جونپور، 8 اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مشہور شاہ گنج جی آر پی کانسٹیبل قتل کیس میں سابق ایم پی اوما کانت یادو سمیت 7 لوگوں کو سول کورٹ کی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ بتا دیں، 6 اگست کو مشہور شاہ گنج جی آر پی کانسٹیبل قتل کیس میں سابق ایم پی اوما کانت یادو سمیت 7 لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ جس پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے آج یعنی 8 اگست کو سزا سنائی گئی ہے۔واضح ہو کہ 4 فروری 1995 کو شاہ گنج ریلوے اسٹیشن گولیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔ اس فائرنگ میں شاہ گنج جی آر پی چوکی کا کانسٹیبل اجے سنگھ مارے گئے تھے۔ دوسری جانب ایک اور کانسٹیبل للن سنگھ، ریلوے ملازم نرمل وردرسن اور مسافر بھرت لال زخمی ہوگئے۔
اس قتل کا الزام مچھلی شہر کے سابق ایم پی اوما کانت یادو سمیت 7 لوگوں پر لگایا گیا تھا۔ تقریباً 27 سال تک جاری رہنے والے اس گھناؤنے قتل کے مقدمے میں عدالت نے تمام ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔اس مقدمے میں کل 19 افراد نے گواہی دی۔کیس میں پولیس نے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی، چارج شیٹ میں سات لوگوں بشمول اوما کانت یادو، راجکمار یادو، دھرم راج یادو، مہندر، صوبیدار اور بچو لال کو ملزم بنایا گیا ہے۔
اس معاملہ میںچارج شیٹ کو ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا، بعد میں اسے ہائی کورٹ کی ہدایت پر سول کورٹ جونپور منتقل کیا گیا ۔اس معاملہ کی معلومات دیتے ہوئے اسسٹنٹ گورنمنٹ ایڈوکیٹ لال بہادر پال نے کہا کہ 27 سال پرانے کیس میں عدالت نے سابق ایم پی کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اماکانت یادو کے ساتھ دیگر ملزمان کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے سابق ایم پی اوما کانت یادو پر 5 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ وہیں دیگر تمام ملزمان پر 20 ہزار روپے جرمانہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ جرمانے کی نصف رقم جی آر پی کے متوفی کانسٹیبل اجے سنگھ کے اہل خانہ کو د ی جائے گی ۔



