سیاسی و مذہبی مضامین

نعت گوئی میں غیرمسلم شعرا کا اہم کردار

یہ امر خوش گوار حیرت سے کم نہیں ہوگا کہ نعت گو شعرا کا دائرہ اثر صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، ایسے غیر مسلم شعرا سیکڑوں کی تعداد میں ہیں جنہوں نے آقائے دوجہاں ؐ کی بارگاہ میں نعت کی صورت گل ہائے عقیدت پیش کیے اور اُن کا کلام قبول عام قرار پایا۔

غیر مسلم شعرا کی نعتیہ شاعری ہمہ وقت چشم کشا بھی ہے اور رسول اللہؐ کے رحمت اللعالمین ہونے کی ایک کڑی بھی ۔ چشم کشا ان کیلۓ جو اپنے تعصب اور اپنی جھوٹی و چھوٹی انا میں قید رہ کر حضور اقدسؐ کی اصلیت اکملیت اور افضلیت سے کور چشم ہی رہے اور اپنی کج فہمی کی آڑ میں انہوں نے ایسے فطور کے انبار لگا دیے کہ اہل عقل ان کی حماقت کا رونا روتے رہے ۔

غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی کا دوسرا تابناک پہلوں یہ ہے کہ اس سے یہ بات سند پاتی ہے کہ آپؐ خالص رحمت اللمسلمین بلکہ رحمت اللعالمین ہیں ورنہ کیوں کوئی شخص ﷺجو آپؐ کا امتی بھی نہی آپؐ کی مدحت کرتا ۔ حضورؐ کی نعت و ثنا کا زمان مکان اخوان اور لسانی بندشوں کو توڑنا آپؐ کی ذات والا صفات کی آفاقیت کا ایک بین ثبوت ہے ۔

یوں تو اردو میں غیر مسلم نعت گو شعرا کی تعداد کئی سو تک پہنچتی ہے، لیکن نور میرٹھی نے جو کتاب ”بہ ہر زماں بہ ہر زباں“ مرتب کی، وہ بہت اہمیت کی حامل ہے، اس میں انہوں نے 336 ہندو شعرا کی نعتوں کو یک جا کیا ہے۔

قابل ذکر نعت گو اردو شعرا میں جگن ناتھ آزاد، جگن ناتھ کمال کرتار پوری، فراق گورکھپوری، دلو رام کوثری، آنند موہن زتشی، ستیا پال آنند، عرش ملسیانی، شنکر لال ساقی، ہری چند اختر، اشونی کمار اشرف، اوما شنکر شاداں، امر ناتھ آشفتہ دہلوی، برج نارائن کیفی، بالا سہائے متصدی، بھگوت رائے راحت کاکوروی، بہادر برق، تربھون شنکر عارف، پربھو دیال رقم، تلوک چندر محروم، رویندر جین چاند بہاری لال ماتھر صبا، پیارے لال رونق، تربھون ناتھ دہلوی، چندر بھان خیال، چندی پرشاد شیدا،چندر پرکاش جوہر بجنوری، درگا سہائے سرور، دیا پرساد غوری، دیا شنکر نسیم لکھنوی، روپ چند، شگن چند جین روشن، شیو پرشاد وہبی لکھنوی، کرشن موہن، کشن پرشاد، گلزار دہلوی، گوہر دہلوی، لبھو رام جوش ملسیانی، لچھمی نرائن سخا، مکھن لال مکھن، مہر لال سونی ضیا، ہری مہتا ہری، مہندر سنگھ بیدی، نوبت رائے نظر شامل ہیں

٭مہاراجہ سرکشن پرشاد(م 1359ھ) پہلے معروف ہندو نعت نگار تھے جنہوں نے کثیر تعداد میں سے نعتِ رسول کہی۔آپ کے اشعار جذب و شوق اور حب رسول سے بھرے ہوئے ہیں ۔ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کسی غیر مسلم کا کلام ہے۔آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری جمال کے بارے میں متعدد اشعار لکھے ہیں جن میں آپ کے زلف و عارض، خدوخال اور ابرو اقامت کے حسن کو تشبیہ اور استعارہ کی شکل میں پیش کیا ہے اور ان میں عربی الفاظ و تراکیب بھی ملتی ہیں۔آپ کا مجموعہ 200 صفحات پر مشتمل ہے۔

 (کشن پرشاد شاد،ہدیہ شادص92) ٭ دلو رام کوثری (1365ھ) بھی نعت گوئی میں بہت مشہور ہوئے۔برصغیر کے مشہور صوفی پیر جماعت علی شاہ نے آپ کی شاعری سے متاثر ہوکر آپ کو ’حسان الہند‘ کا لقب دیا تھا۔آپ نبی کریم کی محبت وشفقت اور حلم و درگزر سے بہت متاثر تھے اس لیے آپ نے انہیں ہی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔

عرش ملیسانی بھی صاحب دیوان نعت گو شعرا میں سے ہیں۔آپ کے مجموعہ کا نام’ آہنگ حجاز‘ ہے۔آپ کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعہ مسلم ہندو کے مخلوط معاشرے میں مذہبی تعصب سے اوپر اٹھ کر باہمی محبت و یگانگت کو فروغ دیا۔آپ کی شاعری میں نبی کی ذات سے عقیدت و محبت دلی تڑپ اور خلوص کی چاہت پائی جاتی ہے۔

ان میں سے ایک فراق گورکھپوری اردو کے بڑے شاعر اور نقاد گزرے ہیں، جن کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا۔ آپ کے والد منشی گورکھ پرشاد بھی شاعر تھے، اُن کا تخلص عبرت تھا۔ اُنہیں اردو شاعری کا بڑا نقاد بھی تصور کیا جاتا تھا۔ اس ضمن میں اُنہوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ فراق نے بھی نبی محترم کی شان میں کلام پیش کیا، اشعار ملاحظہ فرمائیے:

منشی شنکر لال ساقی 1820 میں سکندر آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ غالبؔ اور مومنؔ کے ہم عصر تھے۔ بہادر شاہ ظفر کے مشاعروں میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں آپ نے طبع آزمائی کی۔ آپ کے دل میں نبی محترم ﷺ کے لیے خاص عقیدت تھی، اس لیے آپ کی شان اقدس میں نعتیں لکھیں۔ آپ کے چند نعتیہ اشعار پیش کیے جارہے ہیں۔

کنور مہندر سنگھ بیدی، تخلص سحر تھا، 9 مارچ 1909 کو منٹگمری (ساہیوال) میں پیدا ہوئے۔ آپ کثیر الجہات شخصیت کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ 60 برس تک شاعری کی۔ ان تمام مشغلوں میں شاعری میں وہ کسی کے شاگرد نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں حضرت محمد ﷺ اور اہل بیت کی شان میں بھی بہت عمدہ خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button