سیاسی و مذہبی مضامین

مکینِ شہرِ خموشاں آہ حضرت مولانا حافظ قمرالدین صاحب جونپوری

✍️از قلم محمد اکرم خان قاسمی جونپوری خطیب مسجد عمر بن خطاب و ناظم دار ارقم احمد نگر شاہ گنج جونپور

موت ایک اٹل حقیقت ہے اس عالم رنگ و بو میں منہمک ہر روز لاکھوں لوگ اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر عالم باقی کو اپنا مسکن بنا لیتے ہیں لاکھوں گھرانے غم و الم سے چور ہوکر بھی بفضلہ تعالٰی صبر و ضبط کا دامن تھام کر رکھتے ہیں لیکن بعض کمزور دل والے صبر و ضبط کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ اس عالم ہستی میں بعض لوگ ہمارے لیے بہت اہم ہوتے ہیں جب وہ اس دار فانی سے رشتہ توڑتے ہیں تو ہر کس و ناکس کی آنکھیں نم ہوجاتی ہے پوری کائنات پر رنج و الم کے بادل چھا جاتے ہیں۔

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

۱۰/ اگست ۲۰۲۲ء بدھ کو صبح سات بجے جب یہ اندوناک خبر ملی کہ مشہور عالم دین نمونہ اسلاف بانئ مدرسہ شیخ الاسلام فتح پور حضرت مولانا قمرالدین صاحب جونپوری رحلت فرما گئے ” تو زبان پر بے اختیار آیت ترجیع جاری ہوگئی ” انا للہ وانا اليه راجعون "

چاندنی افسردہ گل بے رنگ بو نغمے اداس
ایک ترے جانے سے کیا بتلاؤں کیا کیا ہوگیا

بیشک مولانا قمرالدین صاحب ملت اسلامیہ کیلئے ایک عظیم ہستی اور قیمتی سرمایہ تھے، ان کی وفات کی خبر سے طبیعت میں بے حد حزن و ملال پیدا ہوا اور قلب بے چین ہوگیا۔

وہ کیا گئے کہ رونق گلشن چلی گئی

مولانا حافظ قمرالدین صاحب کا شمار نامور عالم دین اور معتبر و مستند فضلاء میں ہوتا تھا وہ علم عمل میں اعلیٰ تھے اخلاق و کردار میں ارفع تھے ۔ لب و لہجہ کی شائستگی زبان و بیان کی شگفتگی ان کی شناخت تھی۔ بہترین حافظ اور خوش الحان قاری تھے جب نماز میں کلامِ پاک کی تلاوت کرتے تو سماں بندھ جاتا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پوری کائنات ٹہر گئی ہے اور خاموش ہوکر حافظ صاحب کے لحن داؤدی کی سماعت میں ہمہ تن گوش ہے۔

والد محترم حضرت مولانا عثمان احمد صاحب علیہ الرحمۃ کہتے ہیں:

ہے قرآن پڑھنے میں کیا دلکشی
ہے آواز میں ان کی کتنا اثر

حافظ صاحب مہمان نوازی میں یکتا و یگانہ تھے

میزبانی کی ایسی مثال پیش کہ بڑے بڑے نامور سخی گمنامی کے غار میں گم ہوگئے۔
میرے والد مولانا عثمان احمد صاحب جونپوری رحمہ اللہ ان کی شان میں لکھتے ہیں:

عجب شان مہماں — نوازی کی ہے
ہیں حیران سب یہ صفت دیکھ کر

نہیں خالی اک دن بھی مہمان سے
ہے مہمان خانہ کہ — ہے ان کا گھر

وہ ملتے ہیں خندہ جبینی کے ساتھ
وہ رکھ دیتے ہیں سامنے ماحضر

ہمہ وقت ہے فکر مہمان کی
یہ ہے مشغلہ ان کا شام و سحر

شعر و شاعری کے فن میں بھی خوب مہارت تھی نظمیں طویل لکھتے تھے حمد و نعت بھی مثالی لکھتے تھے
ان کا مجموعۂ کلام دیوان قمر مرتب ہے لیکن ابھی شائع نہیں ہو سکا ہے۔
والد صاحب علیہ الرحمۃ کہتے

