Gyanvapi Masjid Case: وارانسی عدالت میں سماعت، مسلم فریق نے 51 نکات پر دلائل دیے
سماعت میں صرف 40 افراد کو داخلے کی اجازت
وارانسی، 4 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): گیان واپی مسجد معاملے کی سماعت پیر کے روز وارانسی کی ضلع عدالت میں ہوئی۔ اس موقع پر مسلم فریق کے وکیل ابھے ناتھ یادو نے اپنے دلائل 51 نکات پر پیش کیے۔ عدالت نے اب اس معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 12 جولائی مقرر کی ہے۔
سماعت کے دوران سخت سیکورٹی
کمرۂ عدالت میں صرف 40 افراد کو داخلے کی اجازت دی گئی جبکہ میڈیا نمائندوں کو باہر رکھا گیا۔ کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر عدالت کے باہر بھرپور پولیس بندوبست کیا گیا تھا۔
گیان واپی مسجد سروے کا حکم
یاد رہے کہ سنگار گوری میں مستقل پوجا کی اجازت کے لیے عرضی داخل کی گئی تھی، جس پر سول جج سینئر ڈویژن روی کمار دیواکر نے کورٹ کمشنر مقرر کر کے گیان واپی مسجد کا سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔
مسلم فریق نے اس عرضی کو خارج کرنے کے لیے درخواست دی تھی، لیکن گرمائی تعطیلات کے باعث سماعت نہ ہو سکی تھی۔ اب اس معاملے پر دوبارہ 4 جولائی کو سماعت کی گئی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر 23 مئی سے کیس کی سماعت ضلع عدالت میں جاری ہے۔
قابل سماعت ہونے پر الگ سے بحث
کیس میں سی پی سی کے حکم 7 اصول 11 کے تحت یہ نکتہ بھی زیر غور ہے کہ آیا مقدمہ قابل سماعت ہے یا نہیں۔ گزشتہ سماعت میں بھی مسلم فریق نے اپنے دلائل پیش کیے تھے۔ موجودہ سماعت میں بھی مسلم فریق کی جانب سے دلائل کا سلسلہ جاری رہا۔ اگلی سماعت میں ہندو فریق دلائل دے گا۔
ہندو فریق کا مؤقف
ہندو فریق کے وکیل وشنو جین نے کہا ہے کہ معاملے میں آثارِ قدیمہ کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ:“اگر مسجد سے شیو لنگ ملا ہے تو 1991 کا عبادت گاہ قانون یہاں نافذ نہیں ہوتا، اور ہم اس دلیل کو عدالت میں پیش کریں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ جج دیواکر جین کو جو مکتوب موصول ہوا، وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس کیس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔



