مظفر نگر، 14اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بھاجپا رکن اسمبلی پر 2013 کے مظفر نگر فسادات میں ایک طبقہ کو بھڑکانے اور فساد کرنے کے الزام میں عدالت نے 2 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا سیاسی روٹیاں سینکنے کی خاطر عوام کو فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جھونک دیاگیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ 2013 کے مظفر نگر فسادات میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ایک درجن لیڈروں کو نامزد کیا گیا تھا۔ ان رہنماؤں کیخلاف اشتعال انگیز تقریرکرنے، جھوٹے ویڈیو وائرل کرنے، قتل، اقدام قتل جیسے سنگین مقدمات درج کیے گئے تھے۔ سب سے زیادہ کیس بی جے پی رہنماؤں کے خلاف درج کئے گئے تھے۔ اس میں بی جے پی کے ان نصف درجن بڑے رہنماؤں کے خلاف کیس درج کئے گئے، جنہوں نے کوال گاؤں کے نزدیک نگلا مندوڑ اسکول گراؤنڈ میں منعقدہ پنچایتوں میں اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں۔
اب ایم ایل اے وکرم سینی کو سزا کے اعلان کے بعد بی جے پی رہنماؤں کے خلاف عدالتی کارروائی کی امید ہے۔سابق وزیر مملکت برائے داخلہ سے سعید الزماں کے صاحبزادے ایڈووکیٹ سلمان سعید کا کہنا ہے کہ دنیا امید پر قائم ہے اور عدالتوں پر پورا بھروسہ ہے، لیکن کئی پہلو ایسے ہیں جس کی وجہ سے امکان کم نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے باہر بہت کچھ ایسا ہوا ہے جس کی وجہ سے فساد متاثرین کو انصاف ملنا شاید دور کی کوڑی ہے۔
سیاست دانوں پر اشتعال انگیز تقریر کا الزام لگایا جا سکتا ہے، لیکن جنہوں نے بستیاں جلائیں اور قتل کیے وہ سزا سے دُور نظر آتے ہیں۔ سلمان سعید کا کہنا ہے کہ 90 فیصد معاملات میں تصفیہ ہو چکا ہے۔ متاثرین بہت کمزور اور غریب لوگ تھے۔سلمان سعید اس پر بات نہیں کرنا چاہتے کہ انہیں کس طرح سمجھوتہ پر آمادہ کیا گیا۔ حکومت پر الزام ہے کہ اس نے خود بی جے پی رہنماؤں کو بچانے کی کوشش کی، کئی مقدمات بھی واپس لے لیے اورجو مقدمات پولیس نے ان کی طرف سے درج کیے ان پر ٹرائل چل رہا ہے۔
خیال رہے کہ مظفر نگر فسادات کے دوران بی جے پی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی سمیت ایک درجن رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جو فسادات کے بعد عزت دار بن گئے۔خاص طور پر وہ لوگ جو اس کیس میں نامزد ہوئے اور جیل گئے، ان میں سے کئی کو بی جے پی نے امیدوار بنایا اور وہ الیکشن جیت گئے۔یاد رہے کہ27 اگست کو کوال میں ہونے والے قتل کے بعد 31 اگست اور 7 ستمبر کو ہونے والی دونوں پنچایتوں میں اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں۔
ان میں سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنور بھارتندو، سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم، سابق رکن اسمبلی امیش ملک، سابق وزیر سریش رانا، سابق وزیر حکم سنگھ، سادھوی پراچی وغیرہ نے اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ سردھنا کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم کیخلاف بھی پاکستان کی ویڈیو کو کوال کی ویڈیو وائرل کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ پنچایت مظفر نگر فسادات کی اصل جڑ ثابت ہوئی تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئے نئے آئے واٹس ایپ کے ذریعہ پاکستان کی ویڈیو وائرل کرواکر فرقہ وارانہ فسادات کی آگ لگائی گئی تھی، 7 ستمبر کو پنچایت میں ہی تشدد شروع ہو گیا تھا۔



