سیاسی و مذہبی مضامین

محسنِ کائناتﷺ کے اخلاقِ حسنہ

حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی

’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں بہتر نمونہ ہے۔

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

 یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح وقلم تیرے ہیں

رحمۃ للعالمین کا یوں نہ مل جاتا لقب سروری کا حق کیا کس نے ادا تیری طرح

آپﷺ بڑے شفیق اور مہربان تھے

فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ اے لوگو! تمہارے پاس ایک ایسے شخص تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس (بشر) سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گذرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں بالخصوص ایمانداروں کے ساتھ تو بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ (سورہ توبہ)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات سے نبی ﷺ کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جائو اور اللہ تعالیٰ صاف بات کہنے سے کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔ (احزاب)آپ کی مروت کا کیا ٹھکانا ہے کہ اپنے غلاموں کو بھی یہ فرماتے ہوئے شرماتے تھے کہ اب اپنے کاموں میں لگو اور یہ لحاظ اپنے ذاتی معاملات میں تھا اور احکام کی تبلیغ میں نہ تھا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہe کی دس برس خدمت کی، آپe نے کبھی مجھ کو اف بھی نہ کیا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا ۔ (بخاری ومسلم)

حضورﷺ کی سخاوت اور عفو ودرگذر کی انتہا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضورﷺ کے ساتھ جارہا تھا اور آپ ﷺ کے بدن مبارک پر ایک نجران کا بنا ہوا موٹی کنی کا چادرہ تھا، ایک بدونے آپ ﷺ کی چادر کو پکڑ کر بڑے زور سے کھینچا اور آپ ﷺ اس کے سینہ کے قریب جا پہنچے پھر کہا اے محمد ﷺ ! میرے لئے بھی اللہ کے اس مال میں سے دینے کا حکم دو جو آپ کے پاس ہے، آپ e نے اس کی طرف التفات فرمایا پھر ہنسے پھر اس کے لئے عطا فرمانے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم)

آپ ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ سے کبھی کوئی چیز نہیں مانگی گئی جس پر آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہو کہ نہیں دیتا، اگر ہوا دے دیا ورنہ اس وقت معذرت اور دوسرے وقت کے لئے وعدہ فرمایا۔ (بخاری ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے بکریاں مانگیں جو آپ ﷺ ہی کی تھیں اور دوپہاڑوں کے درمیان پھر رہی تھیں، آپ ﷺ نے اس کو سب دے دیں، وہ اپنی قوم میں گیا اور کہنے لگا: اے قوم کے لوگو! مسلمان ہوجائو ،واللہ محمدﷺخوب دیتے ہیں کہ خالی ہاتھ رہ جانے کا بھی اندیشہ نہیں کرتے۔ (مسلم)

جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ چل رہے تھے جب کہ آپ مقام حنین سے واپس ہورہے تھے ،آپ ﷺ کو بدو لوگ لپٹ گئے وہ آپe سے مانگ رہے تھے، یہاں تک کہ آپe کو ببول کے ایک درخت سے لگا دیا اور آپﷺ کا چادرہ چھین لیا، آپﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میرا چادرہ تو دے دو، اگر میرے پاس ان درختوں کی گنتی کے برابر اونٹ ہوتے تو میں تم سب میں تقسیم کردیتا پھر تم مجھ کو نہ بخیل پائو گے نہ چھوٹا نہ تھوڑے دل کا۔ (بخاری شریف)

آپﷺ گھر میں ایک عام آدمی کی طرح رہتے

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺجب صبح کی نماز پڑھ چکتے تو مدینہ والوں کے غلام اپنے برتن لاتے جن میں پانی ہوتا تھا ،جو برتن بھی آپ eکے ساتھ پیش کرتے، آپ ﷺ برکت کے لئے اس میں اپنا دست مبارک ڈال دیتے، بعض اوقات سردی کی صبح ہوتی تب بھی اپنا دست مبارک اس میں ڈال دیتے۔ (مسلم)

ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سخت مزاج نہ تھے اور ہ کو سنا دینے والے تھے، کوئی بات عتاب کی ہوتی تو یوں فرماتے: فلاں شخص کیا ہوگیا اس کی پیشانی کو خاک لگ جائے، جس سے کوئی تکلیف ہی نہیں، خصوصاً اگر سجدہ میں لگ جائے تب تو یہ دعا ہے نمازی ہونے کی اور نماز میں خاصیت ہے بری باتوں سے روکنے کی تویہ اصلاح کی دعا ہوئی۔ (بخاری)

