سیاسی و مذہبی مضامین

یہ کیسا "ایک قدم स्वच्छता کی اور

" ایک قدم स्वच्छता کی اور " یہ مفروضہ بھارت کی ہر کرنسی نوٹ پر چھاپا گیا

یہ کیسا "ایک قدم स्वच्छता کی اور”۲۰۱۴ میں بی جے پی بھارت میں واضح اکثریت کے ساتھ انتخابات جیت کر حکومت میں آئی، تقریباً گزشتہ آٹھ سالوں سے بی جے پی حکمرانی کے فرائض بھارت میں جمہوریت کے تحت جھوٹے وعدے ، مذہب کی بنیاد پر معاشرے میں نفرت وتقسیم ، پانچ سو کھرب ڈالر کی معیشت کا خواب ، ہر بھارتی شہری کو خود کا اپنا ذاتی مکان ، وغیرہ وغیرہ کے ساتھ معصوم عوام کے جذبات و دلوں کو مجروح کرتے ہوئے کرتی چلی گئی ، ریاست گجرات کے فسادات ۲٠٠۲ نے تمام دنیا کے ممالک کی توجہ بھارت کی جانب مرکوز کر دی تھی۔

آج کے موجودہ وزیر اعظم ۲٠٠۲ میں ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے ، انہیں کے دور میں گجرات ہولناک فسادات کی ذد میں تھا اس وقت مرحوم اٹل بہاری واجپائی جی نے مداخلت کرتے ہوئے ایک ہدایت نامہ موصوف کے لئے جاری کیا تھا "راج دھرم نبھاؤ” یہ ہدایت نامہ اس شخص کے لئے تھا جس نے اپنے ذاتی مفادات کو ہمیشہ ترجیح اول بنا رکھا ہے ، ۲٠٠۲ کے گجرات فسادات میں پولس نے بہت سارے گناہ مجرموں کے خلاف درج کیے نیز ان مجرموں کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیا ،

احسان جعفری مقدمہ، بلقیس بانو مقدمہ، بیسٹ بیکری مقدمہ یہ وہ مقدمات ہیں جن میں سنگین الزامات مجرموں پر عائد تھے، گجرات میں نوبت یہاں تک رسائی کر گئی تھی کہ عدل و انصاف سے عدالت مبرہ ہو چکی تھی، اسی اثناء عدالت اعظمٰی نے چند مقدمات کو گجرات سے مہاراشٹر منتقل کر دیاتھا، یہ موصوف کا گجرات تھا جہاں پر عدالت اعظمی نے عدل و انصاف کو بحال رکھنے کے لئے مقدمات ہی کو گجرات میں نہ چلاتے ہوئے مہاراشٹر میں ممبئی کی عدالت میں منتقل کیا تھا، ممبئی کے عدالتوں میں گجرات کے مقدمات کو منتقل کرنے کا فیصلہ خود موصوف کی نااہلی کو ثابت کرتاہے۔

آج بھارت کی مجموعی سیاسی قوت نااہلوں کے ہاتھوں میں ہے لہذٰا خیر کے انجام کی توقع کوئی باشعور کیسے کریں۔ بلقیس بانو ایک فساد ذدہ خاتون جس کے اہل خانہ کے افراد کو فسادیوں نے قتل کر دیا حاملہ خاتون کی اجتماعی عصمت دری کی بے حرمتی کی ، مقامی پولس نے گناہ درج کرکے مجرموں کو حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا، عدالت میں پیش مقدمہ کی سماعت ہوئی ثبوتوں و گواہان کی تصدیق کے بنیاد پر ملزموں کو سزائے عمر قید دی گئی۔ معاشرے کے گند آلودہ عناصر اپنے کیفر کردار کو عدالت کے ذریعے پہنچ چکے تھے ، جیل میں قید اپنے بے شرم کردار پر آنسو بہا رہے تھے۔

۲۰۱۴ کے بعد حکومت نے الاعلان بہت سے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے جو تاریخ میں رقم ہوچکے، موصوف نے اپنے ابتدائی دور میں ہی نوٹ بندی کا اعلان کردیا، قوم کو جواز پیش کیا کہ بھارت میں چھپا کالا دھن باہر نکل آئے گا، جس سے بھارت کے ہر شہری کو اس کے بینک کھاتہ میں پندرہ لاکھ ایسے ہی جمع ہو جاینگے۔ معصوم عوام آج بھی اپنے‌ بینک کھاتوں میں پندرہ لاکھ آنے کے منتظر ہیں ، حضرت کے اس دلیرانہ فیصلے نے بھارت کی معیشت کو کاری ضرب لگائی ۔

