سیاسی و مذہبی مضامین

مسلمان مصنفین کے عظیم تصنیفی کارناموں کا راز ✍️ابن الحسن عباسی

آپ نے پڑھا ہوگا ورنہ سنا تو ہوگا کہ مشہور محدث ابن شاہین نے صرف روشنائی اتنی استعمال کی کہ اس کی قیمت سات سو درہم بنتی تھی،امام محمد کی تالیفات ایک ہزار کے قریب ہیں،ابن جریر نے زندگی میں 358 ہزار اوراق لکھے،علامہ باقلانی نے صرف معتزلہ کے رد میں 70 ہزار اوراق لکھے،امام غزالی نے 78 کتابیں لکھیں جن میں صرف ’’ یاقوت التاویل ‘‘40 جلدوں میں ہے۔

ابن جوزی کے آخری غسل کے واسطے وہ برادہ کافی ہو گیا تھا جو صرف حدیث لکھتے ہوئے ان کے قلم بنانے میں جمع ہو گیا تھا مشہور مسلمان فلسفی اور طبیب ابن سینا کی تصانیف میں سے ’’الحاصل والمحصول‘‘ 20 جلدوں میں، ’’ الشفاء‘‘ 18 جلدوں میں، ’’لسان العرب‘‘ 10 جلدوں میں، ’’تہذیب التہذیب ‘‘ 12 جلدوں میں، اور اس طرح کئی دیگر تصانیف کئی کئی جلدوں میں ہیں، نویں صدی ہجری کے مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی کی ’’فتح الباری شرح بخاری ‘‘14 جلدوں میں، ’’الاصابہ ‘‘9 جلدوں میں ’’لسان المیزان‘‘ 4 جلدوں میں اور ’’ تغلیق التعلیق‘‘ 5 جلدوں میں ہے۔

تصنیفی میدان میں مسلمان مصنفین کی ان عظیم تصنیفات کا کچھ حصہ تو بچ گیا اور ایک حصہ وہ ہے جو حوادث کی نظر ہوگیا، وہ جو تاریخ میں ہے کہ تاتاریوں کی بربریت نے جب بغداد کا رخ کیا تو انسانوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ عظیم اسلامی کتب خانوں کو بھی دجلہ کے حوالے کیا، کہا جاتا ہے کہ ایک عرصہ تک اس کا پانی سیاہ بہہ رہا تھا۔ تاہم زمانے کی اس خوردبرد سے بچے ہوئے ذخیروں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں، جن کا ایک بڑا حصہ یورپ کے کتب خانوں کی زینت ہے اور جس کو دیکھ کر اقبال نے بڑے درد سے کہا تھا:

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تصنیف کے اس مشغلہ کے ساتھ ان کی زندگی دیگر ضروریات سے فارغ تھی۔ جہاں لکھنے والوں نے ان کے عظیم تصنیفی کارناموں کا ذکر کیا، وہیں سوانح نگار مورخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ شب و روز سینکڑوں نوافل ان کا معمول تھے، آخری شب بیداری آہ وسحرگاہی کی پابند تھی، مختصر مدت میں قرآن شریف کا ختم معمولات زندگی کا حصہ تھا، اقرباء کے ادائیگی حقوق کا اہتمام تھا، طلبہ و عوام کیلئے علمی مشغلہ کا مستقل انتظام تھا۔

آج کے دور کی سہولتیں اس زمانے میں ناپید تھیں، وہ زندگی اگرچہ قوت و صلاحیت کی زندگی تھی تاہم مشکلات و مشقت سے خالی نہ تھی، زندگی کی ہر قوت کو ایک مشقت کا سامنا تھا اور ہر صلاحیت ایک صعوبت کے مقابل تھی۔ سفر کے لئے زمین پر دوڑنے اور ہوا میں اڑنے والے دور جدید کے ذرائع کا وجود کیا معنی، تصور تک نہ تھا۔ لکھنے کے لئے آج کا رواں دواں قلم ایجاد نہ ہوا تھا، وہ نرکل کی لکڑی اور دوات، جہاں سطر در سطر قلم روشنائی میں ڈبونے کا محتاج تھا۔

پھر کاغذ کی یہ فراوانی کہاں! یہ نرکل کے اس قلم کی کرامت تھی یا اہل قلم کے کمال و محنت کا نتیجہ کہ چمڑوں اور ہڈیوں کی ناہموار سطح پر اس کا تیز سفر جاری رہتا۔اس زندگی کی راتیں روشنی کی زبوں حالی کا شکار تھیں، کہاں آج یہ بجلی کا جھلمل کرتا ہوا عالم اور کہاں وہ ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی اداس روشنی! لیکن آہ! اس چراغ کا انتظام بھی ہر ایک کے بس کی بات کہاں تھی، پاسبانوں کی قندیلوں کی روشنی میں رات رات بھر مطالعہ کرتے، پڑھتے اور لکھتے رہتے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button