے باپ اور بھائی ہی کیوں نہ شامل ہوں ۔

غرض کہ دوستی دشمنی ، پیار و نفرت ، اتفاق و اختلاف اور رفاقت و دوری ،اہل ایمان ان ساری چیزوں کو اسی کے مطابق رکھیں اور ان ساری چیزوں میں جو اہم بات دیکھے جانے والی ہے وہ ہے ’’ایمان ‘‘ یعنی ایمان ہی اصل بنیاد ہے جو رشتہ کو جوڑتی ہے ۔

محترم قارئین! اس تمہید کے بعد ہم اپنے اصل مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کو ان کا نام ’’اے ایمان والو‘‘ سے خطاب فرماتے ہوئے حکم دے رہے رہا ہے کہ تم ان لوگوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ جو ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اس میں تمہارے باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو ،خبردار اگر کوئی ، ان لوگوں میں کسی کو اپنا رفیق بنایا تو، وہ ظلم کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا ۔ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ کفر کرنے والے اور شکر کرنے والے آپس میں ایک دوسرے کے رفیق نہیں ہوسکتے کیونکہ کفر کرنے و الے شیطان کے نقش قدم پر چل کر جہنم میں جاگرتے ہیں اور شکر کرنے والے اہل ایمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم ( اسوۃ حسنہ ) پر چلتے ہوئے اپنی منزل مقصود جنت کو پالیتے ہیں۔

لہذا اللہ رب العزت کی طرف سے حکم دیا جارہا ہے کہ اہل ایمان بندے ،کفر کرنے اور اس کو پسند کرنے والے لوگوں سے ’’اپنا تعلق رفاقت‘‘ نہ رکھیں ۔

’’ایک اور انتباہ ‘‘:پہلی آیت میں اس بات سے اہل ایمان کو آگاہ کردیا گیا کہ وہ اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائیں اگر وہ ایمان کے مقابل کفر کو پسند کرتے ہیں اور اس طرح کا عمل کرنے والوں کے متعلق فرمادیا گیا تھا کہ یہ ظالمانا عمل ہے ۔ اس طرح کفر و ایمان کے سلسلہ میں دو ٹوک انداز میں بیان فرمانے کے بعد ایک اور انتباہ دیا جارہا ہے،

یعنی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرماتے ہوئے آپ کی زبان مبارک سے یہ بات کہلوائی جارہی ہے کہ ’’اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور بیویاں اور عزیز اقارب اور تمہارے کمائے ہوئے مال او رتمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور وہ گھر جو تم کو پسند ہیں اگر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔’’مومنوں کی جان و مال اللہ نے جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے ‘‘ اس طرح جب مومن کا سودا اللہ سے ہوچکا ہے تو اب اس کی جان اپنی رہی اور نہ ہی اس کا مال اپنا رہا ۔

’’اے عمرؓ! اب تم مومن ہو‘‘:احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس مضمون کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے مثلاً ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ’’یا رسول اللہ! مجھے آپ ، اپنے نفس کے سواء ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘ جب تک میں اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں اس وقت تک وہ مومن نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول آپ میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ اے عمرؓ! اب تم مومن ہو‘‘ صحیح بخاری

ایک دوسری روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ، جب تک میں اس کو، اس کے والد سے ،اسی کی اولاد سے اور تمام لوگوں سے زیادہ ، محبوب نہ ہوجاؤں ۔ صحیح بخاری کتاب الایمان ۔

حضرت مولانا مودودی ؒ نے اس فقرے کی تفہیم اس طرح فرمائی ہے ۔

’’تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے ‘‘

یعنی تمہیں ہٹا کر سچی دینداری کی نعمت اور اس کی علمبرداری کا شرف اور رشد و ہدایت کی پیشوائی کا منصب کسی اور گروہ کو عطا کردے ۔ (حوالہ تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ ۱۸۵ حاشیہ نمبر ۲۲)

’’خاتمہ کلام ‘‘- پھر آگے اپنی بات کو ختم فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہیں کہ ’’ اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا ۔ یعنی حب مال میں گرفتار ہو کر جہاد جیسی چیز کو چھوڑ بیٹھنا اور اپنی تن آسانی کی خاطر احکام الٰہی کی تعمیل سے جی چرانا فسق ہے اور اللہ تبارک تعالیٰ فاسقوں کی رہنمائی نہیں کرتا ۔ یعنی جس طرح دوسری جگہ فرمایا تھا کہ اللہ ظالموں (مشرکوں) کو بامراد نہیں کرتا۔ٹھیک یہاں بھی اسی طرح کی بات آئی ہے کہ اللہ فاسقوں کی رہنمائی نہیں فرماتا ( نوٹ )

فسق کا لفظ خروج عن الایمان کے مفہوم میں ہے اقتباس ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button