ملک کے ۱۵؍ویں صدر جمہوریہ کی حیثیت سے دروپدی مرمو نے اُٹھایا حلف چیف جسٹس آف انڈیا نے دلائی حلف، کہا یہ غریبوں کا ’آشیرواد‘ ہے!
نئی دہلی، 25 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دروپدی مرمو نے ہندوستان کے 15ویں صدر کے طور پر حلف لے لیا۔ عہدہ سنبھالنے کی تقریب پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمنا انہیں صدر کے عہدے کا حلف دلایا۔ 21 جولائی کو ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر منتخب ہونے والے پہلی قبائلی اورسب سے کم عمر رہنما بن کر 64 سال پرانی تاریخ رقم کی۔
وہ صدر جمہوریہ بننے والی دوسری خاتون بھی ہیں۔نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو، وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، وزراء کونسل کے اراکین، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، سفارتی مشنوں کے سربراہان، اراکین پارلیمنٹ اور پرنسپل سول اور فوجی افسران حلف برداری میں شرکت کی۔ صدرجمہوریہ مرمونے جمعرات کو اپوزیشن کے صدارتی امیدوار یشونت سنہا کو شکست دے کر تاریخ رقم کی اور وہ پہلی قبائلی اور اعلیٰ آئینی عہدہ پر فائز ہونے والی دوسری خاتون بن گئیں۔اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مرمو نے کہا کہ میں آزاد ہندوستان میں پیدا ہونے والی پہلی صدر جمہوریہ ہوں، میرے انتخاب میں غریبوں کی آشیرباد شامل ہے۔مرمو نے کہا کہ میں ہندوستان کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے کے لیے منتخب ہونے کے لیے تمام اراکین پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلی کے تمام اراکین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔
آپ کا ووٹ ملک کے کروڑوں شہریوں کے اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ملک نے ایسے اہم دور میں صدرجمہوریہ منتخب کیا ہے جب ہم اپنی آزادی کا امرت مہوتسو منا رہے ہیں۔ آج سے چند دن بعد ملک اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر لے گا۔اپنے پہلے خطاب میں نئے صدر نے کہا کہ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ جب ملک اپنی آزادی کا 50واں سال منا رہا تھا، تب میرا سیاسی کیریئر شروع ہوا اور آج آزادی کے 75ویں سال میں مجھے یہ نئی ذمہ داری ملی ہے۔میرا تعلق ایک آدی باسی معاشرے سے ہے، اور مجھے ایک وارڈ کونسلر بننے سے لے کر ہندوستان کا صدر بننے تک کا موقع ملا ہے۔
میرے لیے یہ بات انتہائی اطمینان کی ہے کہ جو لوگ صدیوں سے محروم ہیں، اور ترقیوں کے کوسوں دور ہیں ، غریب، دلت، پسماندہ اور آد ی باسی مجھ میں اپنا عکس دیکھ رہے ہیں۔میں اپنے ملک کے نوجوانوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ آپ نہ صرف اپنا مستقبل بنا رہے ہیں بلکہ مستقبل کے ہندوستان کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں۔ ملک کے صدرجمہوریہ کی حیثیت سے میں ہمیشہ آپ کی مکمل حمایت کروں گی۔میں نے ملک کے نوجوانوں کا جوش اور طاقت دیکھی ہے۔ نو منتخب صدر جمہوریہ مرمو نے کہا کہ ہماری آزادی کی جدوجہد جدوجہد اور قربانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جس نے ایک آزاد ہندوستان کے لیے بہت سے نظریات اور امکانات کو پروان چڑھایا۔
مہاتما گاندھی نے ہمیں سوراج، سودیشی، سوچھتا اور ستیہ گرہ کے ذریعے ہندوستان کے ثقافتی نظریات کو قائم کرنے کا راستہ دکھایا۔نیتا جی سبھاش چندر بوس، نہرو جی، سردار پٹیل، بابا صاحب امبیڈکر، بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو، چندر شیکھر آزاد جیسے لاتعداد آزادی پسندوں نے قوم کے فخر کو سب سے اوپر رکھنے کی مثال قائم کی ہے۔ملک کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد سے لے کر رام ناتھ کووند تک کئی متاثر کن لیڈراناس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ اس عہدے کے ساتھ ساتھ ملک نے مجھے اس عظیم روایت کی نمائندگی کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔
آج میں تمام ہم وطنوں خصوصاً ہندوستان کے نوجوانوں اور ہندوستان کی خواتین کو یقین دلاتی ہوں کہ اس عہدے پر کام کرتے ہوئے ان کے مفادات میرے لیے سب سے اہم ہوں گے۔آئین کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری سے ادا کروں گی۔ میرے لیے ہندوستان اور تمام ہم وطنوں کے جمہوری ثقافتی نظریات ہمیشہ میری توانائی کا ذریعہ رہیں گے۔میں مطمئن ہوں کہ جو لوگ برسوں سے ترقی سے محروم تھے، (غریب، دلت، پسماندہ، قبائلی) وہ مجھے اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ میری نامزدگی کے پیچھے غریبوں کا احسان ہے۔ یہ کروڑوں خواتین کے خوابوں اور صلاحیتوں کا عکاس ہے۔
صدر کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد دروپدی مرمو نے کہا کہ آپ کا اعتماد اور حمایت میرے لیے ایک بڑی طاقت ہوگی۔ خیال رہے کہ جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں این ڈی اے کی امیدوار دروپدی مرمو نے اپوزیشن امیدوار یشونت سنہا کو شکست دی۔ انہیں 2824 پہلی ترجیحی ووٹ ملے، جن کی قدر 6,76,803 ووٹ ہے، جبکہ سنہا صرف 1,877 پہلی ترجیحی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے جن کی قدر 3,80,177 ہے۔ گنتی کے تیسرے دور کے بعد، مرمو نے اکثریت کا ہندسہ عبور کیا (5,28,491) اور ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے والی پہلی آدی باسی خاتون بن کر تاریخ رقم کی۔



