نئی دہلی ، 2جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کانگریس نے کہا ہے کہ ادے پور کے سفاکانہ قتل کیس کے قاتلوں کا بی جے پی کے دو لیڈروں کے روابط کا انکشاف ہوا ہے، اس لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ادے پور میں پیش آئے ہولناک واقعہ کے تناظر میں ایک میڈیا گروپ نے انتہائی سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کنہیا لال کے قتل کا اہم ملزم ریاض عطاری کے تعلقات بی جے پی لیڈر ارشاد چین والا اور اور محمد طاہر سے ہیں اور ان کے تعلقات فیس بک پر پوسٹ کی گئی تصویریں سے ظاہر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس انکشاف میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ریاض عطاری اکثر راجستھان بی جے پی کے بڑے لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریہ کے پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہے۔
ریاض کی راجستھان بی جے پی اقلیتی یونٹ کے اجلاس میں شرکت کی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ترجمان نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی اپنے ترجمانوں اور لیڈروں کے ذریعے پورے ملک میں مذہبی جنون پھیلانے کی کوشش کرکے پورے ملک میں آگ لگا کر سیاسی پولرائزیشن کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی سوال ہے کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ان پارٹی لیڈروں کے فرقہ پرستی پھیلانے کی کوششوں پر خاموش رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر ارشاد چین والا کی 30 نومبر 2018 اور محمد طاہر کی 3 فروری، 27 اکتوبر اور 28 نومبر 2019 اور 10 اگست 2021 کو فیس بک پر پوسٹس سے واضح ہوتا ہے کہ کنہیا لال قتل کا قاتل ریاض نہ صرف بی جے پی لیڈروں کا قریبی تھا۔ بلکہ وہ بی جے پی کا سرگرم رکن بھی تھا، اس لئے بی جے پی کو اس سلسلے میں وضاحت پیش کرنی چاہیے ۔
اودے پورقتل: ملزموں کو پاکستان سے اُکسایا گیا تھا
این آئی اے اب راجستھان کے ادے پور میں واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو پتہ چلا ہے کہ کنہیا لال کا قتل ادے پور میں بڑی احتیاط سے کیا گیا تھا اور پاکستان میں رہنے والے ایک شخص نے محمد غوث کی قتل کیلئے حوصلہ افزائی کی تھی۔پاکستان میں بیٹھے ’سلمان بھائی‘ نامی شخص نے محمد غوث سے کہا کہ تم کچھ شاندار کرو کیونکہ پرامن احتجاج کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ ذرائع کے مطابق محمد غوث دسمبر 2014 میں مبینہ طور پر ’دعوت اسلامی‘ کی دعوت پر 45 روزہ پروگرام میں شرکت کے لیے پاکستان گیا تھا۔
دعوت اسلامی پاکستان میں قائم دینی تنظیم ہے۔محمد غوث نے بتایا کہ جنوری 2015 میں واپس آنے کے بعد اس نے کچھ واٹس ایپ گروپس جوائن کیے اور پاکستان میں بیٹھے سلمان بھائی اور ابو ابراہیم نامی شخص سے رابطے میں تھا۔این آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق محمد غوث اور ریاض نے 10 جون سے 15 جون کے درمیان حملے کی منصوبہ بندی شروع کی۔انہوں نے ایجنسی کو بتایا کہ کنہیا لال کی دکان کے قریب رہنے والے بابلا بھائی نے 10 سے 11 لوگوں کی شناخت کی تھی اور مختلف لوگوں کو ان پر حملہ کرنے کا کام سونپا تھا۔ یہ لوگ نوپور شرما کے تبصرہ سے ناراض تھے۔ایک ذریعے نے کہا کہ بابلا بھائی کے کردار اور دیگر تفصیلات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ملزم محمد غوث اور ریاض کی ابتدائی تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حملے سے دو تین ہفتے قبل مقامی واٹس ایپ گروپس پر مسلم کمیونٹی کے افراد کے ساتھ کچھ لوگوں کی تصاویر اور تفصیلات شیئر کی گئی تھیں۔ ایک ذریعہ نے بتایا کہ کنہیا لال کی تصویر اور تفصیل بھی ان میں سے ایک گروپ میں شیئر کی گئی تھی۔
ادوے پورسانحہ: کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی، انٹرنیٹ ہنوز معطل
راجستھان کے شہر ادوے پور میں کنہیا لال قتل کیس کے بعد سے پانچویں دن بھی انٹرنیٹ معطل رہا۔ تاہم ہفتے کے روز انتظامیہ نے کرفیو میں چار گھنٹے کے لیے نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔ دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک کرفیو میں نرمی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تاراچند مینا کے حکم کے مطابق شہر کے مکین آرام کے وقت میں اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے باہر جا سکیں گے۔ تاہم انٹرنیٹ اتوار تک بند رہے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ پیر سے انٹرنیٹ سروس بحال ہو سکتی ہے۔دوسری جانب کنہیا لال قتل کیس کے خلاف کئی تنظیموں نے ہفتہ کو بند کا اعلان کیا ہے۔ مقامی تاجروں نے ہندو تنظیموں کے بند کی حمایت کی ہے۔
جس کے بعد الور، بھرت پور، کرولی آج بند رہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی سری گنگا نگر کا بازار ہفتہ کو صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک آدھے دن کے لیے بند رہے گا۔بتا دیں کہ 28 جون کو اودے پور میں دو لوگوں نے کنہیا لال نامی شخص کو اس کی دکان میں گھس کر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ ملزمان نے قتل سے پہلے اور بعد کی ویڈیوز بھی بنائی تھیں۔ ویڈیو میں اس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
تاہم پولیس نے واقعے کے بعد ہی دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ دونوں ملزمان کے دہشت گرد تنظیمیں بھی جڑی ہوئی ہیں۔این آئی اے کورٹ جے پور نے ڈسٹرکٹ کورٹ ادے پور کو خط لکھ کر کیس کی منتقلی کی درخواست کی تھی۔ اس پر ضلع جج نے ہدایت دی کہ معاملے کی مزید سماعت این آئی اے کورٹ فرسٹ جے پور میں ہوگی۔ سی جے ایم کورٹ نے ملزم کو ایک دن کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر دے دیا۔عدالت نے 2 جولائی کو ملزم کو قریبی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ محسن اور آصف کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ دونوں ملزمان کو اب ہفتہ کو جے پور میں پیش کیا جائے گا۔