ملک کی معیشت اپاہج و لاغر ہو کر رہ گئی، کروڑوں افراد اپنی ملازمت گنوا چکے اس ایک احمق فیصلے نے متعدد معاشی پیچیدگیاں برپا کردی، چھوٹے تاجر پر اسکا کا اثر بے انتہا پڑا تجارت پیشہ افراد بے یارومددگار زندگی گذارنے پر مجبور ہو گئے ، اسی اثناء ایک اور ضرب حکومت نے لگائی، جی ایس ٹی کا انعقاد قانونی شکل اختیار کر گیا، جو آج تک عوام کا خون چوس رہا ہے ، اب ریستوران میں شکم سیری پر بھی حکومت لگان وصول کررہی ہے ، اقلیت مخالف قوانین سازی کا سلسلہ زور وشور سے جاری رہا، گوو ہتھیا، طلاق ثلاثہ ، این آر سی اور سی اے اے کے قوانین اقلیتوں کو حاشیہ پر رکھ کر بنائے گئے،

اس کالے قانون کی مخالفت میں احتجاج نے زور پکڑا دہلی میں شاہین باغ میں خالصتاً خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے دنیا پوری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، ایک طویل عرصے تک یہ احتجاج جاری رہا بلاآخر کویڈ ١٩ نے اس پر امن احتجاج کو رخصت کردیا، کویڈ ١٩ کی زد میں ملک تھا مرکزی حکومت نے انتہائی ناقص حکمت عملی کے تحت حالات کو غیر فعال کردیا آمدورفت کے تمام ذرائع موقوف کردے، لاکھوں مزدور اپنے گھروں کی طرف ہجرت پیدل سفر پر روانہ ہوئے، ہزاروں میل کا سفر طے کرتے یہ مزدور سیکڑوں کی تعداد میں جابحق ہوئے، یہی وجہ ہے بھارت میں کویڈ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دوسرے ممالک سے زیادہ ہے۔ دہلی فساد نے پھر ایک بار گجرات فساد کی بھیانک داستان کو دوہرایا، مستقبل قریب میں ان فسادیوں کو بھی حکومت راحت فراہم کردے گی۔

اپنے ابتدائی دور میں موجود حکومت نے ملک گیر سطح پر صفائی کے تعلق سے منصوبہ بندی کی، ایک خوبصورت مفروضہ عوام کو دیا گیا ” ایک قدم स्वच्छता کی اور ” یہ مفروضہ بھارت کی ہر کرنسی نوٹ پر چھاپا گیا، یہ کیسا پیغام ہے کوڑے کرکٹ کے انبار سے آج بھی ملک کے شہریوں کو اذیت پہنچ رہی ہے ، ملک میں صفائی کے تعلق سے جو معاملہ غیر بی جے پی حکومت میں تھا وہی اب بھی برقرار ہے، اسکے برخلاف اخلاقی سطح پر ملک میں منافرت کا دور دورہ ہے ، ۱۵؍ اگست ۲٠۲۲ کو لال قلعہ کی فصیل سے موصوف نے آٹھویں بار عوام کو سبز باغ دکھائے ، اپنی ٨٠ منٹ کی تقریر میں حضرت نے خواتین کے حوالے سے دل کو کافی سکون مہیا کرنے والی مثبت باتیں کی ابھی تقریر کا اختتام بھی نہ ہونے پایا تھا اور خبر ارسال ہوئی، گجرات کی حکومت نے بلقیس بانو کیس میں سزا یافتہ تمام ملزمان کو ریاستی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے رہا کردیا، عصمت دری وقتل کے ملزمان کو معافی دے دی گئی،

سیاست کا تخریبی کھیل ہر سطح پر ملک کو رسوائی کی طرف لے جارہاہے، تخریب کار عناصر جس سے معاشرے میں غلاظت کو فروغ پہنچتا ہے وہ سب انتظامی ہو حکومت کے ذریعے کیا جانے لگا، "ایک قدم स्वच्छता کی اور ” محض کاغذی سطح پر خوبصورت علامتی شکل میں تحریر نظر آتا ہے پس پردہ حکمران ملک کو سماجی، معاشی، اقتصادی، معاشرتی ہر سطح پر کوڑا دان بنا چکے، ہر قانون نافذ کرنیوالے ادارے تخریبی سیاست کے ذد میں ہیں، اس کوڑے کرکٹ کی صفائی کرنا اب ممکن نہیں۔
وماعالینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button