نہیں نعت خوانی میں ان کی مثال
وہ رکھتے ہیں عشق شہ بحر و بر

مولانا قمرالدین صاحب جونپوری کی پیدائش ۱۹۳۴ء میں مشہور قصبہ مانی کلاں سے متصل موضع غیاث پور نوناری میں ایک متمول علمی و دینی گھرانے میں ہوئی آپ کے والد محترم حافظ شبلی صاحب رحمۃ اللہ علیہ متقی و پرہیز گار اور نیک صفت انسان تھے، علماء و اکابرین سے الفت و محبت رکھتے تھے ان کا نکاح گاؤں ہی میں ان کی چچا زاد بہن سے ہوا تھا مولانا قمرالدین صاحب کی والدہ ماجدہ بہت نیک سیرت فقراء و مساکین کا خیال رکھنے والی غریب پرور خاتون تھیں ۔

حافظ صاحب کچھ دن ماں باپ کے آغوش تربیت میں رہے پھر مانی کلاں کی جامع مسجد میں قائم مدرسے میں داخل کئے گئے۔ اس مدرسے میں جناب حافظ عبد الحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ حفظ پڑھا تھے حافظ عبد الحی صاحب کتاب اللہ کے شیدائی تھے ان کے دور میں مانی کلاں اور علاقے کے اکثر بچے کلام اللہ کے حافظ تھے۔انھیں کی نگرانی میں حضرت مولانا قمرالدین صاحب کو کلام اللہ کا حفظ مکمل کرنے کی سعادت ملی۔

حفظ کی تکمیل کے بعد آپ علمی مرکز علاقے کے مشہور معروف مدرسہ بدر الاسلام شاہ گنج آگئے یہاں خو ش قسمتی سے حضرت مولانا جمیل احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردی نصیب ہوئی اور خدمت کا موقع بھی میسر آیا ۔ مولانا جمیل احمد صاحب کی شان ہی نرالی تھی جس نے بھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا وہ نکھر کر آفتاب و ماہتاب بن گیا مولانا علیہ الرحمۃ کو تعلیم و تربیت کا ایسا ملکہ حاصل تھا کہ تلامذہ انسانیت کے ساتھ اخلاص و للہیت کے پیکر بن نکلتے تھے۔ حافظ صاحب مولانا جمیل احمد صاحب رحمۃاللہ علیہ جیسے جوہری کے یہاں پہنچ کر ملکوتی صفات سے مالامال ہوگئے

آپ نے مدرسہ بدر الاسلام میں فارسی کے ساتھ ساتھ عربی ششم تک کتابیں پڑھیں پھر دار العلوم دیوبند گئے وہاں ہفتم عر بی کی کتابیں پڑھ کر تقریباً تین ماہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی صاحب رحمہ اللہ سے بخاری شریف پڑھنے کی سعادت ملی۔ شیخ الاسلام کی وفات کے بعد شیخ الحدیث مولانا سید فخرالدین صاحب مراد آبادی علیہ الرحمۃ سے بخاری شریف کے بقیہ ابواب پڑھنے کا شرف ملا ؁ء ۱۹۵۷ مطابق ؁ھ ۱۳۷۷ میں دورۂ حدیث شریف سے فراغت کے بعد آپ مدرسہ بدر الاسلام میں حفظ کے استاد مقرر ہوئے اور تقریباً گیارہ برس تک آپ مدرسہ بدر الاسلام میں بطور استاد خدمت انجام دیتے رہے۔

مدرسہ کی مسجد میں جو بڑی مسجد کے نام سے موسوم ہے اکثر نمازیں بھی آپ ہی پڑھاتے تھے پھر بعض گھریلو ضرویات کی بنا پر آپ نے بدر الاسلام سے رخصت لے لی لیکن اپنے مادر علمی سے الفت محبت میں کبھی کمی نہ آنے دی بلکہ عرصہ تک مدرسے کیلئے کلکتے کا چندہ آپ ہی کرتے تھے۔

