قومی خبریں

اسکولوں میں مسلم بچوں سے بھجن پڑھوانے پر محبوبہ مفتی سخت برہم

جموں ، 19ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جموں کے دورے پر آئی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کو بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسکولوں میں بچوں کے بھجن گانے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ رگھوپتی راگھو راجہ رام کو بچوں سے کہلوانا زیادتی ہے ۔ اس سے پہلے یہاں کے اسکولوں میں ’لب پر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ دعائیہ نظم پڑھی جاتی تھی۔اس نظم کو کیوں بند کیا گیا؟ اس میں غلط کیا تھا؟ اس کا تعلق کسی مذہب سے نہیں تھا۔انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ہم گاندھی کی عزت کرتے ہیں، لیکن مسلم بچوں کو بھجن گانا غلط ہے۔ آپ کب سے گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرنے والے بن گئے؟ آپ تو گوڈسے کی پوجا کرتے ہیں، جو سب سے بڑا دہشت گرد تھا اور جس نے بابائے قوم کا قتل کیا تھا۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہاں ہر برادری کے لوگ رہتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنے طریقے سے جینے کا حق ہے۔ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود جموں و کشمیر نے پاکستان کو پس پشت ڈال کر سیکولر بھارت سے ہاتھ ملا یا۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری شناخت چھین لی گئی ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوںلیتے ہوئے پوچھا کہ ہماری نوکریوں کا کیا ہوا،ہماری زمینات کا کیا ہوا، جامع مسجد کیوں بند کر دی گئی ہے۔ لوگ نماز نہیں پڑھ سکتے،ہمارے علما کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ،اب ہمارے مذہب پر حملہ کیا جار ہا ہے ،مسلم بچوں سے بھجن پڑھوایا جا رہا ہے ، یہ سراسر زیادتی ہے ،ہم اسے ہرگز قبول نہیں کرسکتے۔ بی جے پی یہاں لیبارٹری بنا کر ہندوتوا کا ایجنڈا لانا چاہتی ہے۔ کشمیریوں نے ریاستی تعصب اور ظلم پربہت صبر کیا ہے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button