نئی دہلی،23جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کی تہاڑ جیل میں بند دہشت گرد تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا سربراہ یاسین ملک جیل کے اندر بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہے۔ملک، جو عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے، جمعہ کی صبح سات بجے سے ہڑتال پر ہے۔ جیل نمبر 7 میں قید یاسین ملک کو جیل حکام نے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی لیکن وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔معلومات کے مطابق یاسین ملک کا الزام ہے کہ اس کے خلاف زیر التوا مقدمات کی صحیح طریقے سے تفتیش نہیں ہو رہی ہے اور وہ صبح سے بھوک ہڑتال پر ہے اور مطالبہ کررہاہے کہ اسی طرح کی تحقیقات کی جائیں۔ملک کو منانے کی تمام کوششیں اب تک رائیگاں گئی ہیں اور ہڑتال ختم نہ ہونے پر جیل انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دہشت گرد یاسین ملک تہاڑ کی ہائی سکیورٹی جیل میں بند ہے، جہاں اسے صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا دیا جاتا ہے۔ لیکن جمعہ کی صبح جب عملہ اس کے پاس ناشتہ لے کر پہنچا تو اس نے کچھ کھانے سے انکار کر دیا۔ملازم کو یہ بھی بتایا کہ وہ بھوک ہڑتال پر ہے اور اس نے پہلے ہی جیل حکام کو اس بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔ یاسین کی بھوک ہڑتال کے بعد سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ اب میڈیکل ٹیم کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ اس کی طبیعت بگڑنے پر فوری علاج کی سہولت فراہم کی جاسکے۔اس کے ساتھ ہی کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اسے دہلی کے کسی بھی اسپتال میں داخل کرنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ دہشت گرد یاسین ملک کو دہشت گردی کی فنڈنگ ??کیس میں 25 مئی کو دہلی کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اس پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
ملک کو یو اے پی اے اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ وہ ہندوستان کے خلاف جنگ چھیڑنے اور دہشت گردوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔ عدالت نے اسے19 مئی کو ہی سماعت کے دوران مجرم قرار دیا تھا۔سزا کے اعلان سے پہلے تفتیشی ایجنسی نے عدالت سے دہشت گرد ملک کو موت کی سزا سنانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی۔ یاسین ملک نے جموں و کشمیر کی آزادی کے نام پر وادی میں دہشت گردانہ کارروائیاں کیں اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے پیسہ اکٹھا کیا۔ عدالت میں یاسین ملک نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات قبول کر لیے تھے۔