جب لال درواز جون پور کی شاہی مسجد میں حضرت مولانا ضمیر احمد صاحب جلال پوری رحمۃ اللہ نے مدرسہ قائم کرنے کی سعی پیہم شروع کی تو والد محترم مولانا عثمان احمد صاحب جونپوری رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا مسلم صاحب اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مولانا قمر الدین صاحب بھی پیش پیش رہے انھیں نفوس قدسیہ کی کاوش سے لال دروازہ جونپور کی ویران و بوسیدہ شاہی مسجد میں عالیشان مدرسہ جامعہ حسینیہ وجود میں آیا آج کل جس کے روح رواں حضرت مولانا توفیق صاحب دامت برکاتہم ہیں جب مولانا مسلم صاحب اعظمی کو بعض وجوہات کی بنا پر مجبوراً جامعہ حسینیہ کی نظامت سے مستعفی ہونا پڑا تو ان کی جگہ مولانا قمرالدین صاحب کو ناظم مدرسہ بنایا گیا تھا آپ تاحیات جامعہ حسینیہ کے رکن شوریٰ بھی رہے اور ہمیشہ جامعہ کی ترقی کیلئے کوشاں رہے ۔

آپ نے تقریباً پچیس تیس سال پہلے فتح پور میں ایک مدرسہ شیخ الاسلام کی بنیاد ڈالی پھر کچھ عرصہ تک اس کی ضروریات کیلئے کوشاں رہے بعد میں ضعف کی وجہ سے اس کی ذمہ داری *حضرت مولانا معید احمد کے کو دے دی اب مدرسہ شیخ الاسلام اپنی آب و تاب کے ساتھ مولانا معید احمد صاحب فتح پوری کی نگرانی میں ترقی کی جانب گامزن ہے۔

بہار اب جو گلشن میں آئی ہوئی ہے
یہ سب پود انھیں کی لگائی ہوئی ہے

حافظ صاحب کو ؁۱۹۹۶ء میں دل کا شدید دورہ پڑا تھا لیکن بفضلہ تعالیٰ لوگوں کی دعاؤں کی برکت سے کچھ دن بعد بالکل ٹھیک ہوگئے تھے دو سال پہلے چوٹ لگنے کی وجہ سے معذور ہوگئے تھے، چند ماہ پہلے علالت زیادہ بڑھ گئی بالاخر وقت موعود آ پہنچا اور وارث علم نبوت حامل قرآن و سنت پاک باطن پاک طینت حسن سیرت حسن صورت
کا پیکر جوار رحمت میں چلا گیا

تیرا چشمۂ فیض جاری رہے گا
تو زندہ ہے مرحوم و مغفور ہوکر

آپ کے پسماندگان میں ایک صاحب زادے مولانا ظفر الدین صاحب قاسمی ہیں جو فی الحال دوحہ قطر میں امام وخطیب ہیں اور آپ کے چھوٹے بھائی حافظ حسام الدین صاحب ہیں اور بھرا پورا کنبہ ہے۔

برسات ہو رحمت کی اس پورے گھرانے پر
ہر شخص کا اے اللہ بس ایک ہی ارماں ہے

چار بجے شام کو جنازہ اور تدفین کا اعلان کیا گیا تھا ۔ قلب رنجور لیکر میں بھی وقت پر پہنچ گیا، چار بجنے سے چند منٹ قبل جنازہ گھر سے نکالا گیا لوگوں نے آخری دیدار کیا پھر جنازہ آخری آرام گاہ کی طرف روانہ ہوا پیچے پیچھے ان کے عقیدت مند علماء صلحاء حفاظ طلبہ اور عوام الناس کا ایک سیل رواں چشم نم لیے ہوئے چل رہا تھا تاحد نگاہ ٹوپی ہی ٹوپی نظر آتی تھی ہر طرف انسانوں کا سمندر موجزن تھا۔

انبوہ مردماں پس تابوت تو رواں
اک شہر را بشہر خموشاں کشیدئی

ترجمہ! جوق در جوق لوگ تابوت کے پیچھے رواں دواں تھے ۔ پورا شہر شہر خموشاں کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا، ٹھیک چار بجے حضرت کے بھانجے مولانا شاہد صاحب قاسمی موضع پوٹریا امام خطیب دوحہ قطر نے نماز جنازہ پڑھائی گاؤں کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور ہو یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

متعلقہ خبریں

Back to top button