آپِﷺ سب سے زیادہ باحیاء تھے

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اس قدر شرمگیں تھے کہ کنواری لڑکی جیسے اپنے پردہ میں ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ ، جب کوئی بات ناگوار دیکھتے تو شرم کے سبب زبان سے نہ فرماتے تھے مگر ہم لوگ اس کا اثر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک میں دیکھتے تھے۔ (بخاری ومسلم)

حضرت اسودؓ سے روایت ے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہﷺ گھر کے اندر کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اپنے گھروالوں کے کام میں لگے رہتے تھے۔ (بخاری)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنا جوتا گانٹھ لیتے تھے اور اپنا کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں ایسے کام کرلیتے تھے جس طرح تم میں معمولی آدمی اپنے گھر میں کام کرلیتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ بھی فرماتی ہیں کہ آپﷺ منجملہ بشروں کے ایک بشر تھے، گھر کے اندر مخدوم اور ممتاز ہوکر نہ رہتے تھے، اپنے کپڑوں میں جوئیں دیکھ لیتے تھے کہ شاید کسی کی چڑھ گئی ہو کیوں کہ آپ ﷺ اس سے پاک تھے اور اپنی بکری کا دودھ نکال لیتے تھے، یہ مثالیں ہیں گھر کے کام کی، کیوں کہ رواج کے مطابق یہ کام گھر والوں کے کرنے کے ہوتے ہیں اور اپنا ذاتی کام بھی کرلیتے تھے۔ (ترمذی)

آپﷺ معاشرہ میں گھل مل کر وقت گذارتے

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کسی جاندار کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا اور نہ کسی عورت کو نہ کسی خادم کو ، راہِ خدا میں جہاد اس سے مستثنیٰ ہے، مراد وہ مارنا ہے جیسے غصہ کے جوش میں کسی کو مارے اور آپﷺ کو کبھی کوئی ایسی تکلیف نہیں پہنچائی گئی جس میں آپﷺ نے اس تکلیف پہنچانے والے سے انتقام لیا ہو البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے کسی چیز کا ارتکاب کرتا تو اس وقت آپ ﷺ اللہ کے لئے اس سے انتقال لیتے تھے۔ (مسلم)

ایک یہودی کا آپﷺ سے برتائو

اگر اس وقت ہاتھ سے بدلہ لینے کا موقع نہ تھا تو زبان سے کہنا تو آسان تھا، خصوصاً جب آپﷺ کو یہ یقین دلایا گیا کہ زبان ہلاتے ہی سب تہس نہس کردئے جائیں گے، مگر آپﷺ نے پھر بھی شفقت ہی سے کام لیا، یہ برتائو ان مخالفین سے تھا جو آپﷺ کے مد مقابل تھے، بعض مخالفین آپﷺ کی رعایا تھے جن پر باضابطہ قدرت بھی تھی، ان کے ساتھ برتائو کا حال بھی سنئے۔

حضرت علیؓ سے ایک لمبا قصہ منقول ہے جس میں کسی یہودی کا جو کہ مسلمان کی رعیت ہوکر مدینہ میں آباد تھا حضورﷺ کے ذمہ کچھ قرض تھا اور اس نے ایک بار آپ ﷺ کو اس قدر تنگ کیا کہ اگلے دن ظہر سے صبح تک آپ ﷺ کو مسجد سے گھر بھی نہیں جانے دیا، لوگوں کے دھمکانے پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو معاہدہ اور غیر معاہد پر ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے، اسی واقعہ میں ہے کہ جب دن چڑھا تو یہودی نے کہا ’’اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ اور یہ بھی کہا کہ میں نے تو یہ سب اس لئے کیا کہ آپﷺ کی صفت جو توریت میں ہے کہ محمدﷺعبد اللہ کے بیٹے ہیں، آپﷺ کی پیدائش مکہ میں ہے اور ہجرت کا مقام مدینہ ہے اور سلطنت شام میں ہوگی (چنانچہ بعد میں ہوئی) اور آپ ﷺ نہ سخت خوں نہ ترش مزاج ہیں نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والے ہیں اور نہ بے حیائی کا کام نہ بے حیائی کی بات آپ ﷺ کی وضع میں ہے، مجھ کو یہ دیکھنا تھا کہ دیکھوں آپ e وہی ہیں یا نہیں؟ چنانچہ میں نے آپe کو دیکھ لیا، آپﷺ وہی ہیں، ’’اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ (بیہقی)٭

متعلقہ خبریں

Back to